قومی سلامتی پالیسی کیلیے وزیراعظم کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت

نواز شریف نے سول اور ملٹری انٹیلی جنس اداروں میں فاصلے کم کرنے اور مربوط رابطوں کی تجویز دیدی


Online July 22, 2013
نواز شریف نے سول اور ملٹری انٹیلی جنس اداروں میں فاصلے کم کرنے اور مربوط رابطوں کی تجویز دیدی، جلد ورکنگ پیپر تیار کیا جائے گا فوٹو: فائل

FAISALABAD: وزیر اعظم نواز شریف جہاں ایک طرف توانائی کے بحران کے حل کرنے پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں وہاں انھوں نے قومی سلامتی پالیسی کو بھی اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلقہ تمام حلقوں سے خود رابطوں کا فیصلہ کیا ۔

ان حلقوں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد کل جماعتی کانفرنس طلب کی جائے گی جس میں قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی جائے گی۔وزیر اعظم نے سول اور ملٹری کے انٹیلی جنس اداروں میں فاصلے کو کم کرنے اور ان اداروں کے درمیان مربوط رابطوں کا نظام مرتب کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ ملٹری انٹیلی جنس ادارے سول انٹیلی جنس اداروں کو جدید خطوط پر تربیت فراہم کریں۔ واضح رہے کہ ماضی قریب میں شہباز شریف کی تجویز پر فوج پنجاب پولیس کو دہشت گردی کے خلاف تربیت فراہم کرتی رہی ہے۔

وزیر اعظم نئی قومی سلامتی کی پالیسی کے لیے فوج کے علاوہ سول اداروں،وزارت خارجہ، داخلہ اور خزانہ کا موقف بھی حاصل کررہے ہیں تا کہ کوئی کمی نہ رہے۔ وزیر اعظم اور ملٹری قیادت میں مشاورت مکمل ہونے کے بعد قومی سلامتی کے حوالے سے ورکنگ پیپر تیار کیا جائیگا جو آل پارٹیز کانفرنس کا بنیادی ایجنڈا ہو گا۔ یہ ورکنگ پیپر اے پی سی کے شرکا کو پہلے دعوت کے ساتھ بھجوائے جانے کا امکان ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملے پر ایک مستحکم اور دوررس پالیسی تشکیل دی جائے جس میں تمام حلقے اپنیدائرہ کار میں رہ کام کریں اور ان کے درمیان مضبوط رابطے کو بھی یقینی بنایا جائے۔



ذرائع کے مطابق مشاورتی عمل کے طویل ہونے پر آل پارٹیز کانفرنس مزید تاخیر کا شکار بھی ہو سکتی ہے ۔ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز سے بعض قومی اداروں کے کھل کر مشاورت سے گریز کے باعث وزیر اعظم نے خود رابطے کا ٹاسک سنبھالا ہے۔سرتاج عزیز کو قومی سلامتی کا مشیر بنائے جانے کے بعد ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ان سے بات چیت سے گریز کیا۔ وزیر اعظم وزارت دفاع کا قلمدان کسی اور کے سپرد کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت سول ملٹری تعلقات کو آئیڈیل سطح پر لانا چاہتی ہے جس کے لیے وزیر اعظم خود فوجی قیادت سے مسلسل مشاورت کررہے ہیں۔ اس مشاورت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ،ڈرون حملے، طالبان سے مذاکرات اور قبائلی علاقوں میں جاری اپریشن کے حوالے سے یکساں موقف کی کوشش کی جارہی ہے۔

مشاورت کے دوران نیشنل سیکیورٹی کونسل کو دوبارہ قائم کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا تاہم وزیر اعظم نیشنل سیکیورٹی کو نسل کا دوبارہ قیام ملٹری اداروں کی مکمل رضا مندی سے چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم اس سلسلے میں جلد بازی سے گریز کررہے ہیں اور فوجی قیادت کو رضا مند کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ آن لائن کے مطابق حکومت نے عید الفطر کے بعد سیکیورٹی کے حوالے سے قومی پالیسی تشکیل دینے کے لیے ال پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے سیکیورٹی کے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں اعتماد میں لے لیا ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی اس وقت تک پاکستان میں ہونگے۔

مقبول خبریں