مہنگائی سے مردانہ سوٹ کی سلائی کے نرخ بڑھ گئے

برانڈڈ کرتوں سے درزیوں کا کاروبار متاثر ،فی جوڑاسلائی 600روپے مقرر، مضافات کے درزیوں نے بکنگ 4 رمضان سے بند کردی


Ehtisham Mufti July 19, 2013
عید کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک درزی کپڑوں کی کٹائی اورکاری گر سلائی میں مصروف ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے درزیوںنے بھی عید الفطر کے سیزن پر مردانہ شلوار قمیص سوٹ کی سلائی کی اجرت میں17فیصد کا اضافہ کردیا ہے۔

گزشتہ رمضان کے دوران مردانہ شلوارقمیص کی سلائی 450 سے 500 روپے تھی،اب فی جوڑا سلائی اجرت600روپے وصول کی جارہی ہے تاہم مضافاتی علاقوں جن میں نیوکراچی، اورنگی ٹائون، قصبہ کالونی، لیاری، منگھوپیر، لانڈھی، کورنگی اور ملیر کے کچھ حصے شامل ہیں میں اب بھی جوڑے کی سلائی 300 تا 450 روپے وصول کی جا رہی ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ کراچی کے مضافاتی علاقوں کے درزیوں نے عیدالفطر کیلیے نئے جوڑوں کی بکنگ ماہ رمضان کے ابتدائی 4 دنوں میں ہی بند کردی لیکن شہر کے وسطی علاقوں صدر، بوہری بازار، کوآپریٹو مارکیٹ، پاکستان چوک سمیت دیگر پوش علاقوں کے درزی اب بھی عیدکے جوڑوںکی بکنگ کررہے ہیں۔

صدر کریم سینٹر کے ٹیلرماسٹر اظہراحمد نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ کراچی میں بجلی کا بدترین بحران برقرار رہنے اور امن وامان کی خراب صورتحال سے درزیوں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے جس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ شہر کے مرکزی حصوں میں قائم درزیوں کی دکانوں پررواں سال عیدالفطر کے سیزن کے لیے نئے جوڑوں کی تیاری کے آرڈرز دینے والوں کی تعداد کم ہوگئی اور بیشتر درزیوں کی دکانوں پرجہاں 3سلائی مشینیں چلتی ہیں انھوں نے پٹرول پر چھوٹے جنریٹرز کے ذریعے سلائی کا کام جاری رکھا ہوا ہے، یہی عوامل اجرت میں اضافے کا سبب بن گئے ہیں، مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑھتی مہنگائی کے سبب سلائی کے مجموعی آرڈرز میں سے70فیصدسادہ شلوارقمیص کے موصول ہورہے ہیں ۔



جبکہ 30فیصد آرڈرز معمولی نوعیت کی ایمبرائیڈری کے حامل جوڑوں کے موصول ہورہے ہیں، نوجوان طبقے کی جانب سے کالراور سامنے کی پٹی پر ایمبرائیڈری کے حامل ڈیزائن کی تیاری میں زیادہ دلچسپی دیکھنے میں آرہی ہے جن کی سلائی 800 روپے اجرت پر کی جارہی ہے اسی طرح بعض گاہکوں کی جانب سے ڈبل فیبرک کے حامل کالرایمبرائیڈری اورڈبل فیبرک کے حامل سامنے کی پٹی کی مانگ بڑھ گئی ہے جن کی تیاری کیلیے900روپے فی جوڑا وصول کیے جارہے ہیں، شہر کے مرکزی حصوں میں قائم درزیوں کے دکانوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ عید کیلیے بکنگ ماہ رمضان کے پہلے عشرے کے اختتام تک جاری رکھیں گے اور دوسرے عشرے میں عیدالفطر کی بکنگ بند کردی جائیگی، ایک عمررسیدہ ٹیلرماسٹر نے بتایا کہ کراچی میں مختلف برانڈ کے سلے سلائے شلوارقمیص اور کرتا شلوار کے فروغ نے ان کی کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

مقبول خبریں