’’ایکسپریس نیوز‘‘ پرکامیابی کے 3برس مکمل کرنے والا طنزومزاح کا پروگرام ’’ڈارلـنـگ‘‘

اپنے فن کے ذریعے لوگوں کے اداس چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے کا مشن جاری رہے گا: خالد عباس ڈار کا ’’ایکسپریس‘‘ کوانٹرویو


Qaiser Iftikhar July 13, 2013
اپنے فن کے ذریعے لوگوں کے اداس چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے کا مشن جاری رہے گا: خالد عباس ڈار کا ’’ایکسپریس‘‘ کوانٹرویو۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

'ہرخبر پرنظر' رکھنے والے عوام کا ہردلعزیزچینل ' ایکسپریس نیوز ' کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔

اس چینل نے اپنی بہترین کارکردگی کے بل پرعوام کے دل ودماغ میں ایک خاص جگہ بنائی ہے جس کیلئے کئی برس لگ جاتے ہیں۔ اس پرپیش کئے جانیوالی خبریں، سیاسی تبصرے اوردیگرپروگرام پاکستان اوردیارغیر میں بسنے والے ناظرین بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔ خاص طورپرسیاسی طنزومزاح کا پروگرام ''ڈارلنگ'' اس سلسلہ میں سب پربازی لے گیا ہے۔ گزشتہ تین برس سے جاری پروگرام کے دیکھنے والوںکی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ چھوٹے، بزرگ، خواتین اورنوجوان سب کے سب پروگرام کو بڑے شوق سے دیکھتے ہیں اورنشرمکررپربھی ناظرین کی اکثرٹی وی سیٹ کے سامنے براجمان ہوتی ہے۔ پروگرام کے میزبان پاکستان شوبز انڈسٹری میں 'ون مین شو' متعارف کروانے والے لیجنڈ خالد عباس ڈارہیں۔ جنہوں نے 23برس بعد ' ایکسپریس نیوز' سے دوبارہ ٹی وی انڈسٹری کا رخ کیا۔

یہ خاصا مشکل فیصلہ تھا لیکن ' ایکسپریس نیوز' کی ٹیم نے خالد عباس ڈارکو اس کیلئے راضی کیا اورپھریہ سلسلہ بڑی کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اس پروگرام کو آن ائیر ہوتے ہوئے اب تین برس گزرچکے ہیں اور اب تک اس کے 150پروگرام ٹیلی کاسٹ کئے جا چکے ہیں۔ '' واضح رہے کہ پروگرام کے سکرپٹ رائٹرگل نوخیزاختر، موسیقارساجد حسین چھکو، پروڈیوسر یاسرمغل،ایسوسی ایٹ پروڈیوسرمحمدعثمان مقصود، زاہد اکبرکوریجہ، انیلہ عرفان اورایگزیکٹوپروڈیوسرفیصل سایانی ہیں''۔ پروگرام میں پہلے خالد عباس ڈارکو میزبانی کے ساتھ ' ڈارلنگ' کا مرکزی کردارادا کرنا پڑتاتھا لیکن اب ان کے ساتھ نوازانجم اورسعید سہکی جیسے منجھے ہوئے مزاحیہ فنکاربھی اپنی صلاحیتوںکے جوہردکھارہے ہیں۔

پروگرام کا جب آغاز ہواتواس کومختلف سیگمنٹس میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں ''جگ جگ جگنی، کس کے سوٹی (کسوٹی)، جبرنامہ، آن لائن انٹرویو، سیاسی چترہاراوردعائے ڈارلنگ'' شامل تھیں۔ اس موقع پرخالد عباس ڈار کو دو کردار ادا کرنے کا ٹاسک بھی دیا گیا۔ ایک طرف تووہ سوٹ پہنے، چشمہ لگائے میزبانی کے فرائض انجام دیتے تودوسری جانب انہیں 'ڈارلنگ' کامرکزی کردار بھی اداکرنا تھا جوغریب عوام کی عکاسی کرتا تھا۔ یہ اپنی طرز کا ایک منفرداوردلچسپ پروگرام تھا جس کو 'ایکسپریس نیوز' نے شروع کیا۔ اس موقع پرکچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ خالد عباس ڈاراپنی بھرپور اننگزپہلے کھیل چکے ہیں اب ان کی دوسری اننگزناکام رہے گی۔



لیکن ان کی محنت، لگن اورٹیم میں شامل باصلاحیت لوگوں نے ' ڈارلنگ ' کی کامیابی کیلئے شب وروز محنت کی۔ اس پروگرام کومنفردبنانے کیلئے سینئرصحافی، معروف کالم نگاراور''روزنامہ ایکسپریس''کے گروپ ایڈیٹرعباس اطہرمرحوم نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پروگرام میںشامل 'جگنی' کی شاعری عباس اطہرنے کی اور ہر باراہم ملکی ایشوکو' جگنی ' کا حصہ بنا کرلوگوں تک اہم معلومات مزاح کے ساتھ پہنچائی۔ اسی طرح پروگرام میںآن لائن انٹرویوکا تذکرہ کیاجائے توان میں اہم سیاسی، سماجی اورفنون لطیفہ کی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پرمیزبان خالد عباس ڈاراورڈارلنگ کے دلچسپ سوالات سے بچنا ان کیلئے چیلنج سے کم نہ ہوتاتھا۔

ان مہمانوں میں تحریک انصاف کے سربراہ اوررکن قومی اسمبلی عمران خان، سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویزالٰہی، حمزہ شہباز، جاوید ہاشمی، قمرالزمان کائرہ، شیخ رشید، پرویز رشید، چوہدری اعتزازاحسن، شرمیلا فاروقی، شازیہ مری، جہانگیربدر، عائلہ ملک، شفقت محمود، ماروی میمن، حیدرعباس رضوی، خوش بخت شجاعت، شاہی سید، بابراعوان، ثمینہ خاورحیات، لطیف کھوسہ، مشاہداللہ خان، شرجیل میمن، زعیم قادری اوررانا ثناء اللہ، جبکہ ادبی ، سماجی اورصحافتی شخصیات میں عباس اطہرمرحوم، مجیب الرحمان شامی، عاصمہ جہانگیر، حامد میر، ڈاکٹر شاہد مسعود، پی جے میر، سہیل وڑائچ، شاہ زیب خانزادہ، کامران شاہد، احمد رضا قصوری، اوریا مقبول جان، شمشاداحمد خان، جنرل ریٹائرڈ ضیاء الدین بٹ، مبشرلقمان اور'روزنامہ ایکسپریس' کے ایڈیٹراورکالم نگارایازخان شامل تھے۔

پروگرام میں شوبز سے معروف فنکاروںکے انٹرویوبھی پیش کئے گئے ان میں معین اخترمرحوم، بشریٰ انصاری، قوی خان، ریما، سارہ لورین، وینا ملک، علی ظفر، جواد احمد، فردوس جمال، نور، مدیحہ شاہ، ریشم، لیلیٰ، نرما، ابراالحق، شاہدہ منی، سائرہ نسیم، فیصل قریشی، ماریہ واسطی، شوکت علی، عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی، سہیل احمد، عمر شریف،سکندرصنم، سیدنور، معمررانا، ڈاکٹریونس بٹ، ماتیرا، خوشبو، شکیل صدیقی، رفاقت علی خاں، رئوف لالہ، وصی شاہ، جیاعلی، احسن خان اورانورمقصود قابل ذکرہیں۔



'سیاسی چترہار'، ' کسوٹی' ، ' جبرنامہ' اور'دعائے ڈارلنگ ' کے سیگمنٹ بھی ناظرین میں بے حد مقبول رہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی آتی رہی۔ 'ایکسپریس نیوز' نے پروگرام 'ڈارلنگ' کے ذریعے پیروڈی گیتوں کا ایک سلسلہ شروع کیاجس کو بعد میں دیگرچینلز نے بھی اپنایا۔ پیروڈی گیت خالد عباس ڈارکی آواز میں ریکارڈ کیاجاتا ہے جبکہ اس کے میوزک ارینجمنٹ ساجد حسین چھکو کرتے ہیں۔ اب تک 100پیروڈی گیت آن ائیر ہوچکے ہیں جن کو باربارسننے کی فرمائش اکثرای میلز، خطوط اورایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہوتی رہتی ہیں۔ یہی نہیں خالد عباس ڈارنے پروگرام کومزید بہتربنانے کیلئے بہت سے روپ بھی دھارے۔ وہ کبھی بینڈ باجے والے بنے توکبھی ڈاکوکے روپ میں دکھائی دیے۔

کبھی پولیس اہلکاربنے توکبھی چور، کبھی فقیربنے توکبھی جوگی، کبھی شہنشاہ توکبھی فریادی کے روپ دھارا۔ پروگرام میں خالد عباس ڈارکے مختلف گیٹ اپ اور پرفارمنس کوناظرین نے بے حد سراہا۔ دوسری جانب سعید سہکی اورنواز انجم کی سپورٹ نے بھی اس پروگرام کو مزید بہتربنانے میںاہم کردارادا کیا ہے۔ ایک طرف خالد عباس ڈاربطورمیزبان اہم ملکی معاملات اورلوگوںکے دیرینہ مسائل پردلچسپ سوال پوچھتے ہیں تودوسری جانب طنزومزاح سے بھرپورجواب (جوحقائق پرمبنی ہوتے ہیں) ناظرین کی تفریح کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈارلنگ اب نیوزچینلز پرپیش کئے جانیوالے پروگراموںمیں سرفہرست بن چکا ہے۔ یہ سب خالد عباس ڈار اوران کی ٹیم کی کاوش کے ساتھ ممکن ہوا ہے۔

''نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے خالد عباس ڈارکاکہنا تھا کہ شوبزکی دنیا میں صرف وہی چیز دیکھی اورپسند کی جاتی ہے جس میں لوگوںکے انٹرٹین ہونے کیلئے کچھ موجود ہو۔ وگرنہ ریموٹ کنٹرول کے دورمیں لوگوںکے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ کسی ایک پروگرام یا چینل کو دیکھتے ہوئے وقت ضائع کردیں۔ ان سب باتوںکومدنظررکھتے ہوئے پروگرام کی پوری ٹیم نے مل کرکچھ منفردکرنے کا فیصلہ کیا اورنتیجہ سب کے سامنے ہے۔ 'ڈارلنگ'اب تمام عمرکے لوگوں میں یکساں مقبول ہے۔ اہم سیاسی ، سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ اورسپورٹس سے تعلق رکھنے والے فنکاراورکھلاڑی بھی پروگرام کوبڑی دلچسپی کے ساتھ دیکھتے ہیں اوروقتاً فوقتاً اپنی پسندیدگی اوررائے کااظہاربھی کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے دیکھاجائے تواپنے کیرئیر کی ٹی وی پردوسری اننگز اورملنے والا رسپانس بہت زبردست جارہا ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے ''ڈارلنگ'' میں بہترین پرفارمنس کے اعتراف پر'ہلال امتیاز' سے نوازاگیا۔ یہ سب میرے چاہنے والوںکی دعا کانتیجہ ہے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنے کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھروں اورمزاح کے ساتھ ساتھ لوگوںکی توجہ ان مسائل پربھی دلوائوں جن کے بارے میں لوگ زیادہ ترنہیں سوچتے۔ اس وقت ہمارے ملکی حالات کے پیش نظرلوگوںکی اکثریت تفریح کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہوچکی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ اوردہشت گردی نے لوگوںکی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایسے میں ہلکے پھلکے طنزو مزاح پرمبنی پروگرام ہی ان کو انٹرٹین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ''ڈارلنگ'' پاکستان میںبسنے والوں کا ہی نہیںبلکہ دیارغیر آباد پاکستانیوںکا پسندیدہ پروگرام بن چکا ہے ۔ اسی لئے میری کوشش ہے کہ جب تک میری زندگی ہے میں اپنے فن کے ذریعے لوگوںکے اداس چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے کا مشن جاری رکھوں ۔

خالد عباس ڈارکے فنی سفراورکامیابیوں کا مختصراحوال

خالد عباس ڈارکا شمارپاکستان کے ان معروف فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوںنے اپنی صلاحیتوں سے ہمیشہ ہی کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ وہ جب بھی کسی کردارمیںدکھائی دیئے لوگوںنے ان کی فنی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ فلم، ٹی وی اورتھیٹرمیںطویل اننگز کھیلنے والے خالد عباس ڈار نے فن کے میدان میں چھکے اورچوکے لگاتے ہوئے کئی سنچریاں بنائیں ۔ خالد عباس ڈاربچپن سے ہی فنکارانہ صلاحیتوں سے مالا مال تھے جس کی وجہ سے صرف دس برس کی عمرمیں انہیں بطورچائلڈ سٹارریڈیو پاکستان لاہورمیں کام کرنے کا موقع مل گیا۔ اگربات کی جائے تعلیمی میدان کی تواس میںخالد عباس ڈار کسی سے پیچھے نہ تھے۔ انہوںنے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کیا۔ انہیں 1966ء میں گورنمنٹ کالج کی طرف سے ( ROLE OF HONOUR ) کے اعزاز سے نوازا گیا۔ گورنمنٹ کالج کی ڈیڈھ سوسالہ تاریخ میں خالد عباس ڈار واحد طالبعلم تھے جنہیں یہ اعزاز دیاگیاتھا۔

خالد عباس ڈارکے چاہنے والے ملک اوربیرون ملک بڑی تعداد میںآباد ہیں لیکن ان کے قدردانوں میں سابق صدرفیلڈمارشل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، چوہدری فضل الہیٰ، جنرل محمد ضیاء الحق، سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو، محمد خان جونیجو، میاں معراج خالد، غلام مصطفی جتوئی، بلخ شیرمزاری ، سیدیوسف رضا گیلانی اورنوازشریف شامل ہیں۔

پاکستان میں اسلامک کانفرنس 1974ء میں ہوئی۔ اس موقع پرحکومت پاکستان نے لاہورمیں تاریخی شاہی قلعہ میں 45ملکوںکے سربراہان کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ جس میںثقافتی پروگرام کی ذمہ داریاں خالد عباس ڈارکوسونپی گئیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کی گراں قدرخدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ''ستارہ امتیاز، صدارتی ایوارڈ اورہلال امتیاز'' سے نوازا ہے۔