کراچی مسائل کا جہنم

یہ حقیقت ہے کہ کراچی میں بگاڑ ایک کولیٹرل ڈیمیج کے طور پر سامنے آیا ہے، کوئی ایک حکومت قصور وار نہیں ٹہرائی جاسکتی۔


Editorial January 27, 2019
یہ حقیقت ہے کہ کراچی میں بگاڑ ایک کولیٹرل ڈیمیج کے طور پر سامنے آیا ہے، کوئی ایک حکومت قصور وار نہیں ٹہرائی جاسکتی۔ فوٹو: فائل

عروس البلاد کراچی کو مورخین مائی کولاچی کا لاڈلا اور چہیتا بیٹا اور ایشیا کا صاف ستھرا شہر کہتے رہے ہیں۔

برٹش راج کی پرانی دستاویزات اور کتابوں میں کراچی کے جغرافیائی محل وقوع، شہری و تمدنی وسعت ، تجارتی وکاروباری چہل پہل سے متعلق معلومات اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ شہر قائد کی ترقی سائنسی بنیادوں پر ہوئی، انگریزوں کے زمانے میں اس کے اربن اور فزیکل پلاننگ کے تمام شعبوں کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا گیا اور بدلتے ہوئے بلدیاتی،انتظامی، اقتصادی سہولتوں سے آراستہ اس شہر میں زندگی آسودہ،عوام مطمئن، افسر شاہی عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت تیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے و دیگر حکام اپنے سماجی، سرکاری اور انتظامی و معاشی امور کی انجام دہی میں پر کسی قسم کے تساہل اور غفلت کی کوئی گنجائش نہیں رکھتے تھے۔ چند لاکھ نفوس پر مشتمل یہ شہر اس مشہور شعر کے قطعی برعکس تھا کہ

دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

مگر کراچی کے اجڑنے کو فطرت کے مقاصد اور قوانین سے متصادم اور شہر کی ضروریات کی لازمی تکمیل کو پیشرو حکومتوں کی مسلسل غفلت کہیے کہ ماضی کا وسعت پذیر شہر اپنی برق رفتار پیش رفت کو برقرار رکھنے میں افسوسناک زوال کا نمونہ بنا، اس کا چہرہ بدانتظامی سے مسخ ہوا اور حکومتوں کی اجتماعی بے حسی کا شکار ہوکر آج دیدہ عبرت نگاہ بن چکا ہے، دنیا اسے انسانی جان کے تحفظ میں ناکامی اور بہیمانہ جرائم کے حوالہ سے خطرناک شہروں میں شمار کرتی ہے، کراچی کے اربن پلانرز اور سماجی ماہرین اسے آج کے کراچی کا سب سے بڑا المیہ کہتے ہیِں ، جب کہ شہر قائد کی تباہی اور اس کے انفراسٹرکچر کی زبوں حالی بقول شاعر ''یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں''۔

حالیہ متنازع مردم شمار ی کے مطابق کراچی کی آبادی لگ بھگ 15 ملین بتائی گئی جس پر سیاسی حلقوں خاص طور پر ایم کیو یم نے شدید احتجاج کیا جب کہ عوام اسے دو کروڑ سے لے کر ساڑھے 3 کروڑ کا شہر کہتے ہیں ، ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کی بربادی میں بے ہنگم شہری آبادی کا بھی دخل ہے، آبادی پرکنٹرول کسی حکومت کی ترجٰیح نہیں رہی اور جس برطانوی بلدیاتی و پولیس سسٹم پر کراچی کو ناز تھا وہی اعزاز ہمہ گیر بد انتظامی کے سبب چھن گیا اور رفتہ رفتہ سیاسی کشمکش، شہری پھیلاؤ، کچی آبادیوں کی یلغار ، بلدیاتی ضلعی نظام کے اضمحلال ، داخلی تضادات، سیاسی چپقلش اور آمریت وجمہوریت کے بے ثمر تجربات نے کراچی کو مسائل کا جہنم بنادیا۔

کراچی کے طبیعاتی، سماجی اور معاشی ارتقا سے واقف اہل نظر کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے ابتدائی سال کراچی کے بلدیاتی نظام کی عمودی وافقی ترقی کے روشن مستقبل کی نوید دیتے تھے،قانون شکنی عام نہ تھی، ٹرانسپورٹ، ٹریفک، تعلیم ، صحت اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا جو بھی نظام تھا اس کے انتظامی امور پر ماور حکام ذمے دار تھے، گھر گھر پانی کی فراہمی کی سہولت غریب اور مضافاتی علاقوں میں نہیں تھی مگرسرکاری نلکے شہر کے بیشتر علاقوں میں موجود تھے، ملیر میں ڈملوٹی کے قدیم کنوؤں سے فراہمی آب کا سسٹم کے ایم سی اور کے ڈی اے سے منسلک تھا۔

1973 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے عالمی بینک کے تعاون سے گھر گھر پانی سپلائی اور سیوریج سسٹم کی تنصیب کے منصوبے بنائے، اربن ٹرانسپورٹ کا فلیٹ متعارف ہوا، لوگ روزگار کے لیے بیرون ملک چلے گئے۔

میڈیا کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ 70 ء کی دہائی میں کراچی میں تعمیرات کاboom آیا،جام صادق صوبائی وزیر بلدیات تھے اور ان کے حوالہ سے بھٹو صاحب کا یہ مشہور فقرہ اخبارات کی زینت بنا تھا کہ جام صاحب پورا کراچی الاٹ مت کر دینا۔ اسی عرصہ میں بلڈر مافیا کی اصطلاح متعارف ہوئی اور یہی وہ دو تھا جب سب نے بہتی تعمیراتی گنگا میں ہاتھ دھوئے جس پر آج سپریم کورٹ کے ہوشربا ریمارکس نے سب کے ضمیر جھنجوڑ ڈالے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ کراچی میں بگاڑ ایک کولیٹرل ڈیمیج کے طور پر سامنے آیا ہے، کوئی ایک حکومت قصور وار نہیں ٹہرائی جاسکتی اس شہر کی تعمیر میں مضمر خرابی کے ذمے دار حکمراں ، پوری سول سوسائٹی، سیاستدان، نوکر شاہی اور اشرافیائی طبقات سمیت وہ بااثر لوگ ہیں جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ان ہی عناصر نے حکومتی صفوں میں گھس کر سیاست، معاشرت، معیشت ، سماجی ترقی، معاشی استحکام،شہر کی صفائی ستھرائی اور تعلیم و صحت کے سارے چراغ ایک ایک کر کے گل کردیے۔

کراچی کے سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم شدید متاثر ہوگیا، نجی اسکولوں کی چاندی ہوگئی ، سرکاری اسپتال مذبح خانے بن چکے۔ملک کے سب سے بڑے شہر کا ٹرانسپورٹ نظام شرمناک ہے۔ سرکلر ریلوے معمہ بنی ہوئی ہے، یہ سروس کراچی میں چلتی رہی تھی پھر اس کا سلسلہ ٹوٹا،اسی طرح شہر قائد میں ٹرامیں بندر روڈ پر دو رویہ چلتی تھیں اس کے پانچ چھ جنکشن ہوتے تھے، شہر کی سڑکیں روز دھلا کرتی تھیں مگر وائے ناکامی ....سب کچھ آج خاک بسر ہوگیا۔

 

مقبول خبریں