شمشاد بیگم نے غزل سنا کر ماسٹر غلام حیدر کو متاثر کرلیا

1919 کو لاہور میں پیداہوئیں، فلمی گیتوں سے 30برس بالی وڈ میں دھوم مچائی


Cultural Reporter July 21, 2013
1919 کو لاہور میں پیداہوئیں، فلمی گیتوں سے 30برس بالی وڈ میں دھوم مچائی۔ فوٹو: فائل

فن گائیکی میں شمشاد بیگم کا کوئی ثانی نہیں وہ بالی وڈ فلم انڈسٹری کی ان گلوکارؤں میں شامل ہیں۔

جنھیں پہلی پلے بیک سنگر ہندی فلم انڈسٹری کا اعزاز حاصل ہوا، انھوں نے ہندی، بنگالی، مراٹھی، گجراتی، تامل اور پنجابی زبان میںچھ ہزار سے زائد گائے جس میں 1287 ہندی فلموں کے گیت شامل ہیں انھوں نے مشہور موسیقار مدن موہن، ایس ڈی برمن، نوشاد، رام چندر، او پی نیئر کی کمپوزیشن میں خوبصورت گیت گا کر اپنے فن کا لاہوا منوالیا 1919 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ 12 سال کی عمر میں انھیں ماسٹر غلام حیدر سے ملنے کا موقع ملا۔

انھوں نے ان سے بہادر شاہ ظفر کی غزل ''میرا یار مجھے ملے اگر'' گاکر بہت متاثر کیا جس کے بعد ماسٹر غلام حیدر نے ان سے 12 گانوں کا معاہدہ کرلیا اور ان کو وہ تمام سہولتیں فراہم کیں جو کسی بھی بڑی گلوکارہ کو دی جاتی ہیں،انھیں ہر گانے کا معاوضہ 15 روپے ملتا تھا جب ان کا یہ معاہدہ ختم ہوا تو ماسٹر غلام حیدر نے انھیں 5 ہزار روپے انعام دیے انھوں ہی شمشاد بیگم کی تربیت کا بھی فیصلہ کیا، 1937 میں شمشاد بیگم نے اس وقت آل انڈیا ریڈیو لاہور اور پشاور سے گانے کا آغاز کیا۔ پنجابی فلم' یملا جٹ، شمع، زمیندار، پونجی میں ان کی گیت سپر ہٹ ہوئے، 1940 سے1960 میں وہ بطور نیشنل اسٹار مشہور ہوئیں۔



یہی ان کی شہرت اور مقبولیت کا دور تھا 1957 سے 1968ء کا دور بھی ان کے عروج کا دور تھا، موسیقار اعظم نوشاد نے انھیں اپنی پسندیدہ گلوکارہ چنا، انھوں نے شمشاد بیگم سے اپنی فلم ''مدر انڈیا'' میں چار گانے مغربی دھن میں کمپوز کیے،جس مین ان کا گیت'' آنا میری جان سنڈے کے سنڈے'' بے حد مقبول ہوا وہ 1940 سے 1955 تک سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی گلوکارہ رہیں۔ 1946 میں آرڈی برمن کی فلم'' شکاری'' کا گانا ''کچھ رنگ بدل رہی'' ہے 1949 میں سولو گیت'' یہ دنیا روپ کی چور'' ہٹ ہوا۔

فلم شہنشاہ کا گیت'' جام تھام لے'' مغل اعظم کا مشہور گیت ''تیری محفل میں''فلم پتنگا کا مشہور گیت'' میرے پیا گئے پردیس''، ''ملتے ہی آنکھیں دل ہوا دیوانہ کسی کا''،محمد رفیع کے ساتھ گیت'' چھلا دے جانشانی تیری مہربانی'' کمار کے ساتھ گیت ''گوری کے نینوں میں نندیا بھری''،''میری نیندوں میں تم''، قابل ذکر ہیں شمشاد بیگم نے 1955 میں شوہر کے انتقال کے بعدگانا چھوڑ دیا، 1957 میں انھوں نے دوبارہ گائیکی کا آغاز کیا، ان کا پہلا ہی گیت'' پی کے گھر آج پیاری دلہنیا چلی'' سپر ہٹ ہوا 15 سال کی عمر میں ان کی پہلی شادی گمپنت لال بٹو سے ہوئی 1934 میں ان کی دوسری شادی محبوب سے ہوئی جو ان کو لیکر ممبئی آئے2009 میں شمشاد بیگم کوپدما بھوشن اور او پی نئیر ایوارڈ دیا گیا 2013 میں ان کی 94 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔

مقبول خبریں