معاشی چیلنجز اور ملنے والے مالی پیکیجز

عوام جواب مانگیں گے کہ حکمراں ملک کو ایک مستحکم معاشی نظام دینے کے خواب کی عملی تعبیر کب پیش کریں گے


Editorial February 03, 2019
ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ معاشی ترقی کے لیے حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد سازی کی ضروری ہے (فوٹو: فائل)

اخباری اطلاعات کے مطابق چین نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے مزید 2 ارب 50 کروڑ ارب ڈالر قرضہ دینے پر اتفاق کیا ہے، چینی قرضہ کی یہ رقم براہ راست اسٹیٹ بینک میں جمع کرائی جائے گی، اس قرضہ کے ملنے کے بعد چین سے پاکستان کو ایک سال میں لنے والی امداد ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

واضح رہے چین پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے والا سب سے بڑا ملک بن کر سامنے آیا ہے ۔ سعودی عرب نے بھی چھ ارب ڈالر کا پیکیج دیا جس میں 3.18 فیصد شرح سود پر تین ارب کا مختصر دورانئے کا قرضہ بھی شامل تھا۔گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کا کہنا ہے کہ تین ارب ڈالر اُدھار تیل کے معاہدے پر16 فروری کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ کے دوران دستخط ہونگے ۔متحدہ عرب امارات نے بھی تین فیصد شرح سود پر تین ارب ڈالر دینے پر اتفاق کیا تھا جس میں سے ایک ارب ڈالر پاکستان کو مل چکے ہیں، جب کہ 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کا ادھارتیل بھی پاکستان کو مل ملے گا۔ پاکستان نے ان قرضوں کا انتظام 3 سالوں کے لیے کیا ہے۔

امدادی پیکیجز کے مربوط حصول کی ان خبروں میں طمانیت کا مثبت پہلو موجود ہے جب کہ اطلاعات خوش آئند بھی ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر تسلسل کے ساتھ عوام کو یہ باور بھی کرارہے ہیں کہ دوست ممالک پاکستان کے معاشی مسائل کے حل میں دامے درمے قدمے سخنے مدد کے لیے کوشاں ہیں، تاہم اقتصادی مبصرین اور اپوزیشن جماعتیں اس امدادی پیکیج مہم کو قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی نئی سائیکی اور عادت بد میں تبدیل ہوتے دیکھنے کے اندیشہ میں مبتلا ہیں جب کہ اس خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن اس استدلال کا سہارا لے رہی ہے کہ جو رقوم ڈالروں کی شکل میں اب تک مل چکی ہیں وہ کم مدت کے لیے ہیں لیکن ملکی معیشت کو جو مشکل ترین چیلنجز درپیش ہے۔

اس کا مقابلہ مانگے کی دولت سے کب تک ممکن ہے۔ یہ ملین ڈالر سوال ہر وہ شخص پوچھ رہا ہے کہ غریب ووٹر اور عام آدمی کو قرضوں پر منحصر معیشت کب حقیقی آسودگی ، اقتصادی چین و آرام مہیا کریگی، روزگار کی فراہمی اور مہنگائی کو کب بریک لگیں گے، قوم اس خدشہ کو بھی محسوس کرتی ہے کہ قرضوں کا نشہ اترتے ہوئے بھی وقت لیتا ہے ، مزید براں خود انحصاری کی کوئی کرن بھی سسٹم کے معاشی سرنگ سے کسی کو نظر نہیں آتی ، ہاں البتہ معاشی بحران کے خاتمہ کے دعوے بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ سب سے بنیادی تضاد اور مبہم تاویل یا چرچا سلیمانی ٹوپی پہنے ''عام آدمی ''کے ہونے یا نہ ہونے کا ہے۔ حکومت تین بجٹ یا اسلاحی پیکیجز پیش کرچکی ہے اور وزراء کا کہنا ہے کہ عام آدمی ان کے منفی اثرات سے فی الحال متاثر نہیں ہوا۔

بہر حال قومی معیشت کو قرضوں سے سہارا دینے کی جاری کوششیں پیداشدہ بحرانی صورتحال کے ازالہ کا جواز دیتی ہیں تاہم اسے عادت بد کی طرح اختیار کرنا مناسب نہیں۔ حکومت نے ادائیگیوں کا توازن بہتر بنانے کے لیے ڈیپازٹس بانڈز بھی جاری کیے ہیں جن پر تین سال کی مدت کے لیے شرح سود 3.25 ،جب کہ پانچ سال کی مدت کے لیے 6.75 فیصد ہوگی۔وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ انھوں نے بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوقسم کے مزید اقدامات کی بھی اجازت دیدی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق جون سے قبل سکوک بانڈز بھی جاری کیے جاسکتے ہیں۔

ادھروزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام الناس کی زندگیوں میں تبدیلی لانا پی ٹی آئی حکومت کا منشور ہے، صوبہ خیبر پختونخواہ میں سیاحت کے فروغ سے ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا، وہ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی سے ملاقات میں گفتگو کررہے تھے۔ ہمارے معاشی تجزیہ کار کے مطابق چین اور امریکا کے مابین تجارتی جنگ سے پاکستان کے لیے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، پاکستان چین اور امریکا کے درمیان اضافی ٹیرف عائد ہونے سے متاثر ہونے والی 360ارب ڈالر کی باہمی تجارت سے بھرپور فائدہ اٹھاکر تجارتی خسارے میں کمی لاسکتا ہے، مزید براں وفاقی وزیر پیٹرولیم وقدرتی وسائل غلام سرور خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں بہت جلد پاکستان کو بحرانی کیفیت سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ معاشی مبصرین اسے ایڈہاک ازم کی وقتی تدبیر سے جوڑتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارہ، برآمدات میں جمود ، گردشی سمیت اب تک لیے گئے اربوں ڈالر کے قرضوں کی واپسی اور اس ضمن میں سود کی ادائیگی اور کاروبار حکومت چلانے کے لیے ملکی بینکوں سے یومیہ تقریباً 15 ارب روپے کا مبینہ قرضہ کس طرح عوام کو ریلیف دیں گے اور ملک کو ایک مستحکم معاشی نظام دینے کے خواب کی عملی تعبیر کب پیش کرسکیں گے۔اس کا جواب تو عوام مانگیں گے۔

مقبول خبریں