ن لیگ کو سادہ اکثریت کیلیے اپنی جماعت کے علاوہ 73 ووٹ درکار

حکمراں جماعت 280، پی پی119،تحریک انصاف60،متحدہ49،جے یو آئی کے 34 ووٹ ہیں


APP July 24, 2013
حکمراں جماعت 280، پی پی119،تحریک انصاف60،متحدہ49،جے یو آئی کے 34 ووٹ ہیں فوٹو: فائل

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو صدارتی انتخاب میں سادہ اکثریت کیلیے اپنی جماعت سے ہٹ کر73 ووٹ درکار ہونگے، 706 کے الیکٹورل کالج میں (ن) لیگ کے مجموعی ووٹ280 ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹوں کی تعداد119، تحریک انصاف60، ایم کیو ایم49، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے34 ووٹ ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے اتحادی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے18، نیشنل پارٹی کے12اور مسلم لیگ (ف) کے 100ووٹ ہیں، مسلم لیگ (ق) کے ووٹوں کی تعداد15ہے۔ ''اے پی پی'' کو ذرائع سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق صدر کے انتخاب کیلیے حکمراں مسلم لیگ کواپنے امیدوار کی کامیابی کیلیے354 ووٹ درکار ہیں تاہم اس کے پاس قومی اسمبلی میں183، سینیٹ میں 16، بلوچستان اسمبلی میں17، پنجاب اسملی میں 53، خیبر پختونخوا اسمبلی میں 9 اور سندھ اسمبلی میں2 ووٹ ہیں، اس طرح اس کے اپنے کل ووٹوں کی تعداد280 بنتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی دوسری بڑی جماعت ہے جس کے ووٹوں کی تعداد119 ہے، قومی اسمبلی میں41، سینیٹ 39، سندھ اسمبلی میں36، خیبرپختونخوا میں2 اور پنجاب اسمبلی میں ایک ووٹ ہے۔



تحریک انصاف کے قومی اسمبلی30، خیبرپختونخوا میں23، پنجاب اسمبلی میں 5 اور سندھ اسمبلی میں تقریباً2 ووٹ ہیں، اس کے ووٹوں کی تعداد60 ہے۔ ایم کیو ایم49 ووٹوں کے ساتھ چوتھی بڑی جماعت ہے، اس کے قومی اسمبلی میں 23، سندھ اسمبلی میں19 اور سینیٹ میں7 ووٹ ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹ میں23، قومی اسمبلی میں ایک، بلوچستان میں ایک اور خیبرپختونخوا میں2 ووٹ ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قومی اسمبلی میں12، خیبرپختونخوا میں8، سینیٹ میں6 اور بلوچستان اسمبلی میں8 ووٹ ہیں۔ الیکٹورل کالج میں آزاد اراکین کے ووٹوں کی تعداد22 ہے۔ الیکٹورل کالج میں قوی اسمبلی کی20 نشستیں خالی ہیں جن میں سے16پر ضمنی انتخاب22 اگست کوہونا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی3 نشستیں خالی ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کی9 نشستیں خالی ہیں، پنجاب اسمبلی کی26 نشستیں ہیں، سندھ اسمبلی کی6 نشستیںخالی ہیں، اس طرح706 ووٹوں میں سے30 ووٹ نہیں ڈالے جاسکیں گے۔ کل672 ووٹوں میں سے مسلم لیگ (ن) کے پاس 280 ووٹ ہیں۔ قومی اسمبلی میں آل پاکستان مسلم لیگ، قومی وطن پارٹی، مسلم لیگ ضیا اور عوامی جمہوری اتحاد کا ایک ایک ووٹ ہے۔ جماعت اسلامی کے قومی اسمبلی میں4 اور خیبرپختونخوا میں تقریباً 5 ووٹ ہیں، قومی وطن پارٹی کے خیبرپختونخوا میں تقریباً 5 ووٹ ہیں۔