یمن میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے نمایندے کی آمد

مشرق وسطیٰ کی قوتوں کو یمن کے بحران کے حل کے لیے مخلصانہ کوششیں کرنی چاہئیں


Editorial January 06, 2019
مشرق وسطیٰ کی قوتوں کو یمن کے بحران کے حل کے لیے مخلصانہ کوششیں کرنی چاہئیں (فوٹو : فائل)

یمن کے لیے اقوام متحدہ کا خصوصی نمایندہ گزشتہ روز یمن کے دارالحکومت صنعا میں پہنچ گیا تا کہ ملک کی مرکزی بندر گاہ حودیدیہ پرجنگ بندی کرا سکیں جو ملک کی واحد لائف لائن ہے۔


اقوام متحدہ کا نمایندہ مارٹن گرفتھس صنعا میں حوثی باغیوں کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کریں گے جس کے بعد وہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض جائیں گے اور وہاں سعودی حکام سے ملاقات کریں گے۔ صنعا میں وہ ریٹائرڈ دلندیزی جرنیل پیٹرک کمائرٹ سے بھی ملاقات کریں گے جسے اقوام متحدہ نے صلح کی کوششوں کی نگرانی کرنے پر متعین کیا ہے۔

میڈیا کی اطلاع کے مطابق مارٹن گرفتھس حودیدہ شہر کا دورہ بھی کریں گے۔ بحیرہ احمر کی یہ بندر گاہ شہر میں داخلے اور درآمدات کے یمن میں لائے جانے کا مرکزی مقام ہے۔

یمن میں اس وقت دو کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ لوگ اپنی زندگی بچانے کے لیے انسانی بنیادوں پر لائی جانے والی امداد کے منتظر ہیں۔ اقوام متحدہ کے نمایندے نے اپنی آمد کے موقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا البتہ ان بچوں سے ضرور ملاقات کی جو شدید بیماری میں مبتلا ہیں اور ایک ایمبولینس میں مدد کے منتظر تھے۔ گزشتہ ایک سال سے شہر کے ہوائی اڈے کا محاصرہ ہے جس کی وجہ سے یہاں طیاروں کی آمد و رفت بالکل بند ہے۔

ایئرپورٹ کی بندش سے ہزاروں یمنی مریض علاج کے لیے ملک سے باہر نکلنے سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ سیکڑوں افراد نے حودیدہ کی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صلح کی شرائط پر عمل درآمد کرایا جائے تاکہ ہزاروں لوگوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مارٹن گرفتھس نے جنگ بندی کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تاہم اب وہ صلح کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے کوشاں ہیں۔ معاہدے کے مطابق حودیدہ کی بندر گاہ کو یمن کے حوالے کیا جانا ہے اور وہاں پر فوجی دستوں کی تعیناتی عمل میں لائی جانی ہے۔

صلح کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے جو پہلی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی وہ پہلے ہی ختم ہو چکی ہے تاہم اب کوشش کی جا رہی ہے کہ اس ڈیڈ لائن میں تھوڑا اضافہ کر کے اس پر عمل درآمد کرانے کی کوشش کی جائے۔ بندر گاہ کے انتظام میں تبدیلی کے بارے میں فریقین میں اختلافات موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ متحارب گروہوں کو ممکنہ طور پر کویت میں حتمی مذاکرات کے لیے آمنے سامنے بٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن کسی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔ اقوام متحدہ اس وقت ہی کوئی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے جب متحارب فریقین اور ان کی پشت پناہ ریاستیں کسی حل پر متفق ہو جائیں۔ مشرق وسطیٰ کی قوتوں کو یمن کے بحران کے حل کے لیے مخلصانہ کوششیں کرنی چاہئیں۔

مقبول خبریں