جاپان کو آم کی کمرشل ایکسپورٹ کا آغاز پہلی کھیپ روانہ

غیرملکی ایئر لائن کے ذریعے 550 کلو گرام آم بھیجے گئے، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی


Business Reporter July 25, 2013
غیرملکی ایئر لائن کے ذریعے 550 کلو گرام آم بھیجے گئے،ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی۔ فوٹو: فائل

جاپان کو پاکستانی آم کی کمرشل ایکسپورٹ کا آغاز ہو گیا ہے۔

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق جاپان کے لیے 550 کلو گرام کی پہلی کمرشل کنسائمنٹ غیرملکی ایئرلائن کے ذریعے روانہ کردی گئی ہے، جاپان نے گزشتہ سال پاکستان پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے آم برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور گزشتہ سال بھی جاپان کو پروموشن کے لیے 1700 کلو گرام آم برآمد کیا گیا تھا، جاپان سالانہ 12 ہزار ٹن آم درآمد کرتا ہے۔

جاپان کو آم کی برآمد کے لیے ویپر ہاٹ ٹریٹمنٹ لازمی ہے، جاپان اگرچہ آم کی محدود منڈی ہے تاہم پاکستان جاپان کو برآمدات کے ذریعے پاکستانی آم کی سب سے زیادہ قیمت 10 سے 12 ڈالر فی کلو تک حاصل کی جاسکتی ہے۔



پاکستان نے گزشتہ 2 سال سے جاپان کے قرنطینہ آفیسر کی خدمات حاصل کررکھی ہیں جو آم کے سیزن میں پاکستان آکر ٹرٹیمنٹ پراسیس اور شپمنٹ کو جاپانی معیار کے مطابق بنانے کے عمل کی نگرانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں، اس مقصد کے لیے حکومت نے ایک چھوٹا پلانٹ خرید کر کراچی ایئرپورٹ کے نزدیک نصب کر رکھا ہے، حکومت نے جاپان کو کