21 ویں صدی پر قبضے کی تیاری

بے گناہ خواہ ایک ہو یا زیادہ ان کا مارا جانا ایک ایسا المیہ ہے کہ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔


Zaheer Akhter Bedari July 19, 2013
[email protected]

MADRID: پاکستان جن سنگین مسائل میں گھرا ہوا ہے، ان میں دو مسئلے ایسے ہیں جن کا تعین پاکستان اور پاکستانی عوام کے مستقبل سے ہے۔ ان میں ایک مسئلہ دہشت گردی ہے، دوسرا مسئلہ اشرافیائی جمہوریت کا ہے۔ بدقسمتی سے ان دو اہم ترین مسئلوں پر اہل سیاست اور اہل دانش میں اختلاف رائے موجود ہے۔ دہشت گردی آج جس مقام پر پہنچ گئی ہے، اس مقام کو ہم سادہ الفاظ میں موجودہ سیٹ اپ سے کھل کر بغاوت کا نام دے سکتے ہیں۔ اس سنگین ترین مسئلے پر اتنے طویل عرصے کے بعد بھی قومی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔

ہم یہاں اس بات پر گفتگو نہیں کریںگے کہ یہ مسئلہ پیدا کیسے ہوا، اسے فروغ کیسے حاصل ہوا اور کن طاقتوں کی نا اہلیوں اور مفاد پرستیوں سے اس قدر سنگین بن گیا۔ زیر بحث موضوع یہ ہے کہ سیاست دانوں کا ایک طبقہ اسے پاکستان کی جنگ نہیں بلکہ امریکا کی جنگ کہتا ہے اور ایک طبقہ اسے پاکستان کی جنگ کہتا ہے۔ جو طبقہ اسے امریکا کی جنگ کہتا ہے وہ اصرار کرتا ہے کہ پاکستان کو امریکا کی جنگ سے باہر آجانا چاہیے اور اس حوالے سے اس کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ڈرون حملوں کو بند ہونا چاہیے۔ خواہ اس کے لیے ڈرون کو گرانا ہی کیوں نہ پڑے۔

پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے اندر کسی ملک کی مداخلت خواہ وہ کوئی سپر پاور ہی کیوں نہ ہو ایک آزاد اور خود مختار ملک کی آزادی اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ لیکن جو لوگ ڈرون حملے بند کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں وہ یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ان حملوں میں کچھ بے گناہ لوگ بھی مارے جارہے ہیں۔

بے گناہ خواہ ایک ہو یا زیادہ ان کا مارا جانا ایک ایسا المیہ ہے کہ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن یہاں جو بات قابل اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ ڈرون حملوں کے مخالفین ڈرون حملے رکوانے کے لیے آخری حد تک جانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن دہشت گردی میں ڈرون حملوں سے دس گنا زیادہ مارے جانے والے بے گناہ انسانوں کے بارے میں وہ خاموش رہتے ہیں۔ اسی پر اسرار سیاست کی وجہ سے دہشت گردی اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں پوری ریاستی مشنری ناکام نظر آتی ہے۔

دہشت گردی کی جنگ کو امریکا کی جنگ کہنے والوں کا خیال ہے یہ مسئلہ صرف دہشت گردوں سے مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوسکتاہے۔ بلاشبہ مذاکرات دو متحارب قوتوں کے درمیان ہوتے ہیں لیکن جب ایک فریق دوسرے فریق سے یہ کہتا ہے کہ ہم نہ تمہیں مانتے ہیں نہ تمہاری جمہوریت کو، نہ تمہارے کسی ادارے کو۔ ہم تو یہ جنگ اس لیے لڑرہے ہیں کہ ہم اس ملک میں اپنا نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ جس کے لیے حصول اقتدار ضروری ہے، جب صورت حال یہ ہو تو مذاکرات کا موضوع، مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہوگا؟ لیکن اس کے باوجود مذاکرات کے حامیوں کو مذاکرات کی اجازت ملنی چاہیے اور مذاکرات کے حامیوں کو بلا تاخیر مذاکرات کرنا چاہیے تاکہ عوام کے سامنے مذاکرات کے نتائج آسکیں۔

