بھارت میں پاکستانی سفارت کاروں کی گرفتاری

خطے میں بھارت کی یکطرفی جنگی مہم جوئی سے خطے کے امن کو خطرات سے دوچار سمجھتے ہیں


Editorial January 15, 2019
خطے میں بھارت کی یکطرفی جنگی مہم جوئی سے خطے کے امن کو خطرات سے دوچار سمجھتے ہیں۔ فوٹو: فائل

بھارت میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے اور دوران ڈیوٹی ان کا پیچھا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اخباری اطلاع کے مطابق اتوار کی صبح بھی پاکستان ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے گرفتار کرکے کئی گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھا۔

پاک بھارت کشیدگی کی تاریخ سے قطع نظر دیگر الزامات اور اشتعال انگیز کارروائیوں کے سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کے مختلف النوع الزامات ، دھمکیوں، گیدڑ بھبھکیوں اور احتجاجی مکتوب دینے سے عبارت رہی ہے، بھارت کا ٹریک ریکارڈ اس ضمن میں خاصا افسوسناک رہا ہے ، بالخصوص نریندر مودی کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پاک بھارت تعلقات میں کم از کم بلاجواز رعونت، اشتعال انگیزی اور کشیدگی در آئی ہے جو بادی النظر میں بھارتی پالیسیوں میں جنگی جنون کی تپش کے تسلسل کا عندیہ دیتی ہے، یہ بات ان بھارتی دانشوروں، سابق دفاعی ماہرین، سابق آرمی چیفس اور میڈیا کے سنجیدہ حلقوں کی طرف سے کی گئی جو خطے میں بھارت کی یکطرفی جنگی مہم جوئی سے خطے کے امن کو خطرات سے دوچار سمجھتے ہیں۔

مثلاً سفارت کاروں کی ہراسمنٹ کو لے لیں، بھارت اب تک متعدد بار پاکستانی سفارت کاروں ،اس کے عملہ اور بچوں کو خوف وہراس میں مبتلا کرنے کے ڈرامے کرچکا ہے، بھارتی طریقہ واردات ہمیشہ سفارت کاروں کی ہراسمنٹ کے کارڈ کو خیر اخلاقی انداز میں اچھالنے سے منسلک رہا اور کوشش یہ ہوتی رہی کہ بھارتی جنگی جنون اور مقبوضہ کشمیر اور کنٹرول لائن کے تناظر میں صورت حال کے الاؤ کو مستقل مخاصمانہ اور سفارتی آداب و روایات سے متصادم رکھا جائے۔ گزشتہ روز کے واقعہ کی کیمسٹری بھی اس سے ملتی جلتی ہے، سفارتی ذرایع کے مطابق پاکستانی حکام نے معاملہ فوراً نئی دہلی میں بھارتی حکام سے اٹھایا جس کے بعد پاکستانی سفارتکار کو رہا کر دیا گیا ، جس سے واقعاتی صداقت بھارت کے خلاف گئی، اگر پاکستانی سفارت کار کے خالف ٹھوس مواد اور شواہد ہوتے تو اسی دن رہائی کی کیا ضرورت پیش آئی ، پس ثابت ہوا کہ مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھا، سفارتی ذرایع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتی اہلکار کو حبس بجا میں رکھا گیا جب کہ پاکستان کے شدید ردعمل اور اعلیٰ حکام سے رابطے کے بعد سفارتی اہلکار کی رہائی کئی گھنٹے بعد عمل میں آئی۔میڈیا کے مطابق سفارتی اہلکار سے ایک دستاویز پر زبردستی دستخط بھی کرائے گئے۔

یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ دستاویزات کیا تھیں اور ان پر دستخط کرانے کا کیا مقصد تھا۔ سفارتی ذرایع کے مطابق پاکستان کی جانب سے سفارتی اہلکار کی گرفتاری اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا گیا۔ ادھردفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایسی کسی بھی حرکت پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ حقیقت میں مودی حکومت محاورتاً ندی کے پانی کو دیدہ و دانستہ گندا کرنے کے الزام پر پاکستان کو جنگی چالوں میں گھسیٹنے کی سازش میں مصروف ہے، ادھر بھارتی آرمی چیف سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی دیتا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں لگاتار بربریت اور انسانیت سوز مظالم ذریعہ کشمیریوں کی جدوجہد کو کچلنے میں بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑاتا ہے۔

ان امن دشمن کارروائیوں کے خلاف تنقید بھارتی کانگریس کے ایک لیڈر منیش تیواڑی نے کی ہے ، ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جب دہشت گردانہ حملہ ہوا ہی نہیں تو پھر سرجیکل اسٹرائیک کیوں کرنی پڑ گئی؟ عالمی برادری کو بھارتی عزائم اور خطے کو لاحق خطرات کے حوالے سے اپنی خاموشی کا طلسم توڑنا پڑے گا، بھارت حکومت کی طرف سے پاکستانی سفارت کاروں کی گرفتاری کسی گھناؤنے منصوبہ کا پتا دیتی ہے، وہ کسی بہانے کی تلاش میں ہے، وہ پاکستان کی امن و مذاکرات کی پیشکش اور بیانات کو اس کی کمزوری نہ سمجھے، اتوار کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے شہید نوجوانوں زینت الاسلام اور شکیل احمد ڈار کی نماز جنازہ کے شرکا پر گولیوں، پیلٹ اور آنسو گیس کے گولوں کا بے دریغ استعمال کیا جس کے باعث ایک خاتون سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ گولیاں اور پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے12 افراد کو علاج کے لیے اسپتال پہنچایا گیا۔ قابض بھارتی فورسز کی وحشیانہ کارروائی کے خلاف جنوبی کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے سبب نماز جنازہ متعدد مرتبہ ادا کی گئی۔ شہید نوجوانوں کو آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعروں کی گونج میں سپرد خاک کیا گیا۔بھارت سرکار عقل کے ناخن لے، اسے سفارت کارانہ tussle کے حیلے بہانوں ، کنٹرول لائن پر کشیدگی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بجائے مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی طرف لوٹنا چاہیے۔ اکیسویں صدی بھارتی بربریت کی خوں آشامی کو ریکارڈ کررہی ہے، پاکستان پر جنگ تھوپنے کی دیوانگی سے اجتناب وقت کا صائب فیصلہ ہے، سفارت کاروں کی ہراسمنٹ سے کام نہیں چلے گا اور نہ اکنامسٹ کے بقول 2016 ء میں طے شدہ بھارتی ''پاکستان پالیسی'' پاکستان کو کوئی گزند پہنچا سکے گی ، مودی وقت کے مخالف دھارے میں تیرنے سے گریز کریں، اسی میں خطے کا مفاد ہے۔

مقبول خبریں