حصول رزقِ حلال

تجارت، صنعت، زراعت، مویشی پالنا، محنت مزدوری جائز اور حلال طریقے ہیں


تجارت، صنعت، زراعت، مویشی پالنا، محنت مزدوری جائز اور حلال طریقے ہیں فوٹوفائل

اﷲ پاک نے انسان کو وجود میں لانے کے بعد انہیں اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے جائز راہ معاش کو اختیار کرنے کا حکم دیا اور انہیں بہتر روزی کمانے کے اصول بھی بتلائے ہیں۔

اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انسان مختلف طریقوں سے کماتا ہے چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ ایک غیر مسلم جو اﷲ پر ایمان نہیں رکھتا وہ اپنی کمائی کا سارا کریڈٹ اپنے زور بازو کو دے دیتا ہے کہ یہ کمائی میری اپنی صلاحیت اور جدوجہد کی بہ دولت مجھے ملی۔ وہ اپنے اس عمل سے بے خبر ہوتا ہے کہ آیا میری اس کمائی میں کسی کا حق شامل تو نہیں، بے ایمانی سے تو حاصل شدہ نہیں۔ جب کہ مسلم جو اﷲ پر ایمان رکھتا ہے، اپنے مال و دولت کو عطائے خداوندی سمجھتا ہے اور اپنی کمائی کی اچھی طرح خبر گیری کرتا ہے کہ جو کچھ کمایا جائز و حلال طریقے سے کمایا ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ سُود یا حرام کا شک و شبہ بھی نہیں۔

تجارت، صنعت، زراعت، مویشی پالنا، محنت مزدوری وغیرہ جائز اور حلال طریقے ہیں بہ شرطے کہ انہیں اسلامی احکامات کے مطابق اختیار کیا جائے۔ جب مسلمان کسی پیشے کا اپنے لیے انتخاب کرتا ہے اور اس کا سارا اختیار اﷲ رب العزت کے حوالے کر دیتا ہے اور احکام خداوندی کے ساتھ حقوق العباد کی بھی مکمل پاس داری کرتا ہے۔ تو اﷲ رب العزت ناصرف اس کے مال میں برکت عطا فرماتے ہیں بل کہ اس کے گھر میں مال و دولت کے انبار لگا دیتے ہیں۔ بہ شرطے کہ انسان اﷲ کی اس عنایت پر شُکر بجا لائے، بڑے بول سے خود کو بچائے اور تمام احکامات صدقہ و زکوۃ وغیرہ کی پابندی کرے۔

ہمارا دین اسلام ہمیں حلال و جائز طریقے سے روزی کمانے کا حکم دیتا ہے اور حرام مال کے نقصانات اور اس کے مہلک اثرات بتلا کر اس سے بچنے کا درس دیتا ہے۔ تاکہ انسان کمائی کی لالچ میں حلال و حرام کی تمیز نہ کھو بیٹھے۔ اس لیے رسول اﷲ ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے: '' کوئی آدمی اس وقت تک مر نہیں سکتا جب تک اپنا رزق پورا نہ کرے۔ اﷲ سے ڈرو اے لوگو! تلاش رزق میں راست پر رہو، جو حلال طریقے سے ملے اسے تم لے لو اور جو حرام طریقہ سے ملے اسے چھوڑ دو۔'' (حاکم)

یاد رکھیے کسب حلال، شرافت کی علامت اور عزت و وقار کی دلیل ہے۔ انسان جب کسب حلال میں سرگرم رہتا ہے تو اس کو نہ مسکنت چُھوتی ہے، اور نہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ بے شک دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ایک معیوب بات ہے۔ حضرت لقمان نے بھی کسب حلال کی نصیحت کی تھی اور فرمایا کہ کسب حلال کے ذریعے فقر سے استغنا حاصل کرو۔ اس لیے کہ جس کو فقر لاحق ہوجاتا ہے، اس کے اندر تین خصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں: دین میں کم زوری اور نرمی، عقل میں ضعف اور زوالِ مروّت۔ اس کے برعکس کسب حلال میں مشغول رہنے سے انسان کی معیشت اچھی رہتی ہے، دین کی سلامتی بھی نصیب ہوتی ہے، عزت و ناموس کی حفاظت بھی ہوتی ہے، چہر ے پر نور برستا ہے، اور وہ لوگوں کی نگاہوں میں باوقار رہتا ہے۔ مگر کسب حلال اس وقت ہے جب کسب معاش کا طریقہ بھی حلال ہو اور شے مطلوب بھی حلال ہو۔ ورنہ پھر کسب معاش وبال جان بن جاتا ہے۔ حرام طریقے سے کمائی ہوئی چیز اور حرام چیز دونوں ہی اﷲ کے نزدیک غیر مقبول اور مستحق عذاب ہے۔

انسان کو حصول رزق کے لیے استقلال سے کام لینا چاہیے۔ جتنا رزق مقدر میں رکھ دیا گیا ہے، وہ اسے مل کر ہی رہتا ہے۔ کوئی اس کے منہ کا نوالہ نہیں چھین سکتا، چاہے کوئی جتنا روکنا چاہے، اﷲ کی رضا شامل نہ ہو تو روک نہیں سکتا۔

حضور اکرم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے: '' تم رزق میں تاخیر ہونے سے پریشان نہ ہو۔ کیوں کہ کوئی بندہ مرتا نہیں جب تک اپنے مقدر میں لکھے رزق کے آخری حصے تک نہ پہنچ جائے۔'' (ابن حبان)

کسی مال میں حرام کا شبہ بھی پیدا ہوجائے تو بہتر یہی ہے کہ اس سے کنارہ کرلیا جائے۔ جو اس سے اجتناب کرے گا اس کے لیے ارشاد نبویؐ کا مفہوم ہے: '' حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے، اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں۔ جو ان میں مبتلا ہوگیا وہ گناہ گار ہے اور جو ان سے بچا وہ اپنے دین کو بڑھانے والا ہے جیسے روکی ہوئی چراہ گاہ کے پاس چرنے جانے والا (اس میں جائے گا تو مجرم، اور بچے گا تو اچھا ہے) اور اﷲ تعالی کی روکی ہوئی چراہ گاہ حرام چیزیں ہیں۔'' (طبرانی)

آنحضرتؐ نے حرام اور ناجائز مال کھانے والے بدنصیب کے لیے ارشاد فرمایا، مفہوم: '' جو جسم حرام مال سے پرورش دیا گیا ہو، جنت میں نہیں جائے گا۔'' (طبرانی)

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓنے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ آپؐ میرے لیے دعا فرما دیں کہ میری ہر دعا قبول ہوا کرے۔ آپؐ نے فرمایا، مفہوم: ''اے سعد! اپنا کھانا حلال اور پاک بنالو، تمہاری دعائیں قبول ہونے لگیں گی اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمدؐ کی جان ہے۔ بندہ جب اپنے پیٹ میں حرام لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس روز تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور جس شخص کا گوشت حرام مال سے بنا ہو اس گوشت کے لیے تو جہنم کی آگ زیادہ لائق ہے۔''

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒفرماتے تھے کہ اگر کسی کے معمولات ترک ہوگئے تو استغفار کرو اور دوبارہ شروع کردو اور ہمت سے کام لو اور اس بات کا دوبارہ عزم کرو کہ دوبارہ ترک نہیں کریں گے۔ لیکن حلال و حرام کی فکر نہ ہو تو وہ انسان نہیں اس لیے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ حلال کی طلب دوسرے فرائض کے بعد یہ بھی فرض ہے۔

اﷲ پاک ہمیں حلال طریقے اور بابرکت روزی کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور حرام سے ہمیں ہمیشہ دور رکھے۔ (آمین ثم آمین)

مقبول خبریں