اسٹیٹ بینک کے اقدامات بے سود ڈالر ریکارڈ 104 روپے 25 پیسے کا ہوگیا

ڈالراوپن مارکیٹ میں 1 روپے 25 پیسے مہنگا،انٹربینک میں بھی قدر10 پیسے بڑھ کر100.85 روپے کی بلندترین سطح تک پہنچ گئی.


Ehtisham Mufti July 25, 2013
اسٹیٹ بینک کی نئی شرائط سے زرمبادلہ کی غیرقانونی تجارت کے چینلز متحرک،ایکس چینج کمپنیوں کا آج ہنگامی اجلاس طلب،کل ریگولیٹر سے بات ہوگی،ملک بوستان۔ فوٹو: فائل

مرکزی بینک کی جانب سے نئے اقدامات کے باوجود امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ رک نہ سکا جسکے نتیجے میں بدھ کواوپن کرنسی مارکیٹ میں 1 روپے 25 پیسے کے اضافے سے امریکی ڈالر کی قدر تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 104 روپے پیسے 25 کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔

امریکی ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدرکے ساتھ برطانوی پاؤنڈ کی قدر بھی ملکی تاریخ میں پہلی بار158.50 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر10 پیسے کے اضافے سے 100.85 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے نام پر ڈالر کی فروخت کے لیے قواعد وضوابط مزید سخت کرتے ہوئے 10 ہزار ڈالر کے ٹرانزیکشن کے لیے این ٹی این کی شرط عائد کردی تھی لیکن ان شرائط کے سبب غیرقانونی ذرائع سے ڈالر کی خریدوفروخت بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

اوپن کرنسی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی گھبراہٹ اور غیریقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ ملک بوستان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی سرکلر کے اجرا سے مارکیٹ میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ایکس چینج کمپنیوں کو بھی زرمبادلہ کی خریداری وفروخت کے حوالے سے نئی شرائط پر تحفظات ہیں کیونکہ ان نئے اقدامات سے امریکی ڈالر کی قدر مزید بے قابو ہوجائے گی اور ڈالر کی بلیک مارکیٹ دوبارہ متحرک ہوجائے گی۔



انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے اور بھارت کی جانب سے سونے کی درآمدات پر10 فیصد ڈیوٹی عائد ہونے کے منفی اثرات بھی مقامی کرنسی مارکیٹ پر مرتب ہورہے ہیں کیونکہ سونے کے درآمدکنندگان مستقبل میں سونے کی قیمتوں میں ممکنہ نمایاں اضافے کی توقعات پر زیادہ سے زیادہ سونا درآمد کرنے کے خواہشمند ہیں لیکن اسٹیٹ بینک کے ترمیمی ایف ای سرکلر نمبر4 جاری ہونے کے بعد انہیں تجارتی بینکوں یا دیگر قانونی ذرائع سے سونا درآمد کرنے کے لیے ڈالرمیسر نہیں ہیں لہٰذا وہ عام آدمی کے توسط سے اوپن مارکیٹ سے ڈالر کے حصول کے لیے رجوع کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے نئے اقدامات کے بعد زرمبادلہ کے قانونی چینلز بری طرح متاثر ہورہے ہیں جبکہ ایکس چینج کمپنیوں کو زبردست مسابقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ غیرلائسنس یافتہ منی چینجرز دوبارہ متحرک ہوگئے ہیں جو ڈالر کی قلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانی قیمتوں پر ڈالر کی خریدوفروخت کررہے ہیں۔ ملک بوستان نے بتایا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے درمیان جمعہ کو ایک اہم اجلاس متوقع ہے۔

مقبول خبریں