وزراء کی نکتہ آفرینیاں
لکھنا تو پاکستانی حج کے بارے میں تھا لیکن چند سرکاری لطیفے سامنے آ گئے ہیں جو کل پرسوں پرانے ہو سکتے ہیں، اس لیے ...
لکھنا تو پاکستانی حج کے بارے میں تھا لیکن چند سرکاری لطیفے سامنے آ گئے ہیں جو کل پرسوں پرانے ہو سکتے ہیں، اس لیے آپ کے لیے ان کا فوری ذکر ضروری ہے۔ میرے لیڈر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی کابینہ کی بچہ پارٹی کے چند فی البدیہہ ایسے ارشادات سامنے آئے ہیں کہ ان سے ان کی ذہانت اور ذہنی تازگی کا پتہ ملتا ہے جو ہمارے جیسے عوام کے لیے بہت روح افزا اور امیدوں سے لبریز ہے۔
ایک بہت ہی جواں سال وزیر جو صوبے میں خوراک کے معاملے کو دیکھتے ہیں، جب ایک اتوار بازار گئے تو ان پر انکشاف ہوا کہ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے اور عوام اس سے تنگ آچکے ہیں، اس پر جب وہ تفصیلات میں گئے اور معلوم ہوا ہر سالن کا جزو اعظم یعنی ٹماٹر بہت مہنگے ہو گئے ہیں تو ان کے ذہن رسا میں فوراً اس کا حل بھی نکل آیا اور انھوں نے عوام کو اس موقع پر مشورہ دیا کہ وہ ٹماٹر کی جگہ لیموں نچوڑ لیا کریں، اگر ٹماٹر نہیں تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے نہ ہی کوئی ایسی مشکل بات ہے۔ لیموں نچوڑ لیں یا اس میں دہی ڈال دیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔
وزیر نوخیز جب یہ مشورہ دے کر اتوار بازاروں کی مہنگائی کا مسئلہ حل کر رہے تھے تو وہاں موجود ان کے عوام اپنے وزیر کے اس سنہری مشورے سے بہت مطمئن ہو گئے ہوں گے۔ فرانس کی ایک ملکہ نے بھی اپنے عوام کو ایسا ہی نادر نسخہ بتایا تھا، جب وہ اپنے گوناگوں مسئلے لے کر شاہی محل کے سامنے پہنچے اور اونچی سروں میں احتجاج کرنے لگے تو ان کی یہ آواز محل میں موجود ملکہ تک بھی پہنچی گئی۔ اس نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کہتے ہیں۔
بتایا گیا روٹی مانگتے ہیں جو مل نہیں رہی تو ملکہ نے فوراً کہا کہ یہ بسکٹ کیوں نہیں کھا لیتے۔ فرانسیسی ملکہ کا یہ جملہ تو تاریخی ضرب المثل بن گیا لیکن ہمارے وزیر کا لیموں اور دہی والا نسخہ زیادہ نہیں تو پاکستانی تو یاد رکھیں کہ ٹماٹر کی گرانی تو ختم بلکہ نابود ہو گئی کہ اس کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی، مسئلہ ہی حل ہو گیا۔
اس ذہانت اور منطق سے کام لیا جاتا رہا تو ہمارے کتنے ہی ایسے مسائل حل ہو جائیں گے جو موجودہ حکومت کی روح قبض کیے ہوئے ہیں اور وہ اتنے بڑے سرمائے اور وقت کے متقاضی ہیں کہ اب نہ تو اتنا زیادہ سرمایہ موجود ہے کہ خزانہ خالی ہے اور جو ہے وہ ڈار صاحب کی تحویل میں ہے اور اس کے کم و بیش کا حساب وہی جانتے ہیں، وہ ماہر حساب دان ہیں اور نہ ہی اب اتنی فرصت ہے کہ بازار کی غیر معمولی مہنگائی اور اس تپتی گرمی میں بجلی کی بندش کو ختم کرنے کے لیے قوم سے فرصت مانگی جائے اور سابقہ وعدے واپس لیے جائیں۔
ہمارے ایک اور وزیر بھی بے حد سمجھدار، نکتہ سنج اور بلا کی ذہانت کے مالک نکلے ہیں، اس ملک اور حکومت کو سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا لاحق ہے۔ رمضان المبارک کی وجہ سے وہ اس قدر ناقابل برداشت ہو چکا ہے کہ روزوں کے اس مہینے میں صبر اور برداشت سب گم ہو چکی ہیں اور عوام بے بس اور لاچار ہو کر سب دیکھ رہے ہیں اور بھگت رہے ہیں لیکن یہ بے وقوف عوام کی لوڈشیڈنگ یعنی بجلی کی نایابی نہیں ہے بلکہ کچھ اور ہے اور یہ اور کیا ہے اسے ایک وزیر موصوف کی زبانی سنئے۔ انھوں نے کہا ہے سحر و افطار پر بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی''بریک ڈاؤن'' ہوتا ہے۔ لوڈشیڈنگ کا یہ ترجمہ ہمارے بجلی کے وفاقی وزیر جناب خواجہ آصف نے کیا ہے۔ یہ بھی فرمایا ہے کہ جن علاقوں میں بجلی نہیں ہوتی وہاں کے لوگ بل نہیں دیتے۔ حیرت ہے کہ ہمارے وزیر ایک مہینے کے اقتدار میں ہی اس قدر بدحواس ہو گئے ہیں کہ لوڈشیڈنگ کو بریک ڈاؤن کہتے ہیں، اب آگے آگے دیکھئے وہ کیا کہتے ہیں۔
کھانے پینے کی اشیاء کی گرانی کا مسئلہ ایک وزیر نے حل کر دیا کہ سالن میں ٹماٹر کی جگہ لیموں نچوڑ لو یا دہی ڈال لو۔ ہمارے اس نوخیز وزیر سے شاید کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ لیموں کی قیمت کیا ہے اور دہی کس بھاؤ بک رہی ہے۔ میں نے ایک بار اپنی صحافت کے عنفوان شباب میں بازار کی مہنگائی پر ایک فیچر لکھا اور اپنے ایڈیٹر جناب فیض صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ انھوں نے اسی وقت پڑھ کر مجھے مشورہ دیا کہ برخوردار گھر والوں سے تعلقات اچھے رکھو کہ مجھے آٹے دال کے بھاؤ کا پتہ چلتا رہے۔ میں اس خوشحال نوجوان وزیر کو بھی مشورہ دوں گا کہ وہ بھی گھر والوں یعنی بیرے باورچی وغیرہ سے تعلقات رکھے۔ وزیر خوراک جناب بلال یسین کو ان کے بزرگ بھی یہی مشورہ دیں گے۔
میاں شہباز صاحب کی کابینہ میں وفاق کی طرح نوجوانوں کو حکمرانی کا موقع دیا گیا ہے۔ انھیں ان تازہ ذہنوں سے ضرور اچھائی اوربہتری کی توقعات ہوں گی لیکن فٹ پاتھ پر گپ لڑانے اور جہانبانی میں بہت ہی زیادہ فرق ہوتا ہے اور یہ فرق تعلیم نیک مشوروں اور محنت سے ہی دور ہو سکتا ہے۔ محض وزارت کا حلف اٹھانے سے انسانی شعور میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ حلف وزارت کے الفاظ میں علم کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ حلف کے جو الفاظ بھی ہوتے ہیں وہ فی الفور بھول جانے کے لیے ہوتے ہیں۔
اگر یہ یاد رہیں تو ضمیر کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں، ملامت کرتے ہیں۔ ہم نے ان حلف ناموں کو بلند آواز میں پڑھتے ہوئے بہت سنا اور پھر وہیں ردی کی ٹوکری میں انھیں لڑتے مرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بات دو وزراء کی ہو رہی تھی اور ان کی نکتہ آفرینی کی۔ موجودہ حکومت کی کامیابی کا جس قدر میں طالب ہوں اتنے شاید خود حکمران بھی نہ ہوں، وجہ کئی بار بیان کر چکا ہوں کہ اس شکستہ ملک کو بچانا ہے اور یہ بچوں کا کھیل نہیں میاں صاحب۔ اس پر توجہ دیں ہم عوام کہاں جائیں گے۔ شکریہ!