سنجھورو 30جون2012 کے بعد ہونے والی بلدیاتی بھرتیاں غیر قانونی قرار

لاکھوں روپے رشوت دے کر بھرتی ہونیوالے 150 ملازمین فارغ، رشوت کا نیا راستہ نکالا جارہا ہے، متاثرہ ملازمین


Nama Nigar July 22, 2013
حکومت سندھ نے محکمہ بلدیات میں 30 جون 2012 کے بعد ہونیوالی تمام بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے کر ان ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔

ٹی ایم اے سنجھورو میں سیاسی بنیادوں پر اور لاکھوں روپے رشوت کے عوض بھرتی ہونے والے 150سے زائد ملازمین کامستقبل داؤ پر لگ گیا۔ تاحال تنخواہوں سے محروم۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دور حکومت میں لاکھوں روپے رشوت کے عوض ٹی ایم اے سنجھورو میں بھرتی ہونے والے 150 سے زائد ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ حکومت سندھ نے محکمہ بلدیات میں 30 جون 2012 کے بعد ہونیوالی تمام بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے کر ان ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔ جبکہ اس سے قبل بھرتی ہونے والے ملازمین کا ریکارڈ طلب کر کے چھان بین شروع کر دی ہے۔



دوسری جانب رشوت کے عوض بھرتی ہونیوالے ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کی جمع پونجی داؤ پر لگ گئی ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں لاکھوں روپے کے عوض ملازمت حاصل کرنے کے باوجود در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اور اب حکومت مزید پیسے بٹورنے کے لیے یہ اقدامات کر رہی ہے اور حکومت میرٹ کا بہانہ بنا کر دوبارہ پیسوں کے عوض نئے بیروزگار نوجوانوں سے لوٹ مار کرے گی۔

کمشنری نظام بحال ہونے کے بعد اب محکمہ بلدیات میں اتنی بڑی تعداد میں ملازمین کی گنجائش نہیں ہے جس کی وجہ سے حکومت تذبذب کا شکار ہے اور یہ ملازمین حکومت کے لیے درد سر بن گئے ہیں۔

مقبول خبریں