گڈ گورننس کی سمت پیش رفت

کابینہ نے واقعے ساہیوال کا تفصیلی جائزہ لیا اور پولیس اصلاحات اور انصاف کی فراہمی پر اہم پیش رفت کی ہے۔


Editorial January 26, 2019
کابینہ نے واقعے ساہیوال کا تفصیلی جائزہ لیا اور پولیس اصلاحات اور انصاف کی فراہمی پر اہم پیش رفت کی ہے۔فوٹو : فائل

KARACHI: ملک کے سیاسی، عدالتی اور انتظامی افق پر غیر معمولی فیصلوں کے عندیے مل رہے ہیں جو بادی النظر میں ادارہ جاتی سطح پر ان ناگزیر اقدامات اور غیر روایتی فیصلوں کی بنیاد بنیں گے۔

مبصرین کی نگاہ میں ایک طرف گڈ گورننس کی اشد ضرورت اجاگر ہوئی ہے تاکہ حکومت خارجہ امور ، دوست ملکوں سے مالی امداد کے حصول اور سفارتی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی سیاسی کشمکش، دباؤ اور معیشت کی درست سمتی پر مکمل توجہ دے سکے جب کہ وفاقی حکومت کے اہم فیصلوں سے دباؤ کی شکار بیوروکریسی اور ریاستی اداروں کو بھی متحرک ہونے کا موقع ملے گا، وفاقی کابینہ کے فیصلہ کے مطابق پاکستان کو دنیا بھر کے لیے اوپن ملک بنایا جائے گا، وفاقی کابینہ نے میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام ، ای او بی آئی کے پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کا فیصلہ بھی کیا۔

کابینہ نے واقعے ساہیوال کا تفصیلی جائزہ لیا اور پولیس اصلاحات اور انصاف کی فراہمی پر اہم پیش رفت کی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پہلے مرحلہ میں 100 ماڈل پولیس اسٹیشنز بنیں گے۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی۔

عدلیہ کے بعض مقدمات اور ساہیوال سانحہ کے سیاق وسباق میں چشم کشا ریمارکس اور پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار ایک انتباہ ہے، عدلیہ نے استفسار کیا کہ پولیس نے5 سال کی بچی کو بھی نہیں چھوڑا، کیا وہ دہشتگرد تھی؟ یہ سوال انتظامی ضمیر کے لیے کسی للکار سے کم نہیں۔ ساہیوال سانحہ میں انصاف سب کو نظر آنا چاہیے۔

عدالت عظمیٰ نے شہر قائد کی زبوں حالی کا جائزہ لیتے ہوئے قراردیا کہ کراچی کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا،کراچی رجسٹری میں شہر میں غیر قانونی تجاوزات اور امن و امان کی صورت حال سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ پولیس کا رویہ اور کارکردگی شرمناک ہے، کوئی دوسری فورس لائیں، یہ لوگ، اگر فیملی گاڑی میں سفر کررہی ہے اسے بھی ماردیتے ہیں، عوام کے ٹیکسوں پر پلتے ہیں مگر عوام کے لیے کچھ نہیں کرتے۔

واضح رہے سپریم کورٹ نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات گرانے کے بھی سخت احکامات جاری کیے۔ادھر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے مقدمہ میں سیشن کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے آبزرویشن دی کہ جج کا کام انصاف کرنا ہوتا ہے، جو انصاف نہیں کرسکتے وہ گھر چلے جائیں۔

ماہرین قانون کے فہمیدہ حلقوں کے مطابق انصاف کی فراہمی ،عام آدمی کے بنیادی حقوق کی پامالی، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے غیر انسانی اور جابرانہ طرز عمل کا نوٹس لیتے ہوئے عدلیہ نے جن زمینی حقائق کا ذکر کیا ہے وہ عوام کے لیے داد رسی کو یقینی بنانے اور غریب و بے بس افراد کو مسند انصاف پر فائز ججز کی طرف سے انصاف کی جانب پیش قدمی ہے۔ سانحہ ساہیوال نے پوری قوم کے اعصاب جھنجھوڑ کر رکھ دیے ہیں۔

دریں اثنا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار محمد شمیم خان نے سانحہ ساہیوال کی تفتیش مکمل نہ کرنے پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے سربراہ کو ریکارڈ سمیت آیندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیدیا جب کہ کیس کی اہمیت کے پیش نظر مزید سماعت کے لیے دو رکنی بنچ بھی تشکیل دیدیا، چیف جسٹس ہائیکورٹ کی سربراہی میں جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل دو رکنی بنچ 4 فروری کو کیس کی سماعت کریگا، چیف جسٹس سردار شمیم نے سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کرانے کی درخواست پر سماعت کی۔

آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی عدالت میں ریکارڈ سمیت پیش ہوئے، چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ ابھی تک کیا انویسٹی گیشن ہوئی ہے۔ آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ گولیاں چلانے والوں کو گرفتار کر لیا گیا اور معاملے پر جے آئی ٹی بھی بنا دی گئی ہے جب کہ واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی کے افسران کو معطل بھی کر دیا گیا ہے، انھوں نے آیندہ جعلی پولیس مقابلے نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ، دریں اثنا نقیب اﷲ قتل کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی.

مقتولین کا قتل ماورائے عدالت قرار دیتے ہوئے انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے بی کلاس کی رپورٹ منظور کرلی ، بی کلاس رپورٹ کے مطابق نقیب اﷲ، صابر، نذر جان اور اسحاق کو داعش اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد قرار دیکر ویران مقام پر قتل کیا گیا۔ انکوائری کمیٹی اور تفتیشی افسرنے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پولٹری فارم میں گولیوں کے نشان اور نہ ہی دستی بم پھٹنے کے آثار ملے۔ حالات و واقعات اور شواہد کی روشنی میں یہ مقابلہ بے بنیاد تھا۔ لہذا امید کی جانی چاہیے کہ پولیس اصلاحات ، معیشت کے استحکام، انصاف کی جلد فراہمی، کراچی میں کنکریٹ جنگل کے سدباب اور عام آدمی کے معیار زندگی میں بہتری کے لیے وفاقی وصوبائی حکومتیں بھرپور توجہ دیں گی۔

مقبول خبریں