حکمران بسم اللہ کریں مبارک مہینے میں
یہ زمانہ شیروں کا ہے اور ہمیں انھی شیروں کی دھاڑ سننی ہے۔
ہمارے نئے حکمرانوں کو ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں یعنی کوئی مہینہ بھر اس لیے طے کیا کہ ان کی خدمت میں کچھ بھی عرض نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کو مکمل مہلت دی جائے گی اور یہ بات میں نے کہنے کو تو کہہ دی لیکن اپنی قلمی اوقات بالکل بھول کر اور اس پر قارئین سے معذرت۔ ہمارے اور ہماری صحافت کے وہ زمانے گئے جب ہماری بات سننی پڑتی تھی کیونکہ حکمران عوام سے ڈرتے تھے اور ہمیں یہ زعم تھا کہ ہم صحافی عوام کی بات کرتے ہیں، جب سے الیکٹرانک میڈیا کا بغلی گھونسا پڑا ہے، حکمران پریشان ہو گئے ہیں کہ اس کی مانیں جو بہت شور و غل کرتا بلکہ مچاتا ہے یا اس کی جو خاموشی کے ساتھ چند حرف ایک کاغذ پر لکھ کر فارغ ہو جاتا ہے اور اس کا صریر خامہ کوئی بھی نہیں سنتا، شاید وہ خود بھی نہیں بہر کیف اپنی اس بے کسی کے باوجود عادت سے مجبور لیکن جب کوئی بہت اونچی آواز بھی ہم جیسے چھوٹوں کی آواز بن جاتی ہے تو ہم بلی سے شیر بن جاتے ہیں۔
یہ زمانہ شیروں کا ہے اور ہمیں انھی شیروں کی دھاڑ سننی ہے۔ یہ چند بے معنی سے تمہیدی الفاظ دراصل سپریم کورٹ کی طرف سے حوصلہ افزائی سے عرض کر دیے۔ خبر کی تفصیلات تو زیادہ ہیں لیکن سرخی یہ ہے کہ حکومت سابق دور کے کرپشن کیس دبا رہی ہے۔ کیا حکومت نے طے کر لیا ہے کہ عدالت سے تعاون نہیں کرنا۔ عدلیہ سے تعاون کرنے نہ کرنے کا مسئلہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان ہے، ہمارا اس سے تعلق نہیں لیکن ایک بات بہت بری طرح محسوس ہوتی ہے کہ جو لوگ ہمارے اربوں روپے کھا گئے وہ اس ملک میں کھلے پھرتے ہیں مگر انھیں کوئی پوچھتا نہیں۔ کل ریلوے کے سابق وزیر کے بارے میں عرض کیا تھا، آج کسی بھی سابق وزیر کے بارے میں بات کر سکتے ہیں اور ہر وزیر موصوف کے ساتھ لمبا چوڑا کرپشن مواد موجود ہے۔
تعجب ہے کہ جو کیس بھی سامنے آتا ہے وہی اربوں کا ہوتا ہے جب کہ اس قوم کے غریب روزہ داروں کے پاس افطاری کے لیے چند روپے بھی نہیں ہیں۔ مجھے اصل ڈر اس وقت سے لگتا ہے جب یہ بھوکے ننگے دوسروں سے روٹی چھین لیں گے اور ان کے کپڑے اتار لیں گے اور یہ میں در حقیقت اپنے ایک حکمران لیڈر کی کل کی باتیں کر رہا ہوں، میاں شہباز شریف اپنی تقریروں میں بار بار ایسی باتیں کہتے تھے، اب وہ خود اپنی ان باتوں کے مخاطب بن گئے ہیں اور جو دوسروں کو مخاطب کر کے کہتے تھے آج وہ خود اپنی ہی ان باتوں کے مخاطب ہیں لیکن ابھی تو صرف ایک مہینہ ہی گزرا ہے اور اقتدار کے ایوانوں میں برسوں کی باتیں ہو رہی ہیں،کل تک جو کام مہینوں میں ہو رہے تھے یا ہونے والے تھے اب وہ مہینے برسوں میں بدل گئے ہیں۔ ذرا صبر، یہ پانچ برسوں میں بھی بدلیں گے لیکن ہمارے حکمرانوں میں اب کے جو سرگرمی دکھائی دے رہی ہے، اس سے امید پیدا ہوتی ہے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں گے اور آیندہ الیکشن کو ذہن میں رکھیں گے۔
