اسحٰق ڈارکا بجٹ

گوشت اور مرغی سے محروم عوام عموماً سبزی دال یا چائے روٹی پر گزارہ کرتے تھے


Zaheer Akhter Bedari July 11, 2013
[email protected]

ہماری نئی حکومت کے وزیر خزانہ محترم اسحٰق ڈار نے 2013-14ء کا بجٹ پیش کر کے سارے ملک میں جو ہلچل مچا دی ہے اور ہر حلقے سے اس بجٹ پر سخت تنقید کی جو بوچھاڑ جاری ہے وہ سب عین فطری اور منطقی اس لیے ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے الیکشن سے پہلے عوام کو جو سہانے خواب دکھائے تھے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس کی قلت، مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکسوں اور دہشت گردی کے عذابوں سے ہم عوام کو نجات دلائیں گے بجٹ ان سارے وعدوں کو پورا نہ کرسکا۔ کراچی کے بازار میں ٹماٹر 150 روپے کلو بھنڈی، 100 روپے کلو اسی طرح دوسری سبزیوں کی قیمتوں کا بھی یہی حال ہے۔

گوشت اور مرغی سے محروم عوام عموماً سبزی دال یا چائے روٹی پر گزارہ کرتے تھے وہ اب ان نعمتوں سے بھی محروم ہیں، جی ایس ٹی پٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے عوام میں پریشان ہیں۔ میڈیا اور میڈیا کے اعتدال پسند دانشور بھی چیخ رہے ہیں کہ بجٹ سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے حکمران فرما رہے ہیں کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔ آئی ایم ایف جن شرائط پر پسماندہ ملکوں کو قرض دیتا ہے ان میں ٹیکسوں، بجلی، گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ اور ضروری اشیاء پر حکومت جو سبسڈی دیتی ہے ان پر سے سبسڈی کی واپسی وہ ناگزیر شرائط ہیں جس کے بغیر آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی ادارے پسماندہ ملکوں کو قرض نہیں دیتے۔ بجٹ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی گئی ہیں، اسی پس منظر میں اہل خرد اور معاشی ماہرین وفاقی بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دے رہے ہیں۔

جو لوگ اس ظالمانہ نظام کی فطرت اور اس کے میکنزم کو سمجھتے ہیں ان کے لیے یہ بجٹ نہ حیرت انگیز ہے نہ خلاف توقع۔ ان لوگوں کو یہ اعتراض ضرور ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ حصول اقتدار کے لیے انتخابی مہموں کے دوران عوام سے جو وعدے اور دعوے کرتی ہے اس میں توازن اور حقیقت پسندی ہونی چاہیے جھوٹے وعدوں اور جھوٹے دعوؤں سے عوام اس قدر مایوس اور مشتعل ہو جاتے ہیں کہ آخر کار ہر شہر میں التحریر اور تقسیم اسکوائر سجنے لگتے ہیں اور جلد یا بدیر عوام پر عذاب مسلط کرنے والوں کا حال معمر قذافی اور حسنی مبارک کا سا ہو جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حالیہ بجٹ نے پاکستانی عوام کو لیبیا، مصر اور ترکی کے قریب پہنچا دیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ اہل علم، اہل دانش اور جمہوریت کے عاشق بھی بجٹ پر تنقیدکرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

جمہوریت وڈیرہ شاہی ہو، اشرافیائی یا ترقی یافتہ ملکوں کی یہ ساری جمہوریتیں سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے ایجنٹ کا کردار ادا کر تی ہیں جس کا مقصد عوام کی حکومت کے نام پر مراعات یافتہ طبقات کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ ہماری حکومتوں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ ہمیشہ عوام سے قربانی دینے کا مطالبہ کرتی ہیں اور ہر بجٹ کالی ماتا بن کر عوام کی قربانی لیتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان اشرافیائی حکومتوں میں بجٹ ہمیشہ غریبوں کی کمر توڑنے اور امیروں کو تحفظ دینے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ آج اگر میڈیا اور عوام یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ حکومت نے ارب پتیوں، کھرب پتیوں کو تحفظ دے کر غریب طبقات کی مشکلات کو بڑھایا ہے تو یہ شکوہ غلط نہیں لیکن ہمارا موقف یہ ہے کہ اشرافیائی جمہوریت میں یہی ہوتا ہے جو نہ حیرت انگیز ہے نہ توقعات کے خلاف ہے۔ جن اسمبلیوں میں، جن کابیناؤں میںسرمایہ دار، جاگیردار اور قبائلی سردار اور مولانا حضرات بیٹھے ہوں گے ایسی حکومتوں میں اس قسم کے بجٹ کے علاوہ کسی عوام دوست بجٹ کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے؟ بجٹ کے بعد ملک میں مہنگائی کا جو طوفان آ گیا ہے اسے مصنوعی مہنگائی نے اور خطرناک بنا دیا ہے۔

اس بجٹ میں عوام پر جو بوجھ لاد دیے گئے ہیں ان میں ایک نیا بوجھ پراپرٹی ٹیکس میں ناقابل برداشت اضافہ ہے، اب ہر شہری کو خواہ دو کمروں کے مکان ہی میں کیوں نہ رہتا ہو پراپرٹی ٹیکس نئی شرح کے حساب سے ادا کرنا ہو گا۔ اشرافیائی حکومت کی جگہ کوئی حقیقی عوامی حکومت ہوتی تو وہ 80 اور 120 گز کے مکانات پر ٹیکس میں اضافے کے بجائے ہزار سے پانچ ہزار بلکہ بعض صورتوں میں ایکڑوں پر پھیلے ہوئے محلات پر جائیداد ٹیکس بڑھا دیتی تو غریب عوام کو اضافی جائیداد ٹیکس کے عذاب سے بچایا جا سکتا تھا۔ جی ایس ٹی میں اضافے سے ایک سبزی فروش، گوشت اور پھل فروش، دودھ دہی فروش سے پرچون کے دکانداروں اور آڑھتیوں تک ساری اشیائے صرف کے تاجروں نے قیمتوں میں اس طرح اضافہ کر دیا ہے کہ اس کا سارا بوجھ غریب طبقات کے جھکے ہوئے کندھوں پر آ گیا ہے۔

قیمتوں میں بے مہار اور بلا جواز اضافے کے پیچھے بھاری کرپشن کا ہاتھ ہوتا ہے مثلاً آٹے کی قیمت میں قطعی بلا جواز 10 روپے فی کلو اضافے کو لے لیں جو حکومتیں گندم میں خود کفالت ہی نہیں بلکہ گندم کی برآمد کی دعویدار ہیں کیا وہ آٹے کی قیمت میں اس ظالمانہ اضافے کا کوئی جواز پیش کر سکتی ہیں؟ اس کا صرف ایک اور ایک یہی جواز ہے کہ فلور ملوں، بیوروکریسی اور متعلقہ وزارتوں کے گٹھ جوڑ سے یہ اضافہ کیا گیا ہے جس میں اربوں کی کرپشن یقینی بات ہے۔

اسی طرح مرغی کا گوشت چند ہفتے پہلے 160 روپے کلو فروخت ہو رہا تھا اسے بیوروکریسی نے مرغی کی قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کے نام پر 280 روپے تک پہنچا دیا۔ چونکہ یہ قیمت سرکاری ٹھہرائی گئی ہے لہٰذا عوام کو چوں چرا کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ آٹے اور مرغی کی قیمتوں میں اضافے کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائے تو اس میں کروڑوں کی کرپشن کے حقائق سامنے آ جائیں گے۔ حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز کو اربوں کی سبسڈی دینے کے اعلانات کر رہی ہے۔ رمضان میں غریب کا دل باسمتی چاول کھانے کو چاہتا ہے۔

عام مارکیٹوں سمیت یوٹیلیٹی اسٹورز پر باسمتی چاول 120 سے 140 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ غریب کو تو چھوڑیے کیا مڈل کلاس بھی باسمتی چاول خرید سکتی ہے؟ زرمبادلہ حاصل کرنے کی دھن میں باسمتی چاول سمیت کئی ایسی اشیاء صرف ایکسپورٹ کر دی جاتی ہیں جنھیں استعمال کرنے کا حق عوام کو بھی حاصل ہے لیکن زرمبادلہ کے نام پر ان جاگیرداروں، وڈیروں کو اربوں روپوں کا فائدہ پہنچایا جا رہا ہے جو چاول، گندم، دالیں وغیرہ لاکھوں ٹن میں پیدا کرتے ہیں اور اس پیداوار میں بنیادی کردار اس ہاری اور کسان کا ہوتا ہے جس کا پیٹ خالی اور بدن چیتھڑوں سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے۔ ملوں میں، کارخانوں میں محنت کر کے منڈیوں میں ہر قسم کی اشیاء صرف اور اشیاء تعیش کے ڈھیر لگانے والا مزدور دو وقت کی روٹی سے محتاج رہتا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ 20-20 گھنٹوں تک جاری ہے اس پر بے اعتنائی کا عالم یہ ہے کہ اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہی نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ بھاری بل عوام کو بھیج کر بہ جبر وصولی کا طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔

ہماری نئی حکومت کی ساری توجہ سابق ڈکٹیٹر مشرف کو کیفر کردار تک پہنچانے پر لگی ہوئی ہے اور عوام حیرت سے اس ڈکٹیٹر اور عوام کی منتخب جمہوری حکومتوں کا موازنہ کر رہے ہیں۔ اس ڈکٹیٹر کے دور میں آٹا 16 روپے کلو، چینی 20 روپے کلو، تیل گھی 60 روپے کلو، سبزیاں 10-15 روپے کلو، دالیں 50-60 روپے کلو، چاول باسمتی 50-60 روپے کلو ، بڑا گوشت 200 روپے کلو، مرغی 100 روپے کلو، دودھ 50-60 روپے کلو آسانی سے مل رہے تھے آج کے جمہوری دور میں آٹا 40 روپے کلو، چینی 54 روپے کلو، تیل گھی 170 روپے، سبزیاں 100-140 روپے، دالیں 100-130 روپے، چاول باسمتی 140 ، بڑا گوشت 420، مرغی 280 ، دودھ دہی 100-130 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں ایسے میں بجٹ حکومت کے لیے سر منڈھاتے ہی اولے پڑنے اور پاکستانی عوام کو التحریر اور تقسیم اسکوائر کی طرف دھکیلنے کے علاوہ کیا معنی رکھتا ہے؟

مقبول خبریں