اب تو اس ملک کو ترقی کی راہ پر لے جاؤ

ترقی یافتہ ممالک و اقوام کی صفوں میں جگہ اسی صورت بن سکتی ہے جب ہم اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت جدید خطوط پر کریں


عابد شیدائی January 30, 2019
ترقی یافتہ ممالک و اقوام کی صفوں میں جگہ اسی صورت بن سکتی ہے جب ہم اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت جدید خطوط پر کریں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کی صفوں کو دیکھا جائے تو جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں وہ آج اپنی خودمختاری کی وجہ سے ہیں؛ جن کی اکانومی انتہائی مضبوط اور ترقی پذیر اقوام کے مقابلے میں ان کا بنیادی اسٹرکچر جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے۔ ہمیشہ قوموں کے عروج کا سفر تعلیم اور صحت کی سہولیات کے حصول کے بعد شروع ہوتا ہے۔ سولہویں عیسوی صدی کی بات ہے کہ جب انگریزوں نے بیدار آنکھو ں کے ساتھ گرد و پیش کا باریکی سے جائزہ لے کر وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے، قدم بڑھا کر ترقی کے زینے کو سر کرنا شروع کیا۔ پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ انگریزوں کی علمی جستجو کی بیداری نے معاشرت، تمدن، تہذیب، معیشت اور سیاست کے میدان میں ہلچل مچادی۔ انسانی ہاتھوں کی جگہ مشینی آلات اور دنیا انسانی پوروں میں سمٹ کر گلوبل ولیج بن گئی۔ اس حیرت انگیز تبدیلی کی بدولت یورپ نے دوسری اقوام کو مات دے کر سبقت حاصل کی۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت براعظم ایشیا اور افریقہ کے ممالک کو اپنی غلامی میں جکڑلیا۔

اب اگر ترقی و خوشحالی کے زینے طے کرتی دنیا کے مقابلے میں پاکستان کے موجودہ حالات پر نگاہ کریں تو یہ سوالات ضرور ابھرتے ہیں۔ کمر شکن مہنگائی، توانائی بحران، انصاف کی عدم دستیابی، رشوت و بدعنوانی، غربت، بیروزگاری، جرائم کی شرح میں اضافہ، اقربا پروری جیسے مسائل کے بے لگام گھوڑوں کے سموں سے اڑتی ہوئی دھول سے پاکستان کا جھومر دھندلا کیوں ہے؟ معاشرے میں ابہام اور بے یقینی کی صورتحال کی کیفیت سے ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ تبدیلی کی خواہش کسی دیوانے کے خواب کے مترادف ہے؟ پاکستان 71 برس کی مسافت طے کرکے بھی اب تک ایک قوم میں ڈھل کر ترقی یافتہ ممالک کے ہم رکاب کیوں نہیں ہو پایا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے حل کی اشد ضرورت ہے۔ کسی بھی ملک کے لیڈر (حکمران) ملک و ملت کے نگہبان ہوتے ہیں اور ملکی ترقی و خوشحالی کی منزل تک رسائی کے ضامن سمجھے جاتے ہیں۔

دنیا میں کوئی بھی قوم اس وقت تک پھل پھول کر اپنے آپ کو دنیا کے سامنے بہترین کے طور پر پیش نہیں کرسکتی جب تک وہ اغیار کے سہاروں کی منتظر رہتی ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں خود انحصاری نے معاشرے میں بسنے والےافراد اور قوم کو سربلند کیا، وہیں افلاس زدہ سوچ کے خاتمے کا بھی سبب بنی۔ ترقی یافتہ ممالک کی نظر میں پاکستان پسماندگی سے دوچار ملک ہے۔ قوموں کے عروج و زوال ان کے کردار کے غماز ہوتے ہیں۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے زمانہ طالب علمی میں باریکی سے مشاہدہ کیا تھا کہ جب کوئی قوم اپنے گلے میں غلامی کا طوق پہن لیتی ہے تو پھر وہ قوت مزاحمت کی بجائے تن آسانی، قناعت اور تقدیر پرستی کی عادی ہوجاتی ہے۔

انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ بانی پاکستان جناب قائداعظم محمد علی جناحؒ کے بعد اس ملک و ملت کو قیادت کے فقدان کا مسئلہ ہی درپیش رہا۔ ایماندار اور محب وطن قیادت میسر نہ آنے کے باعث نااہل، بدعنوان اور اقتدار کی ہوس میں لتھڑے غیر جمہوری حکمرانوں نے ملکی خزانے اور وسائل پر اتنی بے دردی سے نقب لگائی کہ عوام کی سانسیں تک اغیار کے پاس گروی رکھ دیں۔ وسائل کی دولت سے مالامال اس ملک کے حکمرانوں نے اپنی غلط اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ملک و ملت کو ابتری سے دوچار کیا ہے۔ ان حالات سے اخذ کرنا دشواری نہیں کہ ملکی حکمران جدید عالمی نظام اور ملک و ملت کی بنیادی ضروریات سے کس حدتک نابلد تھے۔

تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جب جرمنی تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا تب جرمنی امریکی امداد پر چلنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا اور دنیا کے 14 ممالک بشمول پاکستان نے جرمنی کو مالی امداد دی تھی۔ سابق صدر پاکستان ایوب خان کے دور حکومت میں پاکستان نے جرمنی کو بیس سال کےلیے 12 کروڑ روپے مالی امداد بطور قرض دی۔ باون سال گزرنے کے بعد جرمنی آج معیشت کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان اس فہرست میں 41 ویں نمبر پر اٹکا ہوا ہے۔ پاکستان کے قیام کے ابتدائی برسوں میں سیاستداں اہل نہ سہی لیکن کرپٹ نہیں تھے۔ بیوروکریسی رشوت و سفارش کی کسوٹی سے پاک تھی، کلرک بادشاہ نہیں تھا۔ ملک کے معاشی استحکام نے کبھی اغیار کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔

لیکن اس کے برعکس آج پاکستان اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے سے گزررہا ہے لیکن مسائل کے نوحے، قومی خزانے اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے مناظر پر ماتم کرتا نظر آرہا ہے۔ عوام کی تقدیر بدلنے کے دعوے داروں کے در پر یہ سوال بڑی شدت کے ساتھ دستک دے رہا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں یہ ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی کہ عام آدمی کے مسائل حل کرنے کےلیے قانون سازی کی جائے۔ مہربان حکمرانوں کی ترجیحات میں یہ کبھی شامل ہی نہیں رہا کہ ایسا خاطر خواہ نظام نافذ کردیں جس سے غریب آدمی کو ریلیف مل سکے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ اس ملک کے چمکتے حکمران اکہتر سال گزرنے کے باوجود عام آدمی کو بنیادی ضروریات زندگی سے آراستہ کرنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں!

کیا جانی تحفظ اور معاشرتی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی؟ کیا روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے؟ کیا ریاستی اداروں میں عوام کے عمل دخل کو یقینی بنایا جائے گا؟ کیا معاشرے میں عدل وانصاف کا نظام مضبوطی سے قائم کیا جائے گا؟ کیا روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت کی سہولیات سے عوام کو آراستہ کیا جائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا حل آج تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔

ترقی یافتہ ممالک اور اقوام کی صفوں میں جگہ اسی صورت بن سکتی ہے جب ہم اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت جدید خطوط پر کریں گے۔ مہذب قومیں اور معاشرے تعلیم ہی کو عروج کی سیڑھی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اگر ہم آنے والی نسل کو تعلیمی میراث سے بہرہ مند کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقین جانیے آپ کو نہ مسائل کے نوحے پڑھنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی محب وطن قیادت کے فقدان پر ماتم کرنا پڑے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