دوسرا اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ جمہوریت کو نہ صرف چلنے دینا چاہیے بلکہ اس کی حمایت کی جانی چاہیے تاکہ حقیقی جمہوریت کی راہ ہموار ہوسکے۔ اس حوالے سے جمہوریت پسند اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ وہ اس اشرافیائی جمہوریت کے مخالفین پر جمہوریت دشمنی اور آمریت دوستی کا الزام تک لگادیتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاری کی سب سے پہلی شرط غیر جانبداری ہے اگر تجزیہ نگاری غیر جانبداری نہ ہو بلکہ کسی مخصوص جماعت کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتی ہے تو پھر اس کا تجزیہ قابل اعتبار نہیں رہتا۔

پاکستان کی روشن خیال طاقتیں ہمیشہ STATUS QUO کو توڑنے کی حامی رہی ہیں کیونکہ اس سیٹ اپ کو توڑے بغیر نہ ملک ترقی کے راستے پر پیش رفت کرسکتا ہے نہ جمہوریت اپنی تعریف پر پوری اترسکتی ہے۔ اسٹیٹس کو کیا ہے ''زرعی اور صنعتی اشرافیہ سول اور فوجی بیوروکریسی کا اتحاد۔'' یہی سیٹ اپ 65 سال سے ملک میں مسلط ہے۔ کیا 11مئی کے انتخابات سے اسٹیٹس کو ٹوٹ گیا...؟ اگر نہیں ٹوٹا تو پھر اس سیٹ اپ کی جمہوریت کے نام پر حمایت کا مطلب کیا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ فوج کی بار بار مداخلت سے ملک میں جمہوریت فروغ نہیں پاسکی، اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے سیاست دان یا تو فوجی آمروں کی گود میں پل کر جوان ہوئے ہیں یا فوجی آمروں کے حامی اور حکومتوں میں ان کے شراکت دار رہے ہیں۔

ایوب خان نے جب پہلی بار سیاست میں مداخلت کی تو یہ سیاست دان ہی تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے دو ٹکڑے کرکے ایک ٹکڑا ایوب خان کی خدمت میں پیش کیا تاکہ اس کی حکومت کو ایک سیاسی جواز مل جائے۔ 1970 کے الیکشن میں مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کو اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔ مرکز میں اسے حکومت بنانے کا اختیار ملا لیکن اس پر علیحدگی پسند کا الزام لگا کر نہ صرف حکومت بنانے سے روک دیا گیا بلکہ ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگاکر ملک توڑنے کی راہ ہموار کی گئی۔

بدقسمتی سے یہ جمہوری فریضہ ادا کرنے میں سیاسی رہنما پیش پیش تھے۔ 1977 میں انتخابات میں دھاندلی کے نام پر بھٹو کے خلاف جو تحریک امریکی ڈالروں کی بارش میں چلائی گئی، وہ ہمارے سیاست دانوں کی قیادت ہی میں چلائی گئی۔ جب کہ ان سیاست دانوں کو یہ معلوم تھا کہ بھٹو کی پارٹی مجموعی طورپر الیکشن جیت چکی ہے اور آگے چلیے جب پاکستان کی تاریخ کے بدترین فوجی آمر نے اس جمہوری تحریک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا تو جمہوریت کے چیمپئن اس کی حکومت میں شامل ہوگئے، جب ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا تو جمہوریت پسند سیاست دانوں کی زبان خاموش رہی، ضیاء الحق کی حکومت کو مستحکم کرنے میں ہمارے سیاست دانوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

