روہنگیا کی نسل کشی ذمے داری جرنیلوں پر ہے

ان جرنیلوں میں سب سے بڑا مجرم جنرل من آگ ہلائنگ اور چار دیگر جنرلز سرفہرست ہیں۔


Editorial January 27, 2019
ان جرنیلوں میں سب سے بڑا مجرم جنرل من آگ ہلائنگ اور چار دیگر جنرلز سرفہرست ہیں۔ فوٹو: فائل

برما کے علاقے راخائن میں بسنے والے مسلمانوں کو علاقے سے بے دخل کرنے کے لیے ان کی بستیوں کا گھیراؤ کر کے ان کی بستیوں کو آگ لگا دی گئی جس کے نتیجے میں ہزاروں غریب مسلمان جنھیں روہنگیا کے نام سے پکارا جاتا تھا یا تو اپنے گھروں میں ہی جل کر راکھ ہو گئے یا وہاں سے جان بچانے کے لیے بھاگ کر پڑوسی ملکوں بنگلہ دیش یا تھائی لینڈ کی طرف چلے گئے اور ان کی بڑی تعداد سمندر کی تیز لہروں کی نذر ہو گئی یا ان ممالک کے سرحدی محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔

روہنگیا مسلمانوں پر یہ ظلم وستم بہت منظم انداز میں کیا گیا۔ ان کی بستوں پر مسلح حملے سے قبل بستیوں کا گھیراؤ کر کے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلانات کیے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی ہتھیار لاٹھی یا سریا وغیرہ ہے تو وہ سکیورٹی فورسز کو جمع کرا دیں اور جب تسلی ہو گئی کہ اب وہ لوگ بالکل نہتے ہو گئے ہیں تو ان پر اجتماعی حملہ کر کے انھیں کسی جوابی کارروائی کے خدشے کے بغیر چن چن کر قتل کر دیا گیا۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق اگست 2017 سے راخائن سے بے دخل کیے گئے تقریباً ساڑھے سات لاکھ روہنگیا بنگلہ دیش میں پناہ کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ اس طرح تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کی طرف نکل جانے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں بیان کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کُشی کے الزام میں میانمار کے فوجی جرنیلوں کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

ان جرنیلوں میں سب سے بڑا مجرم جنرل من آگ ہلائنگ اور چار دیگر جنرلز سرفہرست ہیں جن پر انسانیت کے خلاف جرائم کے بین الاقوامی قانون کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔ روہنگیا مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ اجتماعی قتل وغارت کا شکار بنایا گیا بلکہ ان کی عصمتوں کی بے حرمتی بھی کی گئی۔ ان سارے مظالم میں میانمار (برما) کی فوج بذات خود شامل رہی ہے۔

میانمار (برما) میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے لیے خصوصی نمائندے یانگ ہی لی نے کہا ہے کہ میانمار (برما) کے آرمی چیف کو عالمی عدالت میں مقدمے کے لیے گرفتار کیا جانا چاہیے اور قتل عام کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے جو کچھ کہا ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ برما میں کس اعلیٰ سطح پر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کُشی کا فیصلہ ہوا۔ اس میں میانمار (برما) کی حکومت کے ساتھ وہاں کی فوج بھی برابر کی شریک رہی ہے، ویسے بھی میانمار (برما) پر عملا فوج کی ہی حکومت ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری اس حوالے سے کیا اقدام کرتی ہے۔

 

مقبول خبریں