سندھ کی ممکنہ مخلوط حکومت کا ایجنڈا

سندھ کی حکومت کی طرف سے ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم سے...


Zaheer Akhter Bedari July 15, 2013
[email protected]

سندھ کی حکومت کی طرف سے ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم سے بات چیت کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔ جس میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، خورشید شاہ اور رحمان ملک شامل ہیں۔ سندھ حکومت نے ایم کیو ایم سے بات چیت کے لیے جو مرحلہ وار حکمت عملی بنائی ہے اس کے مطابق رحمان ملک نے ایم کیو ایم سے ابتدائی بات چیت کی۔ رحمان ملک پچھلے پانچ سالہ دور میں ایم کیو ایم اور سندھ حکومت کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

رحمان ملک کے الطاف حسین کے ساتھ بہت قریبی تعلقات ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رحمان ملک نے ہمیشہ دونوں جماعتوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 11مئی کے الیکشن کے بعد اگرچہ ایم کیوایم ماضی کی طرح سندھ کی دوسری بڑی جماعت ہونے کا اعزاز بڑی حد تک برقرار رکھا ہے لیکن کراچی میں تحریک انصاف کو جو ووٹ ملے ہیں ایم کیو ایم کی قیادت نے یقیناً اس کے مضمرات کا جائزہ لیا ہوگا۔

2008سے 2013تک سندھ کی حکومت تین جماعتوں پر مشتمل رہی پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی، اس مخلوط حکومت کا سارا عرصہ محاذ آرائی، بے اعتمادی میں گزرگیا، جس کی وجہ سے سندھ خصوصاً کراچی میں کوئی قابل ذکر ترقیاتی کام نہ ہوسکے بلکہ کراچی کے عوام کے مسائل میں خاص طورپر اضافہ ہی ہوتا ر ہا، جس کا نتیجہ ووٹروں کی طرف سے ان جماعتوں کے خلاف ناراضگی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اے این پی اس بار سب سے زیادہ نقصان میں رہی۔

ہمارے ملک میں سیاسی اتحاد اور مخلوط حکومتیں بنتی رہتی ہیں۔ یہ روایت پاکستان تک محدود نہیں بلکہ سارے جمہوری ملکوں میں یہ کلچر موجود ہے۔ سیاسی اتحاد اور مخلوط حکومتیں عموماً جلد یا بدیر ناکامی سے دو چار ہوجاتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس قسم کے اتحاد عوامی مفادات کے ایجنڈے کے بجائے ذاتی اور جماعتی مفادات کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام میں ذاتی اور جماعتی مفادات کا قدم قدم پر ٹکراؤ ہوتا رہتاہے اگر کسی سیاسی اتحاد یا مخلوط حکومت کو مستحکم اور بامعنی بنانا ہو تو پھر انھیں ذاتی اور جماعتی مفادات کے بھنور سے نکال کر عوامی مفادات کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا۔ عوامی مفادات پر استوار اتحاد ناکام نہیں ہوسکتے۔

کراچی کو منی پاکستان اور پاکستان کا اقتصادی حب کہاجاتاہے ، پاکستان میں اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی دہشت گردی کی پوری کوشش ہے کہ کراچی میں اس کی بالادستی قائم ہوجائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے دہشت گرد طاقتیں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری ، اغوا برائے تاوان، بینک ڈکیتیوں کے ذریعے دو مقاصد حاصل کررہی ہیں، اول یہ کہ اس شہر کی ڈیڑھ کروڑ آبادی کو اس قدر دہشت زدہ کردیاجائے کہ یہ آبادی ان کے منصوبوں کی راہ میں حائل ہونے کے قابل ہی نہ رہ جائے دوسرا مقصد یہ ہے کہ بڑی بڑی بینک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان کے ذریعے حاصل ہونے والی بھاری رقوم ان کے منصوبوں کی کامیابی میں معاون ثابت ہو اور دہشت گرد طاقتیں اپنے ان دونوں منصوبوں میں بڑی حد تک کامیاب ہورہی ہیں۔

اسی شہر کا سب سے بڑا مسئلہ اس بے لگام دہشت گردی کو روکنا ہے تاکہ شہر میں ترقیاتی کاموں کو حکومت کا حصہ بنانا چاہتی ہے تو اس اتحاد کی پہلی شرط کراچی سے ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان، بینک ڈکیتیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ کراچی کے عوام کا دوسرا بڑا مسئلہ آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی ہے جس نے اس شہر کی آبادی کو بے دست وپا کرکے رکھ دیا ہے حکومتی اقدامات، بجٹ اور آئی ایم ایف سے قرض کے مشروط حصول سے مہنگائی میں جو ناقابل برداشت اضافہ ہوا ہے اس کے علاوہ تاجروں اور صنعت کاروں کی پیدا کردہ مصنوعی مہنگائی نے عوام کی زندگی کو جس طرح جہنم میں بدل کر رکھ دیا ہے، اسے ایک منصوبہ بند اور سخت انتظامی اقدامات کے ذریعے روکنا اس ممکنہ اتحاد کا دوسرا نکتہ ہونا چاہیے۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینادو بھر کردیا ہے۔

مرکزی حکومت اس حوالے سے جو دیر طلب اقدامات کررہی ہے اس کے علاوہ حکومت سندھ کراچی کی اقتصادی اہمیت کے حوالے سے بجلی، گیس کی لوڈ شیڈنگ میں ممکنہ حد تک کمی کے لیے مرکز سے خصوصی رعایت حاصل کرے، یہ اس ممکنہ اتحاد کی تیسری شرط ہونی چاہیے۔ شہر میں عوام کو ٹرانسپورٹ کی شدید دشواریوں کا سامنا ہے ہمارے محترم وزیراعلیٰ نے اس حوالے سے جس سرکلر ریلوے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے اس پر عمل درآمد کے لیے پانچ سال کا عرصہ درکار ہے اور اس طویل عرصے تک عوام ٹرانسپورٹ کی دشواریوں کا عذاب نہیں سہ سکتے۔ اس شہر کی ٹرانسپورٹ مشکلات کو کم کرنے کے لیے کم از کم دو سو بسوں کی فوری خریداری کا ہنگامی بنیاد پر انتظام ہونا چاہیے۔

یہ اس ممکنہ مخلوط حکومت کے ایجنڈے کا تیسرا آئٹم ہونا چاہیے۔ کراچی جیسے شہر میں پولیس کا جوکردار ہونا چاہیے کراچی پولیس یہ کردار ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور موجودہ انتظامی ڈھانچے میں پولیس یہ کردار ادا نہیں کرسکتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کیاجائے اس حوالے سے پہلا قدم پولیس نے تعلیم یافتہ غیر سیاسی نوجوانوں کی بھرتی اور ان کی جدید خطوط پر تربیت ممکنہ مخلوط حکومت کے ایجنڈے کی یہ چوتھی شق ہونی چاہیے۔

اس سے کراچی کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کم کرنے مدد مل سکتی ۔کراچی میں واٹر سپلائی اور سیوریج کا نظام انتہائی فرسودہ ہے اسے جدید اور فعال نظام میں تبدیل کرنا مخلوط حکومت کے ایجنڈے کا پانچواں نکتہ ہونا چاہیے۔ کراچی میں ترقیاتی کام ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں انفرااسٹرکچر سمیت مختلف ترقیاتی کاموں کے لیے سندھ حکومت کو غیر ملکی امداد اور سرمایہ کاری کے لیے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی طرح فعال ہونا چاہیے۔ یہ ممکنہ مخلوط حکومت کا چھٹا آئٹم ہونا چاہیے۔ بلدیاتی انتخابات کا بلا تاخیر انعقاد ممکنہ مخلوط حکومت کے ایجنڈے کا ساتواں رکن ہونا چاہیے۔ اگر اس ایجنڈے کے ساتھ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت بنتی ہے تو یہی امید ہے کہ یہ مخلوط حکومت نہ صرف ٹوٹ پھوٹ اور محاذ آرائی سے بچی رہے گی بلکہ عوام کی دوبارہ توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے گی۔

انتخابی سیاست کے حوالے سے سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم اس لیے بن گئے ہیں کہ سندھ کے شہری علاقوں میں 1988 سے 2013 تک ایم کیو ایم کو بالادستی حاصل رہی ہے اور سندھ کے دیہی علاقوں میں پی پی پی کامیاب ہوتی چلی آرہی ہے اس صورت حال میں دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد اور اعتماد سندھ کے عوام کی ترقی میں معاون ثابت ہوسکتاہے اور اختلاف سندھ کے عوام کے مفادات کو نقصان پہنچاسکتاہے۔

2013کے انتخابات کے بعد ایم کیو ایم نے سندھ اور مرکز میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا اس فیصلے سے سندھ کی پی پی پی حکومت یوں پریشان ہے کہ سیاست میں سندھ کے شہری علاقوں کی بہت اہمیت ہے اگر شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت اپوزیشن میں بیٹھتی ہے تو یقیناً سندھ کی حکومت کو نہ صرف شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ اس حوالے سے سندھ کے مسائل حل نہ کرنے کی پوری ذمے داری بھی پی پی پی پر عائد ہوگی۔ غالباً یہی وہ احساس ہے جس کی وجہ سے سندھ کی حکومت اور آصف علی زرداری ایم کیو ایم کو سندھ کی حکومت میں شامل کرنے کے جتن کررہے ہیں۔

وڈیرہ شاہی جمہوریت میں سیاسی عدم استحکام ایک لازم امر اس لیے ہوتا ہے کہ اس جمہوریت میں عوامی مفادات کو نظر انداز کرکے ذاتی اور جماعتی مفادات کو اولیت دی جاتی ہے اور ذاتی اور جماعتی مفادات کا قسم قسم پر ٹکراؤ لازمی ہوتاہے۔ مثلاً وڈیرہ شاہی جمہوریت میں سیاسی اتحاد ہوں یا حکومتی اتحاد ان کی تشکیل وزارتوں، سفارتوں، ملازمتوں کے کوٹوں، لوٹ مار میں حصے داری پر منحصر ہوتی ہے اور عوام کے مفادات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

اگر پاکستان کے سیاسی اتحادوں اور مخلوط حکومتوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتاہے کہ یہ اتحاد یہ مخلوط حکومتیں اس لیے ناکام ہوتی رہیں کہ ان کی بنیاد عوامی مفادات اور ترقی کے پروگراموں کے بجائے ذاتی اور جماعتی مفادات اور ذاتی اور جماعتی لوٹ مار پر رکھی جاتی رہی ہے اور ذاتی اور جماعتی مفادات قدم قدم پر ٹکراتے رہتے ہیں۔ جسے بڑی اور خوبصورتی سے سیاسی اور اصولی اختلافات کے غلاف میں چھپایا جاتاہے۔

مقبول خبریں