علاج نہ ہونے سے بچی کی ہلاکت ماں میت لے کر سپریم کورٹ آ گئی

بچی کے والد پولیس کی حراست میں تھے اورعلاج نہ کراسکے جس سے 4ماہ کی آمنہ انتقال کر گئی


Numainda Express December 30, 2018
بچی کے والد پولیس کی حراست میں تھے اورعلاج نہ کراسکے جس سے 4ماہ کی آمنہ انتقال کر گئی فوٹو: فائل

چیف جسٹس پاکستان نے بروقت علاج نہ ہونے کے باعث مرنے والی بچی کے ورثا کی درخواست پر سماعت کی۔

اس موقع پر خاتون اپنی بیٹی آمنہ کی میت لے کر سپریم کورٹ کے باہر پہنچی، ہیومن رائٹس سیل میں دی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ بچی کے والد پولیس کی حراست میں تھے اورعلاج نہ کراسکے جس سے 4ماہ کی آمنہ انتقال کر گئی، چیف جسٹس ذمہ داران کیخلاف کارروائی کا حکم دیں، چیف جسٹس نے سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بچی کا انتقال قدرتی عمل ہے۔

اس کی تدفین کی جائے، والد حراست میں ہے تو قانون کے مطابق مجسٹریٹ کو پیرول پر رہائی کی درخواست دیں، قصور میں بچی زینب کے قاتل عمران کے اہلخانہ بھی لاہور رجسٹری پہنچ گئے اور موقف اپنایا کہ ان کے گھر پر ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن قصور وحید عارف نے قبضہ کر لیا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ علاوہ ازیں ایک خاتون بھی بیٹی کی بازیابی کیلئے عدالت پہنچ گئی اور موقف اپنایا کہ اس کی بیٹی شیزا کو اس کی استانی صوبیہ نے ورغلایا اور شادی کرلی، مناواں پولیس کارروائی کرنے کے بجائے ہم جنس پرستوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

مقبول خبریں