پشتون لیڈر شپ کوئٹہ سے ایک خط

داغ سب کے دامنوں پر ہیں، ہم نے تو صرف کم داغوں کی بات کی تھی۔


Saad Ulllah Jaan Baraq July 18, 2013
[email protected]

پچھلے دنوں ہم نے پشتون لیڈر شپ کے سلسلے میں اسفندیار ولی خان، آفتاب شیر پاؤ اور محمود خان اچکزئی کا ایک سرسری سا موزانہ کیا تھا۔ سرسری پر بہت زیادہ ''زور'' اس لیے ہے کہ وہ کالم انتخابات کے قطعی اپ سیٹ نتائج کا ردعمل تھا، اس میں ہم نے نہ تو اسفندیار ولی خان کو ھمہ صفت موضوع کہا تھا نہ محمود خان اچکزئی کو کوثر و تسنیم کا دُھلا ہوا بیان کیا تھا اور نہ ہی آفتاب شیر پاؤ کو قوم پرست لیڈر کا تاج پہنایا تھا بلکہ تینوں کی کچھ نمایاں خصوصیتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان حالات میں صرف محمود خان اچکزئی ایک ایسا لیڈر ہے جن پر بطور پشتون لیڈر اتفاق کیا جا سکتا ہے،

اس کے جواب میں کوئٹہ سے ہمارے ایک قدر دان قاری دروند پشتون نے ہمیں ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے جس میں ہماری باتوں کو غلط قرار دے کر ان لیڈروں کا پوسٹ مارٹم کیا ہے جس سے ہمیں مکمل اتفاق ہے کیونکہ حقیقت میں قوم، قومی سیاست اور خدمت وغیرہ سب باتیں ہوتی ہیں، اصل منزل و مرام سب کی کرسی ہوتی ہے، کرسی پسندی یا کرسی پرستی کی اس بیماری سے کوئی بھی بچا ہوا نہیں ہے۔ ہمارا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ ''حاضر اسٹاک'' میں کون سا دانہ نسبتاً قابل ترجیح ہو سکتا ہے اور محمود خان اچکزئی کے بارے میں ہماری اب بھی وہی رائے ہے لیکن اس رائے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہم محمود خان اچکزئی کو دودھ کا دھلا ہوا سمجھتے ہیں۔

داغ سب کے دامنوں پر ہیں، ہم نے تو صرف کم داغوں کی بات کی تھی۔ مکتوب نگار نے کھل کر بتایا نہیں لیکن بین السطور سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب بھی اسفندیار ولی خان ہی کو ان سب پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہماری بھی کئی پُشتوں سے یہی رائے اور خیال تھا بلکہ اگر اب بھی اسفندیار کو جاہ پسندوں کے قبضے سے چھڑایا جا سکے تو پشتون لیڈر شپ کی پگڑی باندھ سکتے ہیں۔ ذاتی طور پر انتہائی کم زور ہونے کے باوجود جس گھرانے سے اس کا تعلق ہے، وہ تعلق اسے قابل ترجیح بنا سکتا ہے لیکن کیا کیا جائے کہ وہ اس بری طرح سوداگروں کے نرغے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے ذاتی مفادات کے لیے پشتونوں کو، خدائی خدمت گاروں کو اور باچا خان و ولی خان کو انتہائی ارزاں قیمت پر بیچ ڈالا ہے۔

ان لوگوں نے اسفندیار کے خاندانی سرمائے کو کیش کرتے ہوئے اسفندیار کو ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کیا ہے۔ مکان کی چھت پر پہنچنے والے کی نظر میں سیڑھی کی اہمیت صرف اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ان پر قدم رکھ رہے ہوتے ہیں، اوپر چڑھ کر ان کو یاد بھی نہیں رہتا کہ ان کے قدموں تلے ایک سیڑھی بھی ہوا کرتی تھی۔ لیکن نادان سیڑھی سمجھتی ہے کہ مکان کی چھت پر پہنچنے والا اب بھی میرا ہے۔ اس بات کا ذکر ہم نے کسی جگہ کیا بھی ہے کہ یہاں وہاں کی باتوں اور لولے لنگڑے دلائل کے بجائے نتائج کو نظر میں رکھنا چاہیے۔ اب کوئی کہاں تک حساب لگائے کہ کس کس نے کیا کیا کیا۔ کیونکہ نتیجہ سامنے ہے:

اکنوں کرا دماغ کہ پُرسد زباغباں
بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صبا چہ کرد

اسفندیار ولی خان اور پارٹی کے ایک اہم رہنما خالی ہاتھ آئے تھے اور خالی ہاتھ رہ گئے جب کہ ان کو استعمال کرنے والے ہر طرف سے بھر گئے ہیں۔ ان کے ہاتھ ان کی جھولیاں، ان کے گھر ان کے بینک اور ان کی جیبیں سب ہری بھری رہ گئیں اور استعمال ہونے والے ''آلے''؟

اُڑ گیا مقصد کا پنچھی رہ گئے پر ہاتھ میں

ان کی پتنگیں لوٹی جا چکی ہیں اور وہ خالی چرخی پر دھاگہ لپیٹ رہے ہیں، اس مشینری اور آلات کو استعمال کرنے والوں کا کچھ بھی نہیں بگڑا، ان کے پاس بے پناہ دولت، سینیٹری اور ممبری بھی گھر کی لونڈی ہے۔ افغانستان سسرال ہے، بچے انڈیا میں ہیں اور پنجاب سمدھیانہ بن گیا ہے ۔ان کی پانچوں گھی میں ہیں اور ''سر'' کڑاہی میں رکھا ہوا ہے۔ جب کہ پارٹی کے اس رہنما کے ہاتھ میں ایک ''پھول کی پتی'' بھی نہیں رہ گئی ہے۔ رہے دولہے میاں تو ان کے چھوٹے سے سر پر خالی خولی پگڑی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن پگڑی بھی تو کسی کسی کو زیب دیتی ہے۔ بقول خوشحال خان خٹک

کہ دستار تڑی ہزار دی
د دستار سٹری پہ شمار دی

یعنی دستار باندھنے والے تو ہزاروں ہوتے ہیں لیکن جو دستار کے لائق لوگ ہوتے ہیں، وہ گنتی کے چند اور خال خال ہوتے ہیں۔ ایک زمانے میں پشاور کے بازار قصہ خوانی میں ہم یادگار شہیداں کے سامنے والے بالا خانے میں رہا کرتے تھے۔ اسے دارالکتابت کہتے تھے اور پشتو کے کاتب حضرت شاہ اور اردو کے کاتب غلام عباس کا ڈیرہ ہوتا تھا۔ حضرت شاہ کا تعلق روزنامہ بانگ حرم سے اور غلام عباس کا تعلق انجام اور پھر مشرق سے تھا۔ روزنامہ بانگ حرم کے حصہ پشتو کو کوہاٹ کے ایوب صابر ایڈیٹ کرتے تھے جو ہفتے میں ایک دن پشاور آتے تھے۔ ایک دن حضرت شاہ اداس بیٹھا تھا۔ غلام عباس نے پوچھا کیوں کیا ہوا۔ حضرت شاہ بولا ایوب صابر کوہاٹ سے آیا نہیں ہے اور میرے پاس صفحے کا مواد ختم ہے۔ حیران ہوں کیا لکھوں؟ غلام عباس مزاحیہ طبیعت کے ہندکو بولنے والے ''خارے'' تھا۔ اپنے خاص پشتو لہجے میں بولا یہ کون سی بڑی بات ہے، پشتو کی شاعری لکھ دو، حضرت شاہ نے کہا مگر شاعری کہاں ہے۔ غلام عباس بولا پشتو میں شاعری کرنا کیا مشکل ہے، تم لکھو میں بتاتا ہوں پھر شعر کہنے لگا

کے زے تاج د باچائی تاتہ پہ سر کڑم
کے ستا عقل باند تندر راپریوتی وی نوسے پکار دی

ترجمہ اس کا یہ تھا کہ اگر میں تیرے سر پر شاہی تاج بھی رکھ دوں اور تمہاری کھوپڑی کے اندر عقل نہ ہو تو پھر کیا فائدہ۔ پگڑی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اور یہ ہم نے دیکھ بھی لیا کہ پشتونوں کی اتنی بڑی پگڑی کا کیا حشر ہوا۔ یہاں وہاں کے بے نام و نشان لوگ آئے اور اس پگڑی کو گرا کر 11 مئی کو پیروں تلے روند گئے۔ وہ امیر خسروکا ایک شعر بھی یہاںبالکل فٹ بیٹھتا ہے کھیر نہ جانے کس کس نے کھائی لیکن ڈھول والے اب بھی یہی ڈھول بجا رہے ہیں کہ سازش ہوئی۔ ہمیں ہرانے کے لیے دنیا بھر نے بلکہ پوری کائنات سورج چاند ستاروں اور کہکشاؤں نے ''سازش'' کی تھی۔ دوسروں کے چہرے بڑی آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں،ان کے خدوخال میں سو سو عیب بھی نکالے جا سکتے ہیں لیکن اپنا چہرہ دیکھنا اور پھر اس میں عیب نکال کر دور کرنا بہت ہی دل گردے کا کام ہوتا ہے۔ کتنا اچھا ہوتا اگر اپنی غلطیاں مان لی جاتیں۔ پھر قوم اتنی بے حس نہ ہوتی کہ غلطیوں کے باوجود سر آنکھوں پر نہ بٹھاتی اور پارٹی خوشی خوشی یہ نغمہ الاپتی کہ

امبار کی راکڑی عالمہ
د تہمتونو سرہ یار قبولہ کڑمہ

ترجمہ : مجھے مبارک باد دو اے دنیا والوں کہ ''یار'' نے مجھے تہمتوں کے ساتھ قبول کر لیا، حکم رانی اور لیڈر شپ میں جو سب سے بڑی اور ضروری چیز ہوتی ہے وہ ایک تو یہ ہے کہ لیڈر کو آدمیوں کی پہچان ہو، سکندر سے لے کر ہٹلر تک جتنے بھی بڑے لوگ گزرے ہیں، ان کی کامیابی میں سب سے بڑا ہاتھ ان کی مردم شناسی کا رہا ہے، اور دوسری چیز نرگسیت کے بجائے خود احتسابی ہے۔ جہاں تک پشتون لیڈر شپ کا تعلق ہے تو فی الحال تو

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

اور آگے کا پتہ نہیں کہ پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔

مقبول خبریں