آئی ایم ایف کی شرائط گود لے لی گئیں

اسی 5 ارب 30 کروڑ ڈالر کے قرض سے آئی ایم ایف کی قسط ادا کی جائے گی۔


Zaheer Akhter Bedari July 12, 2013
[email protected]

آئی ایم ایف اور ہماری وزارت مالیات کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو 5 ارب 30 کروڑ ڈالر کا قرضہ دینا منظور کرلیا ہے۔ اس قرض پر شرح سود تین فیصد ہوگی اور اس قرض کی واپسی چار سال بعد شروع ہوگی اور چھ سال میں مکمل ہوگی۔ ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اگر آئی ایم ایف سے یہ قرض نہ لیا جاتا تو ملک دیوالیہ ہوجاتا، جس سے عالمی سطح پر نہ صرف پاکستان کی بدنامی ہوتی بلکہ پاکستانی معیشت کو ایسی تباہی کا سامنا کرنا پڑتا جس کا سنبھالنا مشکل ہوجاتا۔ وزیر خزانہ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے جو قرض لیا تھا اس کی قسط دینے کے لیے بھی ہمارے پاس پیسہ نہ تھا۔

اسی 5 ارب 30 کروڑ ڈالر کے قرض سے آئی ایم ایف کی قسط ادا کی جائے گی۔ اس طرح یہ نیا قرض پرانا قرض اتارنے میں کام آئے گا۔ یہ طریقہ کار کوئی نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی نیا قرض پرانا قرض اتارنے کے لیے ہی لیا جاتا رہا ہے، یا خرد برد کرنے میں استعمال ہوتا رہا ہے جس کی وجہ سے قرض میں تو اضافہ ہوتا رہا لیکن ان قرضوں کو ترقیاتی کاموں میں استعمال کرنے کی نوبت ہی نہ آسکی۔ مختلف عالمی مالیاتی اداروں سے حکومتیں جو قرض لیتی ہیں اس کا بنیادی مقصد ملک میں ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرکے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں قرض لینے کا مقصد سابقہ قرض اتارنا اور ہضم کرلینا ہوتا ہے۔

ان ہی پالیسیوں کے پیش نظر ہماری حکومتیں وزارت خزانہ کسی معروف اور مستند ماہر معاشیات کے بجائے ایسے جعلی ماہر معاشیات کے سپرد کرتی ہیں جو حکمران طبقات کی لوٹ مار میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بر سر اقتدار جماعت کے رہنما انتخابات سے پہلے اور انتخابی مہم کے دوران پی پی پی کی حکومت پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ اس نے ملک کو قرضوں میں ڈبودیا ہے اگر ہم برسر اقتدار آئیں اور عوام نے ہمیں حکومت کرنے کا موقع فراہم کیا تو ہم قرض نہیں لیںگے اور کشکول توڑ کر اپنے وسائل سے ملک کے معاشی مسائل حل کریںگے۔ لیکن اس قسم کے دعوے کرنے والے حکمرانوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلا کام آئی ایم ایف سے قرض لینے کا کیا اور اس کا جواز یہ پیش کررہے ہیں کہ اگر یہ قرض نہ لیا جاتا تو ملک دیوالیہ ہوجاتا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو پہلے سے اس صورت حال کا علم نہ تھا؟ اگر تھا تو پھر کشکول توڑنے کی باتیں کیوں کی گئیں؟ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ ہماری سیاست جھوٹ کے سینگ پر کھڑی ہوئی ہے اور عوام سے جھوٹ بولنا عوام کو دھوکا دینا ہماری سیاست کا طرہ امتیاز ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایشیائی بینک اور ورلڈ بینک وغیرہ سے مزید قرض حاصل کرنے کی بات چل رہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ مالیاتی ادارے پاکستان کو 3 ارب ڈالر سے زیادہ قرض فراہم کریںگے۔ اس کے علاوہ بعض مالدار مسلم ملکوں خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے امداد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیر خزانہ بار بار عوام کو یقین دلارہے ہیں کہ انھوںنے آئی ایم ایف سے قرض اس کی شرائط پر نہیں بلکہ اپنی شرائط پر حاصل کیا ہے۔ یہ بڑا دلچسپ دعویٰ ہے اگر وزیر خزانہ نے یہ قرض اپنی شرائط پر حاصل کیا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جی ایس ٹی میں اضافہ، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، عوام کی اشیائے ضروریہ پر دی جانے والی سبسڈی کی واپسی اور مختلف ٹیکسوں میں اضافہ ہماری وزارت خزانہ کی اپنی شرائط میں شامل ہیں؟ سنا اور پڑھا یہی جاتا رہا ہے کہ یہ تمام شرائط آئی ایم ایف نے پیش کی تھیں اور صاف کہہ دیاتھا کہ ان شرائط کو تسلیم کیے بغیر پاکستان آئی ایم ایف سے قرض حاصل نہیں کرسکتا۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط گود لے لی ہیں اور گود لے لینے کے بعد گود لی جانے والی چیزوں کو اپنی چیزیں کہنے کا حق گود لینے والے کو حاصل ہوجاتا ہے۔

پچھلی حکومت کی نااہلی کا ایک فائدہ موجودہ حکومت کو یہ ہوا کہ بیشتر ملک اس حکومت سے بہتری کی امید کرنے پر اس لیے مجبور ہوگئے کہ انتخابی مہم کے دوران موجودہ حکمرانوں نے جہاں عوام کو دودھ اور شہد کی نہریں نکالنے کا یقین دلایا وہیں عالمی برادری کو یہ یقین بھی دلایا کہ نئی حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔ ان ہی یقین دہانیوں پر بعض ملک پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا یقین دلارہے ہیں لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردی میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان و کراچی کی روٹین دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ تو جاری ہے ہی، اس میں سنگین اضافہ یہ ہوا ہے کہ گلگت میں 11 ان سیاحوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کردیا گیا جن کا تعلق چین، روس، اسپین، نیپال اور دوسرے ملکوں سے تھا۔ اس قتل عام سے عالمی برادری کو یہ پیغام جارہا ہے کہ پاکستان ایک ایسا غیر محفوظ ملک ہے جہاں نہ ملکی باشندے محفوظ ہیں نہ غیر ملکی محفوظ ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ میاں برادران کے محفوظ پنجاب کے سب سے بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت لاہور کی پرانی انارکلی فوڈ اسٹریٹ میں اس وقت دھماکا کیا گیا جب چھٹی کی وجہ سے فوڈ اسٹریٹ میں رش تھا۔ اس دھماکے میں 6 سالہ بچی سمیت 6 افراد جاں بحق اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ اس دھماکے نے پنجاب کے پرامن ہونے کی قلعی کھول دی اور بیرونی سرمایہ کار مزید خوف کا شکار ہوگئے۔

یہ تو صورت حال سرمایہ کاری کے حوالے سے ہماری توقعات کی ہے۔ آئی ایم ایف کے مشروط قرضوں نے بجلی، گیس، پٹرولیم اور جی ایس ٹی میں اضافے اور سبسڈی کے خاتمے کی وجہ سے عوام کو محرومی کے جن عذابوں میں گرفتار کردیا ہے کیا ہماری حکومت اس کے نتائج کا ادراک رکھتی ہے؟ آج ترکی، مصر سمیت دنیا کے کئی ملکوں کے عوام اگرچہ مختلف حوالوں سے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آرہے ہیں لیکن اس کی اصل وجہ بے لگام مہنگائی، حکمرانوں کی بے لگام کرپشن اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے۔

میاں برادران پیشہ ورانہ کاروباری لوگ ہیں، وہ اپنے ملک کی معاشی صورت حال سے بخوبی واقف ہیں اور الیکشن سے پہلے بھی ملک کی ابتر معاشی صورت حال، بجلی، گیس کی شدید قلت اور اس قلت کو دور کرنے کے لیے طویل مدتی منصوبوں سے بھی واقف تھے لیکن انھوںنے عوام کے سامنے اس کڑوے سچ کو رکھنے اور انھیں خوش فہمیوں سے بچانے کے بجائے ایسے جھوٹے اور ناقابل عمل وعدوں پر ٹرخانے کی کوشش کی جو اب سچائی کی کسوٹی سے ٹکراکر عوام کے اعتماد کو پاش پاش کررہے ہیں۔ پورے ملک میں اس وقت ایک ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ کیا میاں برادران کو اندازہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے لیے بے چین اپوزیشن عوام کے اس غصے، غیظ و غضب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گی؟ اگر ایک بار عوام سڑکوں پر آجائیں تو پھر اس کا انجام کیا ہوگا؟

ان سوالوں کا ایک قریبی تعلق بیرونی قرضوں، امداد اور ملک کے اندر ترقیاتی فنڈ کے استعمال سے ہے۔ ہماری حکمراں اشرافیہ کی یہ تاریخ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ بیرونی اربوں ڈالر کے قرضوں اور امداد کو اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کی پرعیش زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کیا، حتیٰ کہ کشمیر کے زلزلہ زدگان کے لیے آنے والی کروڑوں ڈالر کی امداد کو بھی ہڑپ کرلیا۔ اس سیاسی بددیانتی کی وجہ سے مالی اداروں سے لیا جانے والا اربوں روپوں کا قرض، دوست ملکوں کی امداد اور ایم این اے اور ایم پی اے حضرات کو دیا جانے والا کروڑوں کا فنڈ عوامی بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے بجائے حکمران اشرافیہ کے بینکوں میں چلاگیا۔ کیا آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی بینک سے حاصل ہونے والا اربوں ڈالر کا قرض عوام کی زندگی کو بہتر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہوگا یا ''نئے امید واروں'' کی جیب میں چلا جائے گا؟

مقبول خبریں