وزیروں کی بات تو ذرا اونچی ہے، ان کے ماتحت بھی ارب پتی بن گئے ہیں۔ دولت کی اس ریل پیل کو خطرناک سمجھ کر یوں قدرے اطمینان ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران ماشاء اللہ پہلے سے ہی ارب کھرب پتی ہیں، اس لیے وہ عوامی خزانے کی طرف للچاتی نظروں سے نہیں دیکھیں گے۔ ان سابق وزراء کی طرح جو کسی جنم جنم کے بھوکے کی طرح دسترخوان پر ٹوٹ پڑے۔ حکومت اور عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے اور پورا پاکستان جانتا ہے کہ اس شدت کے ساتھ یہ مسئلہ بجلی کے سابق وزیر راجہ صاحب کے دور میں پیدا ہوا اور ان پر اس کے براہ راست الزامات بھی لگتے رہے اور بار بار بات کھل کر سامنے آتی رہی لیکن موجودہ حکومت کے آنے پر ہم نے اس وزیر کا نام تک نہیں سنا، جیسے ان کے حلف میں درج تھا کہ راجہ پرویز صاحب کے بارے میں مکمل خاموشی رہے گی اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی یعنی ان کے خلاف بات کرنا بھی بے ادبی ہو گی۔
مارے حکمران دنیا بھر میں گداگری کر رہے ہیں مگر ناقابل فہم ہے کہ وہ اپنے پاکستانیوں سے کچھ وصول کرنے کی ہمت نہیں پا رہے۔ اس سے نہ صرف کچھ نہ کچھ نقد ملے گا بلکہ قوم کا مورال بھی بلند ہو گا۔ احتسابہی زندگی ہے جو حساب قیامت کے دن ہو گا وہ اس زمین پر کیوں نہیں کیا جاتا۔ ہم تو ان کے وارث ہیں جو حساب لینے اور دینے دونوں میں ذرا بھر تاخیر نہیں کرتے تھے، اسے نماز روزے کی طرح لازم سمجھتے تھے۔ ہمارے حکمران ان دنوں قدرے بوکھلائے پھرتے ہیں، ان میں کوئی کہیں مل گیا تو اس قومی راز سے پردہ اٹھانے کی کوشش کریں گے کہ اپنے پاکستانی مجرموں کو کیوں معاف کیا جا رہا ہے جب کہ امریکا کی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں ہے اور اس بارے میں ہم آزاد ہیں۔ بھارتی منموہن صاحب بھی اتنے فارغ نہیں کہ ہماری ایسی باتوں پر بھی توجہ دیں۔
ہم احتساب کے عمل میں مکمل آزاد ہیں اور ہمارے دونوں سابق وزیر اعظم جو عدالتی مجرم ہیں بے فکر ہو کر مزے کر رہے ہیں بلکہ دھمکیاں بھی دیتے ہیں کہ ہمیں تو استثنیٰ حاصل ہے۔ یہ انتہائی غیر اسلامی استثنیٰ تو ہر پاکستانی کو حاصل ہے جب تک وہ کوئی جرم نہ کرے اس پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا لیکن ان لوگوں نے تو جرم کیا ہے اور ان کا یہ استثنیٰ کوئی بے ادبی ہونے کے بعد ہی دیکھا جائے گا۔ ان وزرائے اعظم کو کسی خضاب زدہ مونچھوں والے گھاگھ تھانیدار کے حوالے کر دیں، وہ ان کے استثنیٰ سمیت سب کچھ برآمد کر لے گا لیکن ہم تو صرف چند لفظوں کے امام ہیں۔
حکمرانوں کی خدمت میں بار بار عرض کیا تھا کہ ان کی سب سے بڑی طاقت عدلیہ ہے جو انصاف اور انصاف پسند حکمرانوں کے ساتھ ہے۔ پارلیمنٹ میں حکمرانوں کو زبردست اکثریت حاصل ہے عوام ان کے ساتھ ہیں (فی الحال) اور عدلیہ ان کی مدد کرنے پر بے چین ہے پھر وہ بسم اللہ کیوں نہیں کرتے اس مبارک مہینے کا حق ادا کریں۔ رمضان المبارک بھی ان سے عدل و انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