نئی امریکی پیش کش

امریکا فوج کی ایک مخصوص تعداد اور فوجی اڈے افغانستان میں رکھ کر طالبان سے امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔


Editorial January 26, 2019
امریکا فوج کی ایک مخصوص تعداد اور فوجی اڈے افغانستان میں رکھ کر طالبان سے امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔ فوٹو: فائل

امریکا نے پاکستان کو افغان جنگ کو ختم کرنے میں مدد فراہم کرنے پر مفت تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے)کی پیش کش کردی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک بیان میں سینیٹر گراہم نے کہا اگر ہم اسلام آباد کو طالبان کو امن مذاکرات کی میز تک لانے پر مفت تجارتی معاہدہ پیش کریں تو افغان جنگ کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

افغان امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے امریکا کی بے تابی اور بے قراری اپنی جگہ برقرار ہے اور وہ اس سلسلے میں ہر حد تک جانے کو تیارہے ۔امریکا فوج کی ایک مخصوص تعداد اور فوجی اڈے افغانستان میں رکھ کر طالبان سے امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے، یہ بات اب طے ہے کہ امریکا افغانستان سے کسی صورت نکلنا نہیں چاہتا ، یہاں رہ کر وہ ایشیا کے لیے واچ ڈاگ کا کردار ادا کرسکتا ہے ۔

یہاں سے نکلنے پر امریکا کی عالمی تھانیداری متاثر ہوتی ہے اور افغان جنگ میں شکست کا داغ الگ سے اس کے ماتھے کا جھومر بنتا ہے ۔موجودہ افغان حکومت سو فی صد اس حق میں ہے کہ امریکی فوجی یہاں قیام کریں ۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو امریکی سترہ تک یا 79ء سے اب تک پینتیس، چالیس سال میں افغان فوج کی تربیت مکمل نہ کرسکے۔

ان سے تربیت لینے کا کیا فائدہ؟ افغانستان میں امریکی شکست کی ذمے داری کسی طور پاکستان پر نہیں ڈالی جاسکتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان ایک خانہ جنگی میں مبتلا ملک ہے جہاں مختلف دھڑے اور منظم گروپ موجود ہیں جو اپنے اپنے مفادات سے وابستہ ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔امن مذاکرات کے لیے ان تمام طالبان دھڑوں کو رابطے میں لانا ہوگا،چین، فرانس،جرمنی، روس،ایران کے اپنے مفادات طالبان سے وابستہ ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن کے سفارتی حکام کے مطابق پاکستان کے لیے ایف ٹی اے کی پیش کش صرف اس وقت ممکن ہے جب واشنگٹن افغان جنگ میں معاہدے پر اسلام آباد کی کوششوں سے مطمئن ہوگا۔

ری پبلکن سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن لنزسے گراہم کو ڈونلڈ ٹرمپ کا کانگریس میں قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے اورامریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خیالات کو عوامی سطح پر زیر بحث لانے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں۔

بہرحال پاکستانی قیادت کو اس موقعے پر انتہائی دانشمندی، تدبر، فراست اور دوراندیشی پر مبنی فیصلہ کرنا ہوگا جو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرسکے ۔ پاکستان میں امن، افغانستان کے امن واستحکام سے منسلک ہے اور پاکستان شورش زدہ افغانستان میں قیام امن کے لیے افغانیوں کی اپنی قیادت سے ان کے شروع کردہ مفاہمتی عمل کا حامی ہے۔

مقبول خبریں