پاک افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب کا پہلا مرحلہ مکمل

پاکستان کو اپنی مشرقی اور شمال مغربی سرحد پر سیکیورٹی کے شدید مسائل درپیش ہیں۔


Editorial January 01, 2019
پاکستان کو اپنی مشرقی اور شمال مغربی سرحد پر سیکیورٹی کے شدید مسائل درپیش ہیں۔فوٹو: فائل

اڑھائی ہزار کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد جس کا 1403 کلومیٹر کا علاقہ خیبرپختونخوا سے منسلک ہے یہاں سرحد پر تقریباً 500 کلومیٹر تک کے علاقے میں باڑ کی تنصیب کا پہلا دشوارگزار اور ترجیحی مرحلہ جب کہ 233 قلعوں یا سرحدی چوکیوں کی تعمیر کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے اور 144 مزید قلعوں کی تعمیر پر کام جاری ہے۔ عسکری حکام کے مطابق خیبرپختونخوا سے منسلک پاک افغان سرحد پر 2017ء میں منصوبے کے پہلے مرحلے میں 500 کلومیٹر کے ترجیحی حصے پر باڑ نصب کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جسے 2018ء کے اختتام پر حاصل کر لیا گیا۔

باڑ کے ساتھ ساتھ نگرانی کا نظام موثر اور جدید بنانے کے لیے الیکٹرانک نظام، کلوز سرکٹ کیمرے، ڈرونز کیمرے، سولر لائٹس اور کسی بھی حرکت کی نشاندہی کرنے والے جدید ترین آلات کی تنصیب کے علاوہ باڑ کے ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کے گشت کے لیے ٹریک بھی بنایا گیا ہے، سرحد پر قائم تمام قلعے اور پوسٹیں آپس میں لنک ہیں، یہاں سولر لائٹس اور واٹر سپلائی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔ خبروں کے مطابق اس منصوبے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اگلے دو برس میں بالترتیب 349 اور 459 کلومیٹر حصے پر باڑ لگائی جائے گی، خاردار تاروں سے بنائی گئی باڑ پاکستان کی جانب سے 11 فٹ جب کہ افغانستان کی جانب سے 13 فٹ بلند ہے، ان دونوں باڑوں کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ ہے جس میں خاردار تاروں کا جال ڈال دیا گیا ہے۔

پاک افغان سرحد پر سب سے مصروف طورخم ٹرمینل ہے، اس پوائنٹ پر روزانہ 10 سے 12 ہزار افراد اور 12 سو سے زائد پاک افغان ٹریڈ اور دیگر نوعیت کے ٹرکوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے، یہاں پر چیکنگ اور سیکیورٹی کے سخت اقدامات کی بدولت غیرسفری دستاویزات کے بغیر داخلہ ممکن نہیں اور اگر کوئی دستاویزات کے بغیر داخلے کی کوشش کرے تو اسے واپس بھیج دیا جاتا ہے، 2016ء سے 2018ء کے دوران طورخم داخلی پوسٹ پر اب تک جعلی دستاویزات کے حامل 1900 افغانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا جب کہ 600 پاکستانیوں کو بھی غیرقانونی طور پر افغانستان داخلے سے روکا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق افغان بارڈر پر حفاظتی اقدامات سے خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورت حال میں واضح بہتری آئی ہے۔

پاکستان کو اپنی مشرقی اور شمال مغربی سرحد پر سیکیورٹی کے شدید مسائل درپیش ہیں۔ ان مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مشرقی سرحد پر تو ایک عرصے سے پاک بھارت افواج نے سیکیورٹی کے زبردست انتظامات کر رکھے ہیں جس کے باعث کسی بھی شخص کا غیرقانونی طور پر سرحد پار جانا ممکن نہیں ہے۔ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کی کوئی ایسی صورت حال نہیں تھی اور یہ انتہائی نرم سرحد تھی بلکہ دونوں جانب آمد ورفت کے لیے کوئی روک ٹوک نہیں تھی لیکن کابل میں امریکی اور نیٹو فوج کے داخلے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں پیدا ہونے والی خانہ جنگی اور سیکیورٹی کے معاملات نے پاکستان کے لیے بھی مسائل پیدا کر دیے ہیں اور یہاں دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطرخوا اضافہ ہونے لگا۔

اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد سرحد پر سیکیورٹی اداروں کی چوکیوں کو نشانہ بنانے لگی۔ جب پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے مسلسل ڈانڈے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے بیس کیمپوں سے ملنے لگے تو پاکستان کے لیے بھی یہ ناگزیر ہو گیا کہ وہ سیکیورٹی کے بھرپور انتظامات کرے۔ افغان سرحد کے ساتھ ساتھ باڑ کی تنصیب اور قلعوں کی تعمیر اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ پاک افغان سرحد پر ہردو جانب سے آمد ورفت کے قوانین اور نظام بھی اسی طرح تشکیل دیے جائیں جس طرح بین الااقوامی سرحدوں پر موجود ہوتے ہیں۔ افغانستان کے اندر انتشار اور خانہ جنگی کا حل قوت سے طے نہ ہونے پر اب امریکا اسے طالبان سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ پاکستان تو ایک عرصے سے یہ مؤقف اپنائے ہوئے ہے کہ افغان مسئلہ سیاسی طور پر حل کیا جائے۔

اس سلسلے میں پاکستان نے سہولت کار کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ اب امریکی دفاعی ادارے پنٹاگان نے بھی اسی مؤقف کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ افغان تنازعے کے خاتمے میں روس، ایران اور چین اہم ادا کردار ادا کر سکتے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے لیے سیف ایگزٹ چاہتے ہیں مگر اس کے لیے ناگزیر ہے کہ طالبان کو مذاکراتی میز پر لایا اور ان کے مطالبات پر غور کیا جائے۔ امریکا افغان امن عمل میں پاکستان کے بھرپور کردار کا اعتراف کر چکا ہے لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ افغان مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے افغانستان اور پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں