ورلڈ بینک کی واہگہ بارڈر پر مارکیٹ بنانیکی پیشکش کا خیر مقدم

ثمرات عوام تک منتقل، باہمی تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ، سرحدی کشیدگی ختم ہوگی


Business Reporter July 13, 2013
حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں، ایم منیر، زبیر چھایا، میاں زاہد حسین، نجم العارفین اور نیاز احمد۔ فوٹو: فائل

تاجروں اور صنعت کاروں نے ورلڈ بینک کی جانب سے واہگہ بارڈر پر 50 کروڑ ڈالر کی پیشکش کو امید افزا قرار دیا۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر، چیئر مین کاٹی محمد زبیر چھایا ، آل کراچی انڈسٹری الائنس کے صدر میاں زاہد حسین،وائس چیئر مین نجم العارفین اور نیاز احمد نے ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستانی بارڈر واہگہ کے مقام پر زیرو پوائنٹ بارڈر مارکیٹ بنانے کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان نے ورلڈ بینک کی جانب سے پیش کی گئی آفر پر مثبت جواب دیا تو واہگہ پر اس پروجیکٹ کی تکمیل سے اس کے مثبت نتائج پاکستان اور بھارت کی حکومت کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کی عوام، تاجروں و صنعتکاروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات تک منتقل ہوں گے۔



انہوں نے کہا کہ زیرو پوائنٹ بارڈر کی تکمیل سے پاکستان اور انڈیا کے بزنس مین تجارتی امو ر کو احسن طریقے سے ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تجارتی حجم دو ارب چالیس کروڑ ڈالر ہے دونوں ملکوں کے تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو پائے گا اور سرحدی کشیدگی بھی ختم ہو پائے گی۔ سرحد کی جانب دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہونے کی جانب اہم اقدام ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ50 کروڑ ڈالر کی پیشکش اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ملکی حالات بہتری کی سمت جارہے ہیں اورورلڈ بینک کی موجودہ پیشکش موجودہ حکومت پراعتماد کا مظہر ہے اور موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے لئے غیر ملکی اداروں اور سرمائے کار کمپنیوں کا پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے پاکستان کا امیج دنیا میں بہتر انداز میں ابھر کر سامنے آئے گا۔ اور انکے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاجروں کے ویزے کی شرائط کو نرم بنایا جائے اور دونوں مما لک کے درمیان بزنس مین کو ملٹی پل ویزہ جاری کرنے کے اصولی اتفاق پر عملدرآمد کیا جائے۔