ملکی معیشت میں ترقی اور تنزلی

ادائیگیوں کے توازن کے بگڑنے سے جی ڈی پی میں ترقی کا امکان بھی نیچے گر جاتا ہے


Editorial January 10, 2019
ادائیگیوں کے توازن کے بگڑنے سے جی ڈی پی میں ترقی کا امکان بھی نیچے گر جاتا ہے۔ فوٹو: فائل

بارہویں پنج سالہ منصوبے پر عمل درآمد کرنے میں تیزی لائی جا رہی ہے لیکن اس حوالے سے زیادہ ضروری یہ بات ہے کہ پچھلے پانچ سالہ منصوبے یعنی گیارھویں ترقیاتی منصوبے پر عمل درآمد کا کیا بنا اور اس میں کتنے فیصد کامیابی ہوئی اور نیز اس کی کامیابی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت مسلسل ایسے چکر میں ہے۔

جس کا پہیہ اگر اوپر جاتا ہے تو اگلے ہی لمحے وہ پھر نیچے آ جاتا ہے جب کہ بارھویں منصوبے میں ترقی کا اوسط ہدف5.8 فیصد مقرر کیا گیا۔ لیکن مشاورتی عمل سے جو شرح موصول ہوئی وہ جاری مالی سال کے لیے 6.2 فیصد تھی جب کہ پاکستان اگر جی ڈی پی کی مناسبت سے 4فیصد ترقی کا ہدف بھی پورا کر لیتا ہے تو اسے خوش بختی تصور کیا جائے گا کیونکہ معیشت کا گراف اوپر جانے کی بجائے تیزی سے معکوس سمت میں نیچے گرنے لگا تھا لیکن اس منحوس چکر کو بارھویں پنج سالہ منصوبے میں توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اہم بات یہ کہ گیارھواں پنج سالہ منصوبہ تیار کرنے والے اس حقیقت سے آگاہ تھے، اصل وجہ یہ ہے کہ ادائیگیوں کے توازن کے بگڑنے سے جی ڈی پی میں ترقی کا امکان بھی نیچے گر جاتا ہے۔

اس کا حل یہی ہے کہ درآمدات کی شرح کم سے کم کر کے برآمدات کی شرح میں ممکنہ حد تک اضافہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں میکرو اکنامک استحکام پر توجہ دینی جانی چاہیے۔لیکن صورتحال یہ ہے کہ ڈالر کی قدر میں اضافے اور روپے کی قدر گرنے کے باوجود برآمدات میں افزونی کی صورت برآمد نہیں ہوئی۔اگر اس صورتحال میں کوئی بہتری نہ آئی اور معاملات یونہی چلتے رہے معاشی حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ لیکن یہ پانچ سال پہلے کی بات ہے، آج اگر اس سابقہ منصوبے پر عمل درآمد میں کامیابی کا جائزہ لیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمیں زرعی شعبے میں اختراعات کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ نقد آور فصلوں کی مقدار میں حسب ضرورت اضافہ ہو سکے۔

ان سب حقائق کے پیش نظر بیرونی قرضہ جات کا دباؤ ہماری معیشت کو آگے نکلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس پر قابو پا کر ہی معیشت تیز رفتاری سے ترقی کر سکتی ہے لیکن ابھی تک حکومت بیرونی قرضوں کے دباؤ سے نہیں نکل سکی بلکہ اس دباؤ میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔قرضوں کا بوجھ جب تک کم نہیں ہوتا ملکی معیشت یونہی سسکتی رہے گی۔ گزشتہ پنج سالہ منصوبے کی جزوئیات پر بھی گہرائی سے غور کرنا چاہیے اور اس کے علل و عواقب کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیئے۔

مقبول خبریں