آمریت کے مختلف رنگ آخری حصہ

آمریت کا کروفر اور اس کی فرعونیت انسانوں کو حیوانوں کی سطح پر اتار دیتی ہے۔ آمریت شخصی ہو، فوجی لباس پہن کر...


Zahida Hina July 13, 2013
[email protected]

آمریت کا کروفر اور اس کی فرعونیت انسانوں کو حیوانوں کی سطح پر اتار دیتی ہے۔ آمریت شخصی ہو، فوجی لباس پہن کر آئے یا اس کے سر پر کسی سیاسی جماعت کا پھریرا لہراتا ہو، ہر رنگ میں وہ کسی عفریت سے کم نہیں ہوتی۔ اس کے بنیادی مقاصد ہمیشہ یکساں ہوتے ہیں۔ وہ ہر قیمت پر اپنے مخالفوں کو کچلتی ہے۔ اپنے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کسی اقلیتی طبقے، قومیت، مذہب یا مسلک کو ہدف بناتی ہے۔ اس کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکاتی ہے۔ لوگوں کی غربت، جہالت اور پسماندگی کا سبب مخالف طبقات یا دیگر گروہوں کو ٹھہراتی ہے، یوں عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ہر وضع کی آمریت اپنے شہریوں کو کسی بھی طرح کے جمہوری حقوق نہیں دیتی۔ خاص طور سے نظریاتی یا مذہبی رنگ میں ظاہر ہونے والی آمریت اپنے نظریے یا مسلک کو عظیم تر ثابت کرتی ہے۔ اسے بہ جبر نافذ کرتی ہے اور جب مسلکی بنیاد پر آمریت کا نفاذ کرتی ہے تو اپنی مدد کے لیے آسمانی صحیفوں اور بزرگ ہستیوں کے حقیقی یا خود ساختہ تصنیف کردہ فرمودات کا سہارا لیتی ہے۔

اگر ہم بیسویں صدی کی آمریتوں پر نظر ڈالیں تو ایشیا، افریقا، یورپ اور لاطینی امریکا کے متعدد ملک مختلف نوعیت کی آمریتوں کے شکنجے میں رہے۔ ان آمروں کی وجہ سے درجنوں لڑائیاں لڑی گئیں۔ دوسری جنگ عظیم کی تاریخ پڑھی جائے تو اس بات میں کسی شبہے کی گنجائش نہیں رہتی کہ یہ بھیانک جنگ جس نے تقریباً تمام براعظموں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، وہ جرمنی، جاپان اور اٹلی کے آمروں کی وجہ سے شروع ہوئی۔ یہ وہ آمرانِ مطلق تھے جنھیں اپنی مملکتوں کو وسیع کرنے کے لیے کمزور ملکوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی ہوس تھی۔ وہ بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں وسیع علاقوں کو اپنے ملکوں میں شامل کرنے کے وہ خواب دیکھ رہے تھے جو فراعنہ مصر، شاہان روم و ایران اور بعد میں مسلمان بادشاہوں نے دیکھے اور جو قبل مسیح اور بعد مسیح کے زمانوں میں پورے ہوتے رہے۔

بیسویں صدی میں یہ خواب دیکھے تو جا سکتے تھے لیکن ان کی تعبیر ممکن نہ تھی۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ان خوابوں نے انسانی نسل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے۔ ان آمروں کی وجہ سے شروع ہونے والی دوسری جنگ عظیم میں5 کروڑ انسان ہلاک اور کئی کروڑ زخمی اور معذور ہوئے۔ کھربوں ڈالر کی املاک تباہ ہوئیں۔ درجنوں ملک برباد ہوئے۔ اس جنگ کی وجہ سے ہونے والی کساد بازاری اور زراعت کی تباہ حالی کے سبب قحط جیسی صورتحال، بھوک اور بیماریوں نے کروڑوں انسانوں کو بے گھر اور بے در کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی، تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی صدی کہلاتی ہے۔ انسان نے اتنی بڑی نقل مکانی اس سے پہلے کسی صدی میں نہیں جھیلی تھی۔

