جرائم میں اضافہ

کراچی اور لاہور میں بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے قانون پسند شہری عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔


Editorial January 29, 2019
کراچی اور لاہور میں بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے قانون پسند شہری عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

ملک کے بڑے شہروں میں قتل،ڈکیتی ،راہزنی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں آئے روز اخبارات میں مختلف قسم کے جرائم کی خبریں آ رہی ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جرائم پر قابو پانے والے ادارے سست اور نکمے پن کا شکار ہیں۔ بڑے شہروں میں کئی وارداتیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں جن میں پولیس اہلکار خود شامل نظر آتے ہیں یا جرائم پیشہ لوگوں سے تعاون کرتے نظر آتے ہیں۔

کراچی اور لاہور میں چونکہ کاروباری سرگرمیاں زیادہ ہیں اس لیے ان شہروں میں جرائم کی شرح بھی عموماً ملک کے دوسرے شہروں اور قصبوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے لیکن حالیہ چند ماہ کے اعدادوشمار اکٹھے کیے جائیں تو صورت حال خاصی تشویشناک نظر آتی ہے۔ کاروباری افراد یا پروفیشنلز کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کی وارداتوں میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

ایسی وارداتیں بھی ہوئی ہیں جن میں اغوا ہونے والے افراد کو قتل بھی کر دیا گیا اور ان کے اہلخانہ سے پیسے بھی وصول کر لیے گئے۔ پولیس کلچر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی' پشاور چلے جائیں یا ایبٹ آباد 'وہاں بھی پولیس کی کارکردگی صفر نظر آئے گی۔ یہاں بھی قتل کی وارداتیں معمول کا حصہ ہیں ' اور پولیس کا رویہ بھی ماضی سے مختلف نہیں'ایسی طرح کسی اور صوبے کے شہر کو بھی بطور مثال لے لیا جائے تو وہاں بھی پولیس کا کلچر کوئی مثالی نہیں ہو گا۔

کراچی اور لاہور میں بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے قانون پسند شہری عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔ پولیس کا عدم تعاون ان کے لیے ایک دوسرا سردرد ہے'عدالتوں میں مقدمات لڑنا الگ سے ایک جان جوکھم کا کام ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت پولیس کلچر میں تبدیلی اور عدالتی نظام میں تبدیلی کے دعوے کر کے اقتدار میں آئی تھی'اسے اب کم از کم کراچی اور لاہور میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی بنانی چاہیے۔

مقبول خبریں