2018؛ قومی ہاکی کیلیے ایک اور مایوس کن سال

محمد یوسف انجم  اتوار 30 دسمبر 2018
گرین شرٹس نے 33 میچز کھیلے، 13جیتے،8 ڈرا کیے،12 میں ناکامی ملی
 فوٹوفائل

گرین شرٹس نے 33 میچز کھیلے، 13جیتے،8 ڈرا کیے،12 میں ناکامی ملی فوٹوفائل

 لاہور: ملکی ہاکی کیلیے 2018 بھی مایوس کن رہا اس برس بھی قومی کھیل کا حال نہیں بدل پایا۔

1995 سے قومی کھیل ہاکی کے شروع ہونے والے تنزلی کے سفر میں ایک اورسال کا اضافہ ہوگیا،سال 2018 بھی پاکستان ہاکی کو قدموں پر کھڑا کرنے میں ناکام رہا۔ پاکستان نے 6 ایونٹس میں شرکت کی، ٹیم نے 33 میچز کھیلے، 13 جیتے، 8 برابر رہے اور 12 میں ناکامی ہوئی۔پاکستان نے 101گول کیے،63 خلاف ہوئے۔سال کا آغاز عمان میں تین ملکی سیریز سے ہوا، 5 میچز کھیلے، 2 جیتے ، 2 ڈرا ہوئے اورایک ہارکر دوسری پوزیشن پائی۔اپریل میں آسٹریلیا میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں ٹیم کا نمبرساتواں رہا۔ پاکستان نے 5 میچز کھیلے،ایک ہارا اور 4 برابر رہے۔

ہالینڈ کے شہر بریڈا میں منعقدہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نے چھٹی پوزیشن پر اختتام کیا، گرین شرٹس نے وہاں 6 میچز کھیلے، ایک جیتا اور 5 میں ناکامی کا سامنا رہا، جکارتہ ایشین گیمزکے میڈل ٹیبل پر پاکستان کا نمبر چوتھا رہا۔7 میچز میں سے قومی ٹیم نے 5 میں فتح پائی، 2 میچز میں شکست کے بعد چوتھی پوزیشن ملی۔قومی ٹیم مسقط میں کھیلی گئی ایشین چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے ساتھ مشترکہ طورپر گولڈ میڈل کی حقدار قرار پائی۔ٹیم نے6 میں سے 4 میچ  جیتے، ایک ڈرا اور ایک میچ میں ناکامی مقدر رہی، سال کے آخری ایونٹ ورلڈکپ میں پاکستان کی شرمناک پرفارمنس نے رسوائیوں کی داستان کو مزید طویل کردیا۔

ٹیم 4 میچز میں صرف ایک میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوئی اور16 ٹیموں میں سے پاکستان کا نمبر 12واں رہا۔قومی ٹیم میدان میں دل جیتنے میں ناکام رہی، تو میدان سے باہرکھلاڑی سال بھر مالی مسائل اور ڈیلی الاونسز نہ ملنے کا رونا روتے اور صداے احتجاج بلند کرتے رہے۔ فیڈریشن کے عہدیدارسب اچھا ہونے کے دعوے کرتے رہے،دوسری جانب عہدوں سے فارغ اولمپئنز ہمیشہ کی طرح اپنے مفادات کے لیے تنقید کے تیر چلاکر کھیل اور ملک کو بدنام کرتے دکھائی دیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