کشمیر عالمی ضمیر کے لیے چیلنج

اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے اپنی قراردادوں کی حرمت کا خیال کرے۔


Editorial February 06, 2019
اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے اپنی قراردادوں کی حرمت کا خیال کرے۔ فوٹو:فائل

دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اور کشمیری عوام نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کا دن منایا ۔ مقررین نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کشمیر ایشو کو اجاگر جب کہ بھارتی مظالم پر بے حسی اور شرمناک خاموشی پر بھرپور احتجاج کیا ، انھوں نے دنیا کے سات ارب انسانوں سے بجا طور پر یہ دہکتا ہوا سوال پوچھا کہ مظلوم کشمیری اپنے جائزحقوق کے حصول کی جدوجہد میں اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں آخر ان کا ضمیر اس کی کسک کیوں محسوس نہیں کرتا، مقبوضہ کشمیر میں بہنے والے خون کی سرخی سے وہ اظہار یکجہتی سے معذور کیوں ہیں؟

پاکستان میں صبح 10 بجے چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت، بلتستان میں کشمیری شہداء کے اعزاز میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، اسلام آباد ڈی چوک میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی جس میں عام شہری، طلباء و طالبات اور سرکاری ملازمین نے شرکت کی۔ صدر عارف علوی نے مظفرآباد میں یادگار شہداء کی افتتاحی تقریب اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا اور بھارت سے 8 مطالبات کیے۔ ایوان صدر اسلام آباد میں سیمینار ہوا جس میں غیر ملکی سفارتکاربھی شریک ہوئے ۔

یوم کشمیر کے سلسلے میں ایک اہم کانفرنس برطانوی پارلیمنٹ میں منعقد ہوئی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خصوصی شرکت کی۔ بھارت کو سفارتی سطح پر اس کانفرنس کو ناکام بنانے میں شدید خفت کا سامنا ہوا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کانفرنس میں کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی حالیہ رپورٹس نے نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا ہے۔

انھوں نے کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس لندن کے حوالے سے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ کشمیر ڈے اس سال پورے پاکستان میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا۔ اس دفعہ ہم لندن میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں۔ سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی برائے امور خارجہ کے ساتھ مل کر ہم لندن میں مظلوم کشمیری بھائیوں کا مقدمہ لڑنے جا رہے ہیں، مجھے خوشی ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران میں بھی کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز پارلیمانی گروپ کی 30 اکتوبر کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے چشم کشا انکشافات موجود ہیں، کشمیر کے مسئلے پر اور پاکستان کی ترجیحات پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ایک ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ قابض بھارتی افواج مقبوضہ وادی میں انسانیت کی تذلیل اور کشمیریوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے انھیں زنجیروں سے باندھ کر گاڑیوں سے گھسیٹتی ہے، انھوں نے کشمیریوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اس تحریک کو دوام بخشنے کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی دی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت جی ایچ کیو میں 218 ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں جیو اسٹرٹیجک صورتحال اور داخلی سیکیورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے معصوم کشمیریوں پر مظالم بھی زیر بحث آئے ، کور کمانڈرز کانفرنس میں سرحد پار سے کسی بھی دراندازی کو ناکام بنانے کے لیے ورکنگ باؤنڈری اور مشرقی سرحدوں پر پاک فوج کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا، مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے لیے برسر پیکار کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا، شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ اپنی سرحدوں کے تحفظ سمیت مربوط قومی ردعمل پر بھرپور توجہ ہے، ملک دشمن عناصر کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہیں ۔

یوم کشمیر کے حوالے سے تقریبات میں قومی شخصیات اور اداروں کی قلبی شرکت قابل دید تھی، چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی خصوصی ہدایت پر سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین سینٹر مشاہد حسین سید اور اراکین کمیٹی مسئلہ کشمیر پر عالمی رائے عامہ ہمورا کرنے کے لیے لندن پہنچ گئے ہیں جہاں وفد کے اراکین برطانوی درالعوام اور درالااْمرء کے اراکین سے تبادلہ خیال کے علاوہ برطانیہ کی سیاسی قیادت کو مقبوضہ کشمیر میں بھاتی افواج کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے مسئلہ کشمیر پر عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری کو بروئے کار لاتے ہوئے اس مسئلے کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اْجاگر کیا جاسکتا ہے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ اس سلسلے میں موثر کردار ادا کر سکتی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ حقِ خودارادیت کشمیری عوام کا بنیادی حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں طاقت کے استعمال سے تحریکِ آزادی کو نہیں دبایا جا سکتا ۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے اپنی قراردادوں کی حرمت کا خیال کرے، بھارتی ظلم وبربریت کا خوابیدہ عالمی ضمیر فوری نوٹس لے اور کشمیریوں سے بین الاقوامی یکجہتی کے لیے ہر وہ اقدام اٹھایا جائے جو مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے ناگزیر ہو۔آج کشمیر عالمی ضمیر کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

 

مقبول خبریں