ہم چین کیوں جاتے ہیں
ہم نے ایک بار پھر چین کا دورہ کیا ہے اور کئی لمبے چوڑے سمجھوتےکرکے لوٹے ہیں۔یوں لگتا ہےکہ ہم نے جوکچھ کہاچین مانتاگیا.
ہم نے ایک بار پھر چین کا دورہ کیا ہے اور کئی لمبے چوڑے سمجھوتے کر کے لوٹے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہم نے جو کچھ کہا چین مانتا گیا، وہ اس سے پہلے بھی ہزار بار ہماری بات مان چکا ہے مگر ہم اس کی سرحدوں سے باہر آتے ہی ہر بات بھول جاتے ہیں۔ ہم معاہدے یا سمجھوتے تو چین سے کرتے ہیں لیکن بات امریکا کی مانتے ہیں یعنی چین کے دشمن نمبر ایک کی، اب ہم چین کے ایک اور دشمن بھارت کی طرف بھی بے تابی کے ساتھ دو نہیں پانچ دس باہیں پھیلا کر لپک رہے ہیں اور یہ سب کچھ چینی ہم سے کہیں زیادہ غور اور باریکی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں لیکن کسی کی دو چار دن کی مہمان نوازی پر کتنا خرچ آتا ہے بقول مہاتیر محمد چینیوں سے بڑی ماہر کاروباری اور کوئی قوم نہیں ہے۔
انھیں اس کا اپنے ملک ملائیشیا کا تجربہ ہے جہاں چینی یہودی وغیرہ کئی قومیں اس آزاد کاروباری فضا میں کاروبار کر رہی تھیں اور ہم پاکستانی تو کاروباری وغیرہ کچھ نہیں صرف رشوت خور ہیں اور موقع پرست لیکن وہ بھی گھٹیا درجے کے بہر کیف ان پیش پا افتادہ باتوں کو چھوڑئیے بات ہمارے چین کے تازہ دورے کی ہے جس میں تربیت کے لیے ہم بہت سے خاص رشتوں کو بھی لے گئے، انھوں نے چین سے کیا سیکھا اس کا پتہ ہمیں پاکستان میں ان کی کارکردگی سے، اگر کوئی ہوئی تو، چلے گا۔ اسے اتفاقات زمانہ سمجھیں کہ ہم نے چینیوں پر بڑی مہربانیاں کی ہیں۔ وہ ہم ہی تھے جنہوں نے چین کو باہر کی دنیا دکھائی اور پی آئی اے کے جہاز ان کے ہاں اترے۔
ایک چینی کہاوت ہے کہ اس کنوئیں کو بھی یاد رکھو جس سے کبھی پانی کا ایک گھونٹ بھی پیا ہے، اس کا حوالہ دے کر چینی کہتے ہیں کہ ہم نے تو پاکستان سے بہت کچھ لیا ہے غالباً وہ یہ سب تکلفاً اور دلجوئی کے لیے کہتے ہیں لیکن اس پر، وقت پڑے تو، عمل بھی کرتے ہیں۔ بھارت کے خلاف 1965 کی جنگ میں چین نے ہمارا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ ایئر مارشل اصغر خان مدد کے لیے چینیوں کے پاس پہنچے، انھوں نے وعدہ تو کر لیا لیکن یہ دلچسپ بات کہی کہ ہم ایک بار ایوب خان کو اپنے روبرو دیکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ایوب خان راتوں رات گھر والوں سے بھی چوری چھپے چین پہنچے وہاں کافی کی پیالی پی، چینیوں نے ان کا چہرہ اپنی چینی نظروں سے دیکھا جس کے لیے انھوں نے اس پاکستانی کو بلایا تھا اور پھر واپس بھجوا دیا لیکن ہم نے یہ جنگ امریکا کے حکم پر ختم کر دی اور تاشقند کر لیا۔
بہر حال اس کے باوجود اور ایسی کئی طفلانہ اور کمزور حرکتوں کو دیکھ کر بھی چینی بظاہر بدمزہ نہیں ہوئے اور پاکستانیوں کے ساتھ گرمجوشی سے ہاتھ ہی نہیں دل بھی ملاتے رہے اور اس کی ممکن حد تک مدد بھی کرتے رہے جو اب تک جاری ہے۔ ایئر مارشل اصغر خان بتاتے ہیں کہ وہ امداد کے لیے چین کے دورے میں صدر مائوزے تنگ سے بھی ملے۔ اس بزرگ انقلابی نے ایئر مارشل سے کہا کہ دھیان رکھیے گا چو این لائی بہت کنجوس ہے ،کہیں آپ کو پرانا اسلحہ نہ دے دے۔ یہ خوشگوار بات ان کی پاکستان کے تعلق اور پیار کی ایک خوبصورت علامت تھی۔ اب کی بار بھی انھوں نے کئی اہم منصوبوں پر ہمارے ساتھ دستخط کیے ہیں اگر ہم انھیں حسب سابق کہیں رکھ کر بھول نہ گئے تو چینی اپنے وعدے پورے کریں گے۔ وہ ہزاروں برس پرانی تہذیب کے وارث ہی نہیں ایک زبردست انقلاب کے بھی بانی ہیں جس نے آج کا چین بنایا ہے۔ ہم نے اب تک صرف چند ایک معاہدوں پر عمل کیا ہے جو ہمارے سامنے ہیں۔
