امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا مستقبل

سعودی عرب میں مذاکرات سے انکار سے نئی صورتحال جنم لے سکتی ہے


Editorial January 08, 2019
سعودی عرب میں مذاکرات سے انکار سے نئی صورتحال جنم لے سکتی ہے۔ فوٹو: فائل

امریکا افغانستان سے باعزت واپسی کے راستے ڈھونڈ رہا ہے جس کا عندیہ امریکی نائب صدر مائیک پنس نے ان الفاظ میں دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے فوج کے انخلا کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر غور کر رہے ہیں۔امریکا اور طالبان کے درمیان روابط کا سلسلہ بھی جاری ہے،تاہم طالبان سخت موقف پر قائم ہیں۔

ادھر افغان طالبان نے رواں ماہ سعودی عرب میں امریکا کے ساتھ امن مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ مذاکرات سعودی عرب کے بجائے قطر میںکیے جائیں علاوہ ازیں طالبان امن مذاکرات میں افغان حکومت کی شرکت پر بھی آمادہ نہیں، اس سے قبل بھی طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔ میڈیا میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ گفتگو کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے لیکن اس کی تاریخ اور مقام کا تعین ابھی نہیں ہوا، اگر بات چیت میں متوقع نتائج حاصل کرنے میں ناکامی ہوتی اور طالبان کے ساتھ لڑائی جاری رہتی ہے تو طالبان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہو گا ماسوائے اس کے کہ امریکا کو بزورافغانستان سے نکالا جائے۔ بدلتے ہوئے حالات میں افغان جنگ امریکا کے لیے سر درد بن چکی ہے۔

اس کی خواہش ہے کہ طالبان مذاکرات میں اس کی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کر لیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے افغانستان سے فوج واپس بلانے کی راہ ہموار ہوسکے لیکن طالبان امریکا کی ساری شرائط ماننے پر آمادہ نہیں اور وہ اپنی شرائط پر اس سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ کابل حکومت کو مذاکرات سے مائنس کر کے طالبان اپنا وزن بڑھانا چاہتے اور امریکا پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں فیصلہ کن قوت ہیں جن کے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا لہٰذا مذاکرات میں کابل کی کٹھ پتلی حکومت کو شریک کرنے کے بجائے امریکا براہ راست طالبان سے مذاکرات کرے۔

اب سعودی عرب میں مذاکرات سے انکار سے نئی صورتحال جنم لے سکتی ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے تعلقات بھی زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے لیکن طالبان کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں امن کے لیے جس حد تک آگے جاسکتے ہیں، جائیں کیونکہ لڑائی کا تمام تر نقصان افغانستان کو ہے، امریکا کا نقصان کرنے کے چکر میں برسوں حالت جنگ میں رہنا دانشمندی نہیں ہے۔ اسی طرح امریکا کے پالیسی سازوں کو افغان حکومت کی حمایت اتنی ہی کرنی چاہیے جتنی کی وہ مستحق ہے۔ اسی طریقے سے افغانستان میں امن قائم ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں