ٹیکس نظام کی اصلاح سے مجرمانہ غفلت

پی ٹی آئی کی نئی حکومت اقتصادی نشاۃ ثانیہ کی اولین بنیاد رکھے گی


Editorial February 01, 2019
پی ٹی آئی کی نئی حکومت اقتصادی نشاۃ ثانیہ کی اولین بنیاد رکھے گی۔ فوٹو : فائل

وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے ایف بی آر میں اصلاحات حکومت کے ریفارمز ایجنڈے کا اہم جزو ہے، بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے ملک میں ٹیکس کے نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے اور ٹیکس بیس بڑھانے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ وزیراعظم کے خیال میں ایک ایسا ملک جہاں ملکی اخراجات کا تیس فیصد محض قرضوں پر جمع شدہ سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہو رہا ہو وہاں ٹیکس کے نظام میں موجود خرابیوں کو نظر انداز کرنا مجرمانہ غفلت ہے۔

وزیراعظم کے نوٹس میں آنے والا یہ نکتہ اقتصادیات اور ٹیکس نظام میں مضمر خرابیوں کے سیاق وسباق میں انتہائی اہم ہے کیونکہ ملکی معیشت کے 71 قیمتی سال ملکی و غیر ملکی قرضوں کے بے ہنگم اور مہلک حصول میں نہ صرف ضایع ہوئے بلکہ قرضوں کی سود در سود ادائیگی کے دلدل نے معیشت کو زیر بار کیا جب کہ اندر ہی اندر معاشی پالیسیاں عوام کو عارضی اور جزوی ریلیف دینے سے زیادہ بریک تھرو نہیں کر سکیں۔یوں الیکشن 2018ء سے پہلے ملکی معیشت جس غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھی اس میں کوئی کیفیتی اور عددی فرق نمایاں نہیں ہوا، معیشت کی جو چال پہلے ہی بے ڈھنگی تھی سو اب تک ہے جب کہ قوم کو بجا طور پر توقع تھی کہ پی ٹی آئی کی نئی حکومت اقتصادی نشاۃ ثانیہ کی اولین بنیاد رکھے گی۔

عام آدمی کے مسائل حل ہونگے، کرپشن، بدعنوانی، بد انتظامی کا خاتمہ ہو گا،ایک نئی، پر عزم اور بے داغ انتظامی مشینری ملک کا معاشی نقشہ ہی بدل ڈالے گی، لیکن عجیب معاشی اور اشتعال انگیز سیاسی صورتحال نے جنم لیا ہے، یعنی حقیقت خرافات میں کھو گئی والا منظر نامہ ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں ٹھنی ہوئی ہے ۔ کردار کشی کی ریسلنگ جاری ہے حالانکہ صائب پیشرفت یہ ہوتی کہ ٹیکس نیٹ ورک میں سائنسی بنیاد پر پھیلاؤ کی نوید ملتی، فائلر اور نان فائلر کی بحث اور اقدامات سے کہیں بہتر معاشی فیصلے اصلاحاتی پیکیج کا حصہ بنتے، معاشی سرگرمیوں کو مہمیز ملتی، میڈیا حکومتی معاشی اقدامات اور ٹھوس اقتصادی کے مثبت پہلوؤں کو آشکار کرتا، گومگو اور ابہام و بے یقینی کا خاتمہ ہوجاتا۔ادھر وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرصدارت فیڈرل بورڈآف ریونیو میں اصلاحات کے حوالے سے وزیرِاعظم آفس میں اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیر ِمملکت برائے ریونیو حماد اظہر، چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان و دیگر سینئر افسران کی شرکت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں عوام الناس اور خصوصاً بزنس کمیونٹی کو ٹیکس حکام کی جانب سے ہراساں کرنے، ٹیکس وصولیوں کے پیچیدہ عمل، کرپشن اور ٹیکس سے جمع شدہ رقم کو حکمرانوں کے شاہانہ رہن سہن کے لیے استعمال کرنے کی وجہ سے عام شہریوں کا اعتماد ٹیکس کے نظام اور ایف بی آر سے اٹھ چکا ہے، اس اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر بڑے ٹیکس چوروں سے ٹیکس ریکوری اور نان فائلرزکو ٹیکس نیٹ میں لانے پر خصوصی توجہ دے۔ بے نامی جائیدادوں پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ قانون کے تحت رولز کی تشکیل کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے وزیرِاعظم کو پاکستانی شہریوں کی بیرون ملک جائیدادوں کی نشاندہی اور ان اثاثوں پر ملکی قوانین کے تحت قابلِ وصول ٹیکس کی وصولی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی ۔ انھوں نے بتایا کہ مختلف ملکی اداروں ، غیر ممالک سے کیے جانے والے معاہدوں اور معلومات کے مختلف دیگر ذرایع سے بیرون ملک میں موجود اثاثوں کی تفصیلات موصول ہو رہی ہیں۔ موصول شدہ معلومات کا تفصیلی جائزہ لے کر قانون کے مطابق قابلِ وصول ٹیکس کی وصولی کے لیے سیکڑوں افراد کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ عوام الناس کی سہولت کے لیے فوری طور پر نئی ویب سائٹ کا اجراء اور سہولت ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹیکسٹائل سیکٹر سے متعلقہ ایشوز پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت ٹیکسٹائل شعبہ کی بحالی کے لیے ہر ممکنہ معاونت فراہم کریگی، ملکی معیشت کی بہتری اوراستحکام کے لیے دولت کی پیداوار اور ملازمتوںکے مواقعے پیداکرنے کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ پرخصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کو سیکریٹری ٹیکسٹائل کی جانب سے آیندہ پانچ سالوں میں ایک لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے مجوزہ پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔ مسئلہ در اصل اسد عمر کی ٹیم اور وزیراعظم کے اہداف، مستقبل کے خواب اور آدرش کے مابین بعد المشرقین کا ہے ، حکومت اپوزیشن سے مفاہمانہ ڈائیلاگ اور قومی ایشوز پر جمہوری تعلقات کار پیدا کرنے کی سمت سفر کا خوشگوار آغاز ہی کرلیتی تو اچھا تھا، مگر سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کے آثار دکھائی ہی نہیں دیتے ، الٹا ہر ابھرتا سورج نئی دھمکیوں، لاف زنی اور زیب داستاں پیشگوئیوں کی گونج میں سر شام ڈھل جاتا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی مقابلہ پر اترے ہیں، کہتے ہیں سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہے، حزب اختلاف سندھ کے مفاد میں کی جانے والی قانون سازی میں تعاون کرے اگر وہ ایسا نہیں کرے گی تو ہم اپنی عددی اکثریت کے ذریعے قانون سازی کرلیں گے، سندھ اسمبلی میں قانون سازی سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا، اٹھارویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والی اچھی طرح سن لیں کہ اس کے تحفظ کے لیے ہم ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار نے جواباً کہاکہ ہم معاملات کو پھیلا نہیں رہے بلکہ کرپشن کے معاملات کو سمیٹ رہے ہیں، سندھ میں پیپلزپارٹی اپنے کرپشن کے بوجھ کی وجہ سے گر پڑیگی ۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نہ بھی گئی تو موجودہ سیٹ اپ تبدیل ہوجائے گا۔بلاشبہ قوم شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔

ووٹر پریشان ہیں کہ یہ معاشی ریلنگ کب ختم ہوگی۔ الجھن یہ بھی ہے کہ قومی امنگوں کی درست ترجمانی کے لیے عوام کس سے امید باندھیں ، کوئی تو سامنے آئے جو قیاس آرائیوں، اسمبلی میں شور شرابے اور میڈیا ٹاکس کو سنجیدہ نتیجہ خیزی سے ہم آہنگ کرنے کا پیغام دے۔ جو ایتھکس کمیٹی اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے تشکیل دی وہ چند لمحوں میں بن کھلے مرجھا گئی۔ منشور پرعملدرآمد بھی شاید حکومتی ترجیح نہیں۔ آخر بے ثمر انتظامی، سیاسی، مالیاتی، زری اور معاشی اعلانات ، مغالطوں ، مبہم فیصلوں، تجاہل عارفانہ اور لیت ولعل سے اقتصادی بحران کیسے ختم ہوگا۔ضرورت معاشی گیئر اپ اورکرسٹل کلیئر معاشی نمو اور اقتصادی جست اور دلدل و تذبذب سے نکلنے کی ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ،اور ہم ابھی بھی پارلیمانی سنجیدگی اور معاشی آسودگی کا پہلا قدم نہ اٹھا سکے۔ حکومت معاشی پانسہ پلٹنے میں مزید کتنا وقت لے گی؟

مقبول خبریں