’’میں اب تک غلام ہوں‘‘
آپ مجھ پر مایوسی کا جتنا الزام بھی چاہیں لگائیں مجھے قبول ہےکیونکہ اس گھپ اندھیرےمیں اگرہماری عدلیہ عظمیٰ کاچراغ نہ...
آپ مجھ پر مایوسی کا جتنا الزام بھی چاہیں لگائیں مجھے قبول ہے کیونکہ اس گھپ اندھیرے میں اگر ہماری عدلیہ عظمیٰ کا چراغ نہ جل رہا ہوتا تو تاریکی میں میرا دم گھٹ چکا ہوتا، اب مجھے دوسری ہلکی سی روشنی اس شمع کی دکھائی دے رہی ہے جو زندہ رہنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ ہے ہماری موجودہ حکومت جو دیوانہ وار قومی مسائل پر ٹوٹ پڑی ہے، نتیجہ اللہ جانے لیکن سپریم کورٹ جس کا اردو میڈیم نام عدالت عظمیٰ ہے، اس نے قوم کی رہنمائی کا فرض سنبھال لیا ہے۔ آئین اور قانون میں یہ ادارہ انتہائی با اختیار ہے لیکن امریکا کے ایک سابق حکمران کے بقول عمل تو ہم نے کرنا ہے، وہ جو چاہے فیصلے کرتا رہے مگر پاکستان میں سوائے فوج کے سول حکومت چونکہ اتنی مضبوط نہیں کہ عدلیہ کی کھلی حکم عدولی کر سکے اس لیے عدلیہ کے احکامات فیصلے اور ریمارکس میڈیا کے ذریعے عوام تک باقاعدہ پہنچ رہے ہیں۔
لاپتہ لوگوں کے مقدمے میں عدلیہ نے ہماری پوری تاریخ بیان کر دی ہے اور سچ کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ تازہ ترین واقعہ یہ بیان کیا ہے کہ ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ انھوں نے اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈی نیٹر سے ملاقات کا وقت لیا، انھیں ڈھائی گھنٹہ تک دفتر کے لان میں کھڑا رکھا گیا لیکن پھر بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ کے ایک جج جناب جسٹس جواد نے اس پر کہا کہ ایک ذمے دار افسر کو تفتیش کے لیے بھیجا گیا لیکن ان کے ساتھ یہ سلوک ریاست کی توہین ہے۔ ہماری یہ بے عزتی کسی امریکا برطانیہ یا دوسرے ملک میں نہیں ہوئی، اپنے ملک میں ہوئی ہے، فاضل جج نے شدید برہم ہو کر وہ بات کہہ دی جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے فرمایا کہ مجھے تو شک ہے کہ کیا ہم واقعی 1947ء میں آزاد ہو گئے تھے، لگتا ہے ہم آج بھی ایک کالونی اور نو آبادی ہیں اور کوئی ریذیڈنٹ اسلام آباد بیٹھا ہوا پاکستان چلا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کو ہر روز اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے سول حکام سے واسطہ پڑتا ہے اور عمل نہ کرنے پر عدلیہ سخت سرزنش بھی کرتی ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے ادارے کی بات ہے لیکن ہم نے چونکہ ملک کو کسی آئی ایم ایف وغیرہ میں گروی کر رکھا ہے اور اقوام متحدہ سے زیادہ ہماری اس پوزیشن کو کون سمجھتا ہے اس لیے وہ ہمارے ایک بڑے افسر کو باہر لان میں کھڑا کر کے بھول گئے اور پھر اسی حالت میں واپس بھجوا دیا۔ جناب جسٹس خواجہ جواد سے میرا جتنا غائبانہ تعارف ہے وہ ایک حب وطن سے سرشار اور بے نیاز منصف کا ہے۔ محترم جج صاحب ہماری وادی سون میں پہاڑوں میں چھپے ہوئے مزاروں تک پیدل سفر کرتے ہیں اور اپنے مزاج کے مطابق سکون قلب تلاش کرتے ہیں۔ ایک ایسا شخص قومی معاملات میں لگی لپٹی نہیں رکھ سکتا۔ انھوں نے بالکل سچ کہا اور قوم سے سوال کیا کہ کیا ہم واقعی آزاد ہو گئے ہیں۔
اگر ہمارے جعلی حکمران جن کے دل و دماغ مغرب سے مرعوب تھے اور مرعوب کیا تھے ان کے پاس ہی تھے انھوں نے ہمیں اپنی غلامی میں لے لیا اور پتہ ہی نہیں چلنے دیا کہ ہم آزاد ہو چکے ہیں۔ میں نے ایک سرکس والے سے پوچھا کہ تم شیر کو کیسے قابو رکھتے ہو۔ اس نے بتایا کہ ہم شیر کے بچے لیتے ہیں اور اس کے بعد انھیں پتہ ہی نہیں چلنے دیتے کہ وہ شیر ہیں۔ انھیں بلی بنا دیتے ہیں۔ ہماری حکمران اشرافیہ نے ہمیں بھی بلی بنا کر رکھا ہوا ہے اور ہماری کہیں بھی کوئی عزت نہیں ہے۔ میں آپ کو ایک حیرت انگیز واقعہ سناتا ہوں جو پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ موجودہ ملکہ برطانیہ عظمیٰ جب پچھلی دفعہ اور آخری دفعہ پاکستان تشریف لائیں تو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی عمارت میں انھوں نے اس وقت کے ہمارے سینیٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کے اسپیکر دونوں کو شرف باریابی بخشا۔
پاکستان کے دونوں ایوانوں کے سربراہوں نے دست بستہ عرض کیا کہ ہم تو اب تک آپ کو اپنی ملکہ اور خود کو آپ کی رعایا سمجھتے ہیں۔ اس ملاقات کی خبر ایک انگریزی اخبار کے اسلام آباد ایڈیشن میں چھپی، ایک دن تو میں نیم بے ہوشی یا پاگل پن کی حالت میں اس خبر کی تصدیق کرتا رہا اور پھر اس کو سچ مان کر اپنا ماتم کرتا ہا۔ یہ دونوں بلند مرتبہ پاکستانی ماشاء اللہ بقید حیات ہیں، ہماری زمین کا بوجھ ہیں اور سوسائٹی میں اونچا مقام رکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ آج تعجب کے ساتھ جب پوچھتا ہے کہ کیا ہم 1947ء میں آزاد ہو گئے تھے تو میرا دل جواب دیتا، جناب والا نہیں۔ ملک کی پوری زندگی ہماری اس غلامی پر گواہ ہے اور ان گواہوں میں ہمارے یہ دونوں سرکردہ پاکستانی بھی شامل ہیں تو خواتین و حضرات اپنی اس غلامی کے اعتراف کے ساتھ میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