یہ انقلابی چین ہم سے ایک برس بعد وجود میں آیا اور امریکا کے دیکھتے دیکھتے بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ قائد مائوزے تنگ اور چواین لائی نے دنیا کو قیادت کا ایک نیا نمونہ دکھا دیا، یہ سب ان کی بے حد بے لوثی اور زندگی کی قربانی تھی۔ مائوزے تنگ کی بہن فاقہ کشی سے تنگ آ کر پڑوسیوں کے کہنے پر اپنے بادشاہ بھائی کے پاس بیجنگ چلی آئی یہاں بھی فاقہ کشی تھی بلکہ کچھ زیادہ ہی چنانچہ اس کی بہن واپس چلی گئی کہ گھر میں وہ اس سے زیادہ خوشحال تھی۔ وزیراعظم چو این لائی ڈیڑھ دو کمرے کے مکان میں رہتے تھے، ان کی قوم اپنے لیڈروں کو اس حال میں دیکھ کر کسی بھی قربانی کے لیے تیار رہتی اور یوں چین ایک بڑی اور باعزت طاقت بن گیا۔ عوام بے وقوف نہیں ہوتے، وہ سب کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہیں اور ایسے بے لوث لیڈروں کی پیروی کرتے ہیں، ان کے حکم پر سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔ میں چین میں کوئی تین مرتبہ گیا ہوں جب بھی گئے وہاں ایک نیا چین دیکھا۔ نئی عمارتیں اور نئے لباس اب چینی زردی مائل رنگ سے سرخی کی طرف آ رہے ہیں۔ یہی حال اس خطے کی دوسری قوموں کا بھی ہے۔ ہم پاکستانی شاپنگ کے بڑے شوقین ہیں۔ میں نے ایک دکان سے چینی بوسکی طلب کی تو جواب میں میری فرمائش پوری نہ کی جا سکی کیونکہ معلوم ہوا کہ یہ بوسکی صرف برآمد ہوتی ہے ملک میں نہیں بکتی۔
ہمارے لیڈر جو بار بار چین جاتے ہیں، ا ے کاش کہ وہ چینیوں کی کوئی ایک خوبی بھی اپنا سکتے، وہ صرف سیر سپاٹا کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یہ قوم ہر صبح ایک نئی قوم بن کر کیسے باہر نکلتی ہے۔ دکانوں پر بہت رش دیکھا جس سے تاثر ملا کہ چینی بہت خوشحال ہو گئے ہیں مگر معلوم ہوا کہ گھر کی زندگی کی ہر سہولت تو حکومت مفت فراہم کرتی ہے، پانی بجلی گیس وغیرہ تو یہ نسل اپنی تنخواہ کہاں خرچ کرے، اس زمانے میں جائیداد بنانے کی اجازت بھی نہیں تھی، شاید اب بھی نہیں یا بہت محدود پیمانے پر اس لیے اسٹوروں پر بہت رش ہوتا ہے۔ میکڈانلڈ کُھل چکے تھے، ان پر طویل قطاریں تھیں سائیکلوں والے چینی رفتہ رفتہ گاڑیوں پر سوار ہو گئے غرض یہ ایک طویل داستان ہے اور ہمارے لیے انتہائی عبرت ناک اور شرمناک بھی۔ آخر میں ایک تاریخی واقعہ اور لطیفہ، چو این لائی ماسکو میں اپنے کامریڈ اسٹالن سے ملنے گئے، گپ شپ میں چو این لائی نے کہا کہ دوست ہم دونوں اپنے اپنے خاندان کے غدار ہیں۔ میں چین کے چند مالدار خاندانوں سے تعلق رکھتا ہوں لیکن بیجنگ میں ایک انتہائی غریبانہ زندگی بسر کرتا ہوں۔ تم ایک موچی کے بیٹے ہو مگر انتہائی امیرانہ اور شاہانہ زندگی بسر کرتے ہو۔ ہم دونوں اپنے اپنے غدار نہیں تو کیا ہیں۔