اگر ہم بیسویں صدی کے بدترین آمروں کے ''کارناموں'' کو صرف سرسری طور پر جاننے کی کوشش کریں تو یہ بات ہم پر آشکار ہوتی ہے کہ جرمنی کا ایڈولف ہٹلر جو اپنے عوام کے ووٹوں کی بھاری اکثریت سے برسر اقتدار آیا تھا اور پھر آمر مطلق بن بیٹھا، وہ اپنے فاشسٹ اور جرمن قوم کی نسلی برتری کے فلسفے کے سبب اپنے ملک میں ایک کروڑ 10 لاکھ لوگوں کی اندوہناک موت کا سبب بنا۔ اس نے وہ خارجہ پالیسی اختیار کی جس کی بنا پر دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا، جس میں مجموعی طور پر 5 کروڑ انسان ہلاک ہوئے، جرمنی کھنڈر بن گیا اور یورپ کے متعدد شہر اجڑ گئے۔

جوزف اسٹالن کے دور میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے 2 کروڑ کے لگ بھگ انسان جبری مشقت کے حراستی کیمپوں میں ہلاک ہوئے اور لاکھوں لوگوں کو جبری طور پر ان کے آبائی علاقوں سے دوسرے علاقوں میں منتقل کر دیا گیا۔ اس جبر نے کتنے پیچیدہ انسانی المیوں کو جنم دیا وہ ایک الگ موضوع ہے۔ پول پاٹ کا شمار بھی 20 ویں صدی کے بدترین آمروں میں ہوتا ہے۔ اس نے کمبوڈیا پر صرف 4 برس حکومت کی لیکن اس مختصر ترین عرصے میں انسانی تاریخ کا بدترین قتل عام کیا۔ اس کے اقدامات اور احکامات کی بنا پر کم سے کم 10 لاکھ شہری حراستی مراکز میں جبری مشقت کے دوران ہلاک ہوئے۔ اسی طرح عراق کے آمر صدام حسین کے دور میں 5 سے 10 لاکھ عراقی ہلاک کیے گئے، جن میں اکثریت کردوں کی تھی۔ مائوزے تنگ کے دور کا حساب لگانے بیٹھیں تو وہاں بھی کچھ ایسا عالم رہا کہ 'کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائیں'۔

ایتھوپیا کے آمر مینجسیٹو ماریم نے اپنے 5 لاکھ شہریوں کو قتل کرایا۔ شمالی کوریا کے آمر کم جونگ دوم کے دور میں اس کی غلط غذائی پالیسیوں کی وجہ سے بھیانک قحط پڑا۔ احتجاج کو کچلنے کے لیے قتل عام کا سہارا لیا گیا۔ یوں بھوک سے ہلاک ہونے والوں اور احتجاج کے دوران مارے جانے والوں کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچتی ہے۔ یوگنڈا کے آمر عیدی امین اپنے ملک میں احتجاج اور بغاوت کو کچلنے کے دوران تقریباً 5 لاکھ افراد کی ہلاکت کا سبب بنا۔ زمبابوے کے آمر رابرٹ موگابے کے دور حکومت میں 30 لاکھ شہریوں کا قتل عام ہوا۔ موصوف کو جمہوری طور پر 'منتخب' ہونے کا بھی شوق تھا، چنانچہ انھوں نے انتخابات کرائے۔ ایک صوبہ ایسا بھی تھا جہاں انھیں ایک بھی ووٹ نہ ڈالا گیا۔ اس ''نافرمانی'' نے موگابے کو اس قدر برافروختہ کیا کہ اس صوبے کے 20 ہزار افراد کو مختلف الزامات لگا کر ہلاک کر دیا گیا۔ 1913ء سے 1918ء کے درمیان ترکی کے فوجی آمر انور پاشا نے ملک پر 5 برس حکومت کی جس دوران 10 لاکھ شہری قتل کیے گئے۔ ان میں آرمینیا کے عیسائی باشندوں کا درد ناک قتل عام بھی شامل تھا۔ اسی طرح نائیجیریا کے وحشی فوجی آمر یاکابوگووان کی فوجی کارروائیوں اور پڑوسیوں سے لڑائیوں کے سبب نائیجیریا کے 10 لاکھ شہری زندگی سے محروم ہوئے۔

