افغان امن عمل میں ٹرمپ کارڈ کی ضرورت

افغان طالبان زلمے خلیل زاد سے ملاقات نہیں کریں گے


Editorial January 22, 2019
افغان طالبان زلمے خلیل زاد سے ملاقات نہیں کریں گے

افغانستان میں پاک امریکا تعلقات کے وسیع تر تناظر میں قیام امن کے امکانات پر پیش رفت سنجیدہ و معنی خیز انداز میں جاری ہے، وزیر اعظم عمران خان نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم سے ملاقات میں کہا ہے کہ افغانستان پر امریکا سے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، پڑوسی ممالک سے حالات معمول پر لاکر علاقائی تعاون سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ تاہم افغان مسئلے کے حل اور طالبان کو بات چیت کی میز تک لانے اور خطے میں امن کے لیے فریقین کو دلیرانہ فیصلے کرنا پڑیں گے، طالبان کی حقیقت تسلیم اور ان کے جائز مطالبات مان لیے جائیں تو پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے۔ افغان ایشو کے ماہرین کے مطابق زمینی حقائق کے پیش نظر اب فریقین کو غیر مشروط طور پر نتیجہ خیز مذاکرات کا حصہ بننا چاہیے۔

گزشتہ روز امریکا کے ایک اہم اور پاکستان کے معاملات کا گہرا ادراک رکھنے والے سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ پاک فوج نے اٹھارہ ماہ میں جوکام کیا ہے وہ امریکا کی اٹھارہ سال سے خواہش تھی ۔ ان کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ''لواوردو''کے اصول کے تحت تعلقات غلط ہیں، امریکا کی یہ غلطی ہے کہ پاکستان کے لیے پالیسی بار بار تبدیل کرتے رہے۔

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے وزیراعظم عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قبل بھی وہ سینیٹر جان مکین کے ساتھ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے اور صدر ٹرمپ کو ان ملاقاتوں سے متعلق آگاہ کروںگا۔ انھوں نے کہا کہ ٹرائبل ایریا میں پاک آرمی کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ پاکستانی سرحد کے اطراف فینسنگ ایک اچھا اقدام ہے۔ پاکستان کے پاس سرحد محفوظ کرنے کی حکمت عملی ہے کاش ایسا افغانستان میں بھی ہوتا۔ سینیٹرگراہم کا کہنا ہے کہ اب افغانستان میں امن بحال کرنے کا وقت ہے، افغانستان کے عوام بہتر حالات کے مستحق ہیں ، ہم افغانستان سے دور نہیں جا سکتے یہاں بہت کچھ کرنا ہے، میں نے مثبت سمت میں چیزوں کو دیکھا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے جسے مزید بہتر بنانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں مستحکم حالات ہمارے بھی مفاد میں ہے، ہم افغانستان کو نہیں کھو سکتے، ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان دوبارہ شدت پسندوں کے ہاتھوں میں چلا جائے، پاک فوج کو دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر گراہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم ، افغان صدراورامریکی صدر کی ملاقات وقت کی ضرورت ہے، طالبان مذاکرات کے حوالے سے پاکستان موثرکردار ادا کر سکتا ہے۔ طالبان کے ساتھ مفاہمت کے بعد بھی ہمارا تعلق پاکستان کے ساتھ رہے گا۔ طالبان کا طاقت کے ذریعے افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کے ساتھ مشترکہ ملٹری آپریشن گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، عبوری سے اسٹرٹیجک تعلقات کی طرف جانا ہو گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کے لیے معاشی ترقی کے مواقعے پیدا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں امریکا کو پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کا اچھا موقع ہے ۔ داعش اور القاعدہ کے خلاف خطے میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں گے۔ ادھر امریکی نمایندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم، وزیرخارجہ،سیکریٹری خارجہ،آرمی چیف سے ملاقاتیں کیں، فریقین نے افغان امن عمل میں پیشرفت کے لیے جدوجہد پر اتفاق کیا، زلمے خلیل زاد نے زور دیا کہ خطے کے تمام ممالک کو افغانستان میں امن کا فائدہ ہوگا۔امریکی صدر کے نمایندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد افغان امن کے لیے کوشاں ہیں۔

ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کے کلیدی کردار کی مدد سے طالبان ، افغان اور امریکی مساعی کا کوئی حتمی نتیجہ نکلے، چین اور قطر بھی امن عمل کی کامیابی میں کردارادا کرنے پر تیار ہیں ،اب ضرورت طالبان کی مکمل آمادگی کی ہے کیونکہ افغان مسئلہ کے اہم فریق طالبان ہی ہیں ۔ امریکی سفارتخانے کی جانب سے اعلا میہ جاری کیا گیا جس کے مطابق زلمے خلیل زاد نے 17تا20 جنوری پاکستان کا دورہ کیا جو دسمبر میں کیے گئے دورہ پاکستان کا تسلسل تھا، کوشش یہی تھی کہ مسئلہ کا کوئی حل نکل آئے، کوئی بریک تھرو ہوجائے۔

ترجمان امریکی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں دونوں طرف سے افغان عمل میں تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی، زلمے خلیل زاد نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں امن سے تمام خطے کے ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔البتہ مبصرین کاکہنا ہے کہ افغان گمبھیرتا میں امریکی انخلا کے ہونے یا نہ ہونے کا معمہ بھی ہے، ٹرمپ امریکی افواج کے انخلاء کا عندیہ دے چکے ہیں مگر جنرلز اور امریکی عہدیدار کہتے ہیں کہ ہم افغانستان سے نکلے تو خطہ آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آجائے گا۔ ادھر افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ اگر طالبان چاہتے ہیں کہ ان کی نمایندگی پاکستان کرے تو افغان حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر تیار ہے جب کہ افغان صدارتی الیکشن سے پہلے عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے۔ واضح رہے کہ اشرف غنی کا تازہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ان کی اقتصادی ٹیم سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار دوست پالیسیوں کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے، امریکی کمپنیاں بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں سینیٹر گراہم نے افغانستان میں سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے حالیہ جاری کوششوں میں پاکستان کے مثبت کردارکوسراہا۔ انھوں نے معیشت کی بہتری، بدعنوانی کے خاتمے اور پاکستانی عوام کے لیے ملازمتوںکے مواقعے تخلیق کرنے ، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کومعمول پر لانے کے لیے وزیراعظم کی کوششوںکوسراہا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اورامریکا کے درمیان تاریخی روابط کے حوالے سے دونوں اطراف نے باہمی اقتصادی تعاون بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبہ میں تعاون اور تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پراتفاق کیا۔ بعدازاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی سینیٹر لِنڈسے گراہم سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال سمیت اہم علاقائی اورعالمی امور پرگفتگوکی۔

بہر کیف افغان طالبان کے موقف کو جاننے کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے، خبروں کے مطابق امریکی نمایندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے طالبان نے پاکستان میں مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے، غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کی سینئر قیادت نے واضح کیا کہ پاکستان سمیت خطے کے دیگرملکوں نے رابطہ کیا ہے لیکن افغان طالبان زلمے خلیل زاد سے ملاقات نہیں کریں گے۔

افغان حکومت سے کوئی بات نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ مطالبات پورے کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی۔امریکا سے صرف افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا، قیدیوں کے تبادلے اور تحریک طالبان افغانستان پر پابندی ختم کرنے کے مطالبات پر ہی بات ہوگی۔ لہذا اسٹیک ہولڈرز بات چیت کے متفقہ ایجنڈے کے جو مختلف النوع اشارے دے رہے ہیں ان سے کنفیوژن پھیلتا ہے،طالبان نے امریکا سے مکالمے کی شروعات کی ہیں مگر اس کا یہ اصرار کہ افغان حکومت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے تو مسئلہ پھر گھوم پھر کے اسی نکتے پر آجائیگا کہ طالبان کی رضامندی کیسے حاصل کی جائے۔کیا امریکی صدر اپنا ٹرمپ کارڈ نہیں کھیل سکتے؟

مقبول خبریں