پاک ترک تعلقات میں غیر معمولی پیش رفت

وقت آ گیا ہے کہ حکومت ترکی کے سیاسی، اقتصادی، سماجی تجربات اور موثر اقدامات سے استفادہ کرے


Editorial January 05, 2019
وقت آ گیا ہے کہ حکومت ترکی کے سیاسی، اقتصادی، سماجی تجربات اور موثر اقدامات سے استفادہ کرے (فوٹو: فائل)

پاکستان اور ترکی نے امن و ترقی کے لیے باہمی مفاد کے تمام شعبوں میں تعاون پر مبنی اقدامات جاری رکھنے کے خوش آیند عزم کا اظہارکیا ہے۔

ایک طرف پاک ترکی تعلقات کے حوالہ سے دوطرفہ برادرانہ و تاریخی تعلقات کو دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں مضبوط تجارتی، سرمایہ کاری و اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے جب کہ دوسری جانب دونوں ممالک دہشتگردی کے ناسور سے مل کر نمٹنے کے عزم اور دوطرفہ تعاون کو تمام شعبوں میں وسعت دینے پر بھی ایک پیج پر آ گئے۔ سفارتی مبصرین اور سیاسی حلقوں نے وزیراعظم کے اس دورے کو خارجہ امور میں ایک اہم پیش رفت سے تعبیر کیا ہے۔

جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کے ترکی کے دو روزہ سرکاری دورہ کی تکمیل پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ملاقات ہوئی جسکے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے، دونوں ممالک کی قیادت نے دوطرفہ تعلقات کے استحکام کے حوالے سے عزم کا اعادہ کیا اور قرار دیا کہ دونوں ممالک میں عوامی اور حکومتی سطحوں پر دیرینہ بے مثال برادرانہ تعلقات قائم ہیں، دونوں ممالک مشترکہ ثقافت، مذہبی ورثہ کے ساتھ ساتھ باہمی اعتماد پر مبنی مستقبل کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں مضبوط اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں بدل چکے ہیں جو آزمائش کی ہر گھڑی پر پورے اترے ہیں۔

پاکستان اور ترکی نے قومی مفاد کے بنیادی ایشوز پر ایک دوسرے کی مضبوط حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دوطرفہ تعلقات کو دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں مزید فروغ دیا جائے گا۔ اعلامیہ میں ترکی، پاکستان اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل میکنزم کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے سلسلے میں کئی دیگر ورکنگ گروپس بھی شامل ہیں۔

اعلامیہ میں دونوں ممالک کے درمیان دفاع و دفاعی صنعت، موجودہ اقتصادی، تجارتی اور کاروباری تعلقات، صحت اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا جب کہ دیگر اہم معاملات کی طرح ہر قسم کی دہشتگردی کی لعنت کے خلاف جنگ کے حوالے سے عزم پر قائم رہتے ہوئے فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم کے خلاف کارروائیوں کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

دونوں ممالک نے اقوام متحدہ، او آئی سی، اکنامک کو آپریشن آرگنائزیشن، ڈی ایٹ ممالک سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ علاقوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر پائیدار امن، سلامتی و استحکام کے حصول کے لیے اپنا عزم ظاہر کیا، پاکستان اور ترکی نے پائیدار مذاکراتی عمل کے ذریعے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید براں عدم امتیاز پر مبنی طریقہ کار کے تحت نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں پاکستان کی رکنیت کے لیے ترکی کی حمایت کا اعتراف کیا گیا اور قرار دیا گیا کہ پاکستان کی نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شرکت اور اس کی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد سے عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے مقاصد کو تقویت ملے گی، مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک نے مسئلہ فلسطین کی مرکزیت پر زور دیتے ہوئے القدس کی قانونی حیثیت اور تاریخی کردار کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا اور عالمی برادری پر زور دیاکہ وہ فلسطینی عوام کی آزاد، خود مختار و مکمل ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت کرے۔

جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو اور اس کی سرحدیں 1967ء کے مطابق ہوں۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک نے اسلام کی حقیقی اقدار کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے تاریخی تشخص، مقدس ہستیوں اور بنیادی عقائد کی توہین یا ان کو مسخ کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ترکی، پاکستان اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کو آپریشن کونسل کا چھٹا اجلاس پاکستان میں منعقد کرنے پر اتفاق کیاگیا ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے جمعہ کو انقرہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے دوطرفہ تعلقات میں گرم جوشی پائی جاتی ہے اور یہ وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہونگے، انھوں نے کہا پاکستان میں 50 لاکھ بے گھر لوگوں کے لیے گھر بنانے جا رہے ہیں، ہاؤسنگ کے شعبے میں ترکی کے تجربے سے استفادہ چاہتے ہیں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی اصلاحات کے حوالے سے ترکی کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنانے کے خواہشمند ہیں۔ پاکستان امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعاون کر رہا ہے، افغانستان میں قیام امن خطے کی ترقی و استحکام کے لیے ناگزیر ہے، ہم افغانستان کے معاملے پر ترک تعاون کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے کہا خطے میں امن کے لیے بھارت کے ساتھ بھی مذاکرات چاہتے ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا اندھا دھند استعمال کر رہا ہے۔

اس موقع پر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان کی پاکستان میں تبدیلی کے لیے طویل جدوجہد پر کہا کہ ہم ان کا اور ان کے وفد کا انقرہ میں خیر مقدم کرتے ہیں، اردوان نے کہا پاکستان، افغانستان، ترکی سہ فریقی اجلاس افغان امن عمل میں معاون ثابت ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ترکی فاؤنڈیشن سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے لیے صدارتی محل پہنچے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیاگیا اور انھیں گارڈآف آنر بھی پیش کیاگیا۔

بعد ازاں 20 سرکردہ ترک کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ترک سرمایہ کاروںکو یقین دلایاکہ حکومت انھیں ہر ممکنہ سہولیات اور معاونت فراہم کریگی۔ قبل ازیں عمران خان ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر ترکی کے2 روزہ سرکاری دورہ پر ترک شہر قونیہ پہنچے تو گورنر اور نائب میئر قونیہ، پاکستان کے سفیر اور دیگر سینئر حکام نے ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ عمران خان کا ترکی کا پہلا دورہ ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار اور مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ رہا۔ بعد ازاں عمران خان نے قونیہ میں وفد کے ہمراہ عظیم صوفی بزرگ حضرت جلال الدین رومی کے مزار پر حاضری دی۔ پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا مولانا جلال الدین رومیؒ کا شمار عظیم صوفی بزرگوں میں ہوتا ہے جن کی صوفیانہ تصنیفات روحانی موضوعات پر شاہکار اور لازوال ہیں۔ مولانا روم علامہ اقبال کے روحانی پیشوا تھے۔ وزیراعظم مولانا رومی کے مزار کے احاطے میں علامہ محمد اقبال کی علامتی قبر پر بھی گئے۔ عمران خان اس موقع پر مقامی لوگوں میں گھل مل گئے۔

وزیراعظم کا دورہ ترکی درست سمت ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔ حکومت کو خارجہ امور اور عالمی قوتوں سے تعلقات کی استواری اور بحالی کے لیے نئے عزم کے ساتھ کام کرنا ہو گا، ساتھ ہی ملکی داخلی سیاسی صورتحال اور معاشی سمت کی درستی کے لیے دلیرانہ فیصلے کرنا ہونگے۔ امید کی جانی چاہیے کہ پاک ترکی تاریخی سیاسی اور ثقافتی تعلقات مزید فروغ پائیں گے اور عالمی امن، افغانستان اور خطے میں ترقی و استحکام کی منزل تک پہنچنے کے لیے پاکستان کو ترکی کی بے لوث دوستی، مدد اور اشتراک عمل ہمہ وقت حاصل رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت ترکی کے سیاسی،اقتصادی، سماجی تجربات اور موثر اقدامات سے استفادہ کرے تا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کو پرکشش و محفوظ ہب بنانے میں کامیابی حکومت کے قدم چومے۔

مقبول خبریں