ہفتہ رفتہ بجلی گیس چور ٹیکسٹائل ملز مالکان روپوش روئی کی قیمتیں گرگئیں

فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز درست قرار دینے کے فیصلے کے بعد کروڑوں کی ادائیگیوں سے ملزبحران کے خدشے کے باعث خریداری میں کمی۔


Ehtisham Mufti July 22, 2013
قیمتیں 6 ہزار 700 روپے من تک آگئیں، پھٹی کی آمد میں کمی سے تیزی کا رجحان سامنے آسکتا ہے، احسان الحق، ایکسپریس سے گفتگو۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

ISLAMABAD: پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران پھٹی کی آمد میں یک دم اضافے کی اطلاعات اور بھارت کو ہونے والی روئی کی برآمدت میں کمی کے رجحان کے باعث گزشتہ ہفتے کے آخری روز روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان۔

جبکہ امریکا میں سال 2013-14 کے دوران خشک سالی کے باعث کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کم ہونے بارے رپورٹس جاری ہونے کے بعد نیویارک کاٹن ایکسچینج میں گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ اگر رواں ہفتے کے دوران پاکستان کے کاٹن زونز میں مون سون کا سلسلہ شروع ہو گیا تو اس سے پھٹی کی آمد میں کمی کے باعث روئی کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی کا رجحان سامنے آسکتا ہے۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس ''کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 6ہزار 800روپے فی من تک پہنچ گئی تھیں لیکن اطلاعات کے مطابق پھٹی کی آمد میں دوبارہ تیزی کے رجحان اور گیس چوری میں ملوث ٹیکسٹائل ملز میں چھاپوں کی اطلاعات کے بعدبعض ٹیکسٹائل ملز مالکان کے روپوش ہونے کی مبینہ اطلاعات کے باعث فیصل آباد سوتر مارکیٹ کے کروڑوں روپے ڈوبنے کی افواہوں کے باعث سوتی دھاگے کی خریدوفروخت میں بھی کمی واقع ہونے سے گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں دوبارہ مندی کا رجحان شروع ہونے سے روئی کی قیمتیں 6ہزار 700روپے فی من تک گر گئی جبکہ مزید معلوم ہوا ہے کہ عدلیہ کی جانب سے واپڈا کی جانب سے لگائے گئے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کو قانونی قراردینے کے بعد ٹیکسٹائل ملز کو اس مد میں کروڑوں روپے کی ادائیگی کے باعث بعض ٹیکسٹائل ملز کے معاشی بحران میں مبتلا ہونے کے باعث بھی روئی خریداری کے رجحان میں کمی بھی روئی کی قیمتوں میں مندی کی ایک وجہ سمجھی جا رہی ہے۔



انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کا ٹن ایکسچینج میں حاضر ڈیلیوری روئی کے سودے بغیر کسی تیزی مندی کے 92.15سینٹ فی پاؤنڈ ،اکتوبر ڈیلیوری روئی کے سودے 1.37سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے بعد 86.50سینٹ فی پاؤنڈ ،چائنہ میں ستمبر ڈیلیوری روئی کے سودے 738یو آن فی ٹن اضافے کے ساتھ 20ہزار 910یو آن فی ٹن ،بھارت میں روئی کی قیمتیں 500روپے فی کینڈی کمی کے بعد 42ہزار 500روپے فی کینڈی تک گر گئی جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے سپاٹ ریٹ 50روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 600روپے فی من تک مستحکم رہے۔احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں تیزی کے رجحان کے باعث روئی برآمد کنندگان نے فی الحال پاکستانی کاٹن جینگ فیکٹریوں سے روئی نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اگر رواں ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں تیزی کا رجحان غالب رہا تو اس سے پاکستان سے روئی کی برآمد دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ قبل ازیں روئی برآمد کنندگان پاکستان سے 85سینٹ فی پاؤنڈ (سی اینڈ ایف انڈیا+دبئی) تک خریداری کر رہے تھے جو مقامی منڈیوں میں روئی کی قیمتیں 6ہزار 800روپے فی من تک پہنچنے کے باعث روئی برآمدکنندگان کیلئے فائدہ مند نہیں رہی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے رواں ہفتے کے دوران سندھ اور پنجاب کے کاٹن زونز میں زبردست بارشوں کی پیشگوئی کی جا رہی ہے جو سچ ثابت ہونے کی صورت میں نہ صرف پھٹی کی آمد میں غیر معمولی کمی واقع ہو سکتی ہے بلکہ اس سے پھٹی کا معیار اور اس کی فی ایکڑ پیداوار میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق چین میں ڈیوٹی فری روئی کی درآمد کیلئے دوبارہ کوٹہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے باعث اس میں گزشتہ ہفتے سے بھارت سمیت دیگر ممالک سے سوتی دھاگے کے درآمد میں خاطر خواہ کمی کر دی ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ چین کی جانب سے ڈیوٹی فری روئی کی درآمد دوبارہ شروع ہونے سے پاکستان سے چین کو بھی روئی کی برآمدت میں خاطر خوا ہ اضافہ آ سکتا ہے۔

مقبول خبریں