ضیاء الحق کے دور میں ہمارے سیاست دان اس کی حکومت کا حصہ رہے۔ حتیٰ کہ انھیں ضیاء الحق کی جانشینی کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد دوبار مسلم لیگ (ن) کو اور دو بار پیپلزپارٹی کو حکومت بنانے کا موقع ملا لیکن یہ سارا عرصہ عوام کے مسائل حل کرنے اور کوئی ملکی ترقی کا کارنامہ انجام دینے کے بجائے اپنا سارا وقت یا تو آپس میں لڑتے ہوئے گزار دیا یا پھر قومی دولت کی لوٹ مار میں گزار دیا۔ پیپلزپارٹی کو 2008 میں اقتدار ملا ۔ پیپلزپارٹی کے مخالفین نے پیپلزپارٹی کی حکومت کو علی بابا چالیس چور کا خطاب دیا اور اب بھی اسے اسی نام سے یاد کرتے ہیں۔ کیا پیپلزپارٹی کی حکومت ایک جمہوری حکومت نہیں تھی۔ کیا پیپلزپارٹی کی حکومت کو عوام نے منتخب نہیں کیا تھا؟ اگر پیپلزپارٹی کی حکومت جمہوری تھی اور عوام نے اسے منتخب کیا تھا تو اسے علی بابا چالیس چوروں کی حکومت کہنا جمہوریت کی توہین نہیں ہے؟ جب کہ یہ خطاب دینے والوں پر بھی کرپشن کے کیسز عدالت میں موجود ہیں۔

بلدیاتی انتخابات جمہوریت کا لازمی حصہ ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ کسی جمہوری حکومت نے بلدیاتی انتخابات کرانے کی زحمت نہ کی بلکہ بلدیاتی انتخابات فوجی حکومتوں کے دور ہی میں ہوتے رہے، آخری بلدیاتی انتخابات مشرف دور میں ہوئے، مشرف کے متعارف کردہ نظام میں انتظامی اور مالی اختیارات نچلی سطح تک پہنچائے گئے، کیا ان انتخابات کی حمایت کرنا فوجی آمر کی حمایت کرنا ہے؟ اگر فوجی حکمرانوں کے دور میں عوام کو ریلیف ملا تو اس ریلیف کا ذکر کرنا فوجی آمریت کی حمایت کرنا ہے؟ وہ لوگ جنھوںنے فوجی آمروں کے دور میں جیلیں کاٹیں کیا وہ فوجی حکومتوں کے حامی ہوسکتے ہیں اگر فوجی حکومتوں کے دور کا جمہوری حکومتوں کے دور سے موازنہ کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب فوجی حکومتوں کی حمایت نہیں بلکہ جمہوری حکومتوں کو ان کا چہرہ دکھانا ہوتا ہے۔ ملک میں نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کے لیے بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن تمام اختیارات اور مالی وسائل کو اپنے ہاتھوں میں رکھنے والے سیاستدان کمشنری نظام میں چند بیوروکریٹس کو قابو میں رکھنا آسان ہوتا ہے۔ سیکڑوں با اختیار ناظمین کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

یہ ہے ہماری جمہوریت، ہماری سیاست جس کے تحفظ کے لیے ہم اپنی اخلاقی حدیں پار کررہے ہیں وہ جمہوریت نہیں بادشاہتوں کی جدید شکل ہے۔ یہ جمہوریت چند خاندانوں کی ملکیت ہے اور یہ چند خاندان پوری اکیسویں صدی کو خاندانی جمہوریت بنانے کے لیے دھڑلے سے ولی عہد شہزادے، شہزادیاں تخلیق کرکے عوام کی جمہوری بالادستی کا ہر راستہ روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہمارا انتخابی نظام خاندانی جمہوریت کو پروان چڑھانے اور سیاست کو کاروبار بنانے کا نظام ہے جس میں عوامی مفادات جمہوریت میں عوام کی بالادستی کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا، ایسے بدترین بے ہودہ عوام دشمن نظام کے ترانے گانا کیا انھیں زیب دیتا ہے جن کا عقیدہ STATUS QUO کو توڑنا ہے...؟

مقبول خبریں