ریل گاڑیوں کی آمد ورفت میں تاخیر کراچی سے کوئی ٹرین روانہ نہ ہوسکی

سیکڑوں مسافروں نے پارکنگ ایریا اور پلیٹ فارم کے گندے فرش پر بیٹھ کر روزہ افطار کیا


کراچی:کینٹ اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں مسافر پریشان بیٹھے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

وفاقی وزیر ریلوے کے بڑے بڑے دعوں کے باوجود ریل گاڑیوں کی آمد رفت میں تاخیر کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

ٹرینوں کی تاخیر 10 سے 14 گھنٹے تک پہنچ گئی ، اندرون ملک جانے والی بہائو الدین ذکریا ایکسپریس کو انجن کی کمی کے باعث منسوخ کر دیا گیا ، کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہونے والی بولان میل کا انجن ایک کلو میٹر کے فاصلے پر فیل ہو گیا ، ریلوے حکام مسافروں کو جواب دینے کے بجائے دفتر بند کر کے فرار ہو جاتے ہیں ، اندرون ملک جانے والے مسافر اپنے بیوی ، بچوں ، والدین اور بھائی بہن کے ہمراہ پلیٹ فارم کے گندے فرش پر بیٹھ کر روزہ افطار کرنے پر مجبور ہوگئے ۔

محکمہ ریلوے نے انجن کی کمی کے باعث ملتان جانے والی بہائو الدین ذکریا ایکسپریس کو منسوخ کرکے76مسافروں سے ٹکٹ واپس لے کر53 ہزار روپے واپس کر دیے، اندرون ملک جانے والی علامہ اقبال ایکسپریس اور پاکستان ایکسپریس رات گئے تک کینٹ اسٹیشن پر کھڑی تھیں تاہم انجن نہ ہونے کے باعث روانہ نہیں کی جا سکی تھیں کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہونے والی بولان میل کا کالا پل کے قریب انجن فیل ہو گیا جس کے باعث بولان میل50 منٹ تک وہاں کھڑی رہی اس کے بعد اسے متبادل انجن کے ذریعے واپس کینٹ اسٹیشن لے جائی گئی جبکہ اتوار کو اندرون ملک سے آنے والی کوئی ٹرین کراچی نہیں پہنچی تھی جس کے باعث کراچی سے بھی کوئی ٹرین اندرون ملک روانہ نہیں ہوئی ، ٹرینوں کی روانگی میں تاخیر کے باعث اندرون ملک جانے والے سیکڑوں مسافروں نے اپنے بیوی بچوں ، والدین اور بہن بھائیوں کے ہمراہ کینٹ اسٹیشن کے باہر پارکنگ ایریا اور پلیٹ فارم کے گندے فرش پر بیٹھ کر روزہ افطار کیا۔



اس موقع پر کینٹ اسٹیشن اور اس کے اطراف میں پولیس کی سرپرستی میں غیر معیاری اشیاء مہنگے داموں فروخت کی جاتی رہیں۔ واضح رہے کہ ریلوے کے وفاقی وزیر نے قلم دان سنبھالتے ہی اعلان کیا تھا کہ اب کوئی ٹرین تاخیر کا شکار نہیں ہو گی اور اگر کوئی ٹرین تاخیر کا شکار ہوئی تو محکمہ کی طرف سے مسافروں کو پینے کا صاف پانی اور کھانے پینے کی اشیا فراہم کی جائیں گی لیکن کھانا پینا تو ایک طرف مسافروں کے بیٹھنے کے لیے بھی معقول انتظام نہیں کیا گیا۔ لاہوراور روہڑی سینمائندگان ایکسپریس کے مطابق صبح 6 بجے لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس کئی گھنٹے تاخیر کا شکار رہی۔ پشاور جانے والی خیبر میل بھی 2 گھنٹے تاخیر سے منزل کی جانب روانہ ہوئی۔

اسی طرح کراچی سے عوام ایکسپریس، تیزگام، علامہ اقبال ایکسپریس اور نائٹ کوچ 2سے 4 گھنٹے تاخیر سے لاہور پہنچیں۔ دریں اثنا8 گھنٹے تاخیر سے روہڑی ریلوے اسٹیشن پہنچنے والی پاکستان ایکسپریس کا انجن فیل ہوگیا۔ متبادل انجن کی فراہمی میں تاخیر پر مسافروں کی بڑی تعداد مشتعل ہو گئی،اسٹیشن ماسٹر کے آفس کا گھیرائو کر لیا۔ مسافروں نے ریلوے ٹریک پر دھرنا دے کر کوئٹہ، ذکریا اور علامہ اقبال ایکسپریس کو روک لیا۔ بعدازاں ریلوے انتظامیہ نے ریلوے پولیس کو طلب کر لیا، متبادل انجن کی فراہمی کی یقین دہانی پر مسافر منتشر ہو گئے۔ جس کے بعد کوئٹہ اور علامہ اقبال ایکسپریس منزل کی جانب روانہ ہوگئیں۔ بعد ازاں 3 گھنٹے بعد متبادل انجن فراہم کر کے پاکستان ایکسپریس کو کراچی روانہ کر دیا گیا۔