ہم پاکستانیوں نے 4 آمروں کے زیرسایہ اپنی زندگی کے دن گزارے۔ یہ وہ زمانے ہیں جن میں قومی سلامتی کے نام پر مغربی اور مشرقی پاکستان کے شہریوں کے درمیان شدید نوعیت کا امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ جمہوری جدوجہد کو بے دردری سے کچلا گیا۔ بلوچوں کے خلاف ظلم ڈھائے گئے۔ ضیاء الحق نے 'اسلام' کی آڑ میں اقتدار پر قبضہ کیا اور ملک کے وسیع المشرب سماج کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس رویے نے اس انتہا پسندی کو جنم دیا جس کی فصل ہم آج بھی کاٹ رہے ہیں ۔ تزویراتی گہرائی کے شوق میں انھوں نے افغانستان اور پاکستان دونوں کو تہس نہس کر دیا۔ ہمارے چوتھے اور اب تک کے آخری آمر جو ''روشن خیالی'' کا نام لیتے ہوئے آئے تھے انھوں نے ہمیں اس تاریک دورمیں دھکیل دیا جس کی دلدل سے باہر آنے کے لیے ہم 2008ء سے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ آمریت کے یہ مختلف رنگ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور ان کی تباہی سے گزرے ہیں۔ آج بھی ہمارے لوگ ان چار آمریتوں کے 'عطا کردہ' معاشی، اقتصادی، سماجی اور نفسیاتی مسائل کے چنگل میں پھنسے پھڑپھڑاتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں جب بعض افراد ہمیں 'آمریت' کی فیوض و برکات سے 'آگاہ' کرتے ہیں، غذائی اجناس اور عوامی خدمات کی قیمتوں میں اضافے کی دہائی دیتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی منتخب حکومتوں سے کہیں بہتر جنرل پرویز مشرف کی آمریت تھی تو جی چاہتا ہے کہ ان لوگوں سے کہا جائے کہ وہ اس محروم اور مجبور قوم کے حال پر رحم کریں اور ان آمروں کی قصیدہ خوانی ترک کر دیں جنھوں نے اس ملک کو تباہ برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایسے ہی موقعوں پر کسی کا کہا ہوا یہ جملہ یاد آتا ہے کہ 'جو لوگ آمر سے محبت کرتے ہیں، یا عام لوگوں کے دلوں میں اس کی تعظیم و تکریم کا بیج کاشت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، آمر سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

یہ سب کچھ لکھتے ہوئے مجھے ایک نوجوان ترک ادیب یاد آ رہا ہے جو ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوا۔ باپ سینیٹ کے رکن تھے۔ اس نے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جب واپس آیا تو معاشیات میں اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ایک ادیب بنے گا۔ یہ وہ وقت تھا جب ترکی کو فوجی آمریتوں کا ذائقہ چکھتے ہوئے بہت دن ہو گئے تھے۔ اس نے اپنا سفر شاعری سے شروع کیا۔ پھر افسانوں، ناولوں اور ڈراموں کے لیے مشہور ہوا۔ اس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی آمریت ہو، وہاں جلد یا بہ دیر وہ وقت آ ہی جاتا ہے کہ جب لوگ یک زبان ہوکر یہ گیت گاتے ہیں کہ، جناب آمر مطلق! الوداع!

آمر کی رخصت ایک عالمی قانون اور یہ ایک عالمی گیت ہے۔ ہم اس وداعی گیت کو گا چکے لیکن ہمیں ان لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو آج بھی آمروں کے قصیدے پڑھتے ہیں۔

مقبول خبریں