مقبوضہ کشمیر ایک اور نوجوان شہید وادی میں کرفیو نافذ حریت کی قیادت نظربند

کشمیری نوجوان کو بانڈی پورہ میں عسکریت پسندی کا الزام لگا کرقتل کیا گیا، حریت رہنمائوں کو گھروں میں نظربند کیا گیا۔


News Agencies July 20, 2013
سرینگر میں کرفیو نافذ کرنے کے لیے فورسز کی بڑی تعداد کو تعینات کیا جا رہا تھا کہ مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، فوجیوں سے جھڑپیں،مظفر آباد میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی. فوٹو: اے ایف پی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوںنے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع بانڈی پورہ میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔

علاقہ گریز میں قابض فوجیوں نے نوجوان کو عسکریت پسندی کا الزام لگا کر ایک پرتشدد فوجی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ دوسری طرف مقبوضہ وادی میں لوگ کرفیو اور دیگر پابندیوں کے باوجود رام بن میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے مظاہرین کے قتل کیخلاف احتجاج کرنے کیلیے سرینگر میں سڑکوں پر آئے۔ جمعے کی صبح جب سرینگر میں کرفیو نافذ کرنے کیلیے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے دستوں کو بڑی تعداد تعینات کیا جارہا تھا تو شہر میں مظاہرین اور فوجیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ جھڑپوں میں پولیس کی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا ۔



سرینگر اور دیگر اہم قصبوں سمیت وادی کشمیر کے بیشتر حصوں میں صورتحال کشیدہ ہونے کی وجہ سے کرفیو نافذ رہا۔ پوری حریت قیادت کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئررہنما شبیر احمد شاہ صدر پولیس اسٹیشن سرینگر میں نظربند ہیں۔ ادھر گزشتہ روز بھارتی فوجیوں کی طرف سے شہید کیے گئے مظاہرین کے جنازے میں شرکت کیلیے رام بن میں گول کے علاقے دھرم میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

سرینگر جموں ہائی وے مقبوضہ علاقے اورضلع رام بن میں سخت کرفیو کی وجہ سے بند ہے جبکہ بھارتی فوجی اور پولیس اہلکارضلع کی سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔ ادھر مظفرآباد میں بھی مہاجرین جموں و کشمیر کی طرف سے شدید احتجاج سنیٹرل پریس کلب سے اقوام متحدہ کے دفتر تک احتجاجی ریلی نکالی' مظاہرین نے لانگ مارچ کیا اور اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر شدید نعرے بازی کی بعدازاں مظاہرین منتشر ہوگئے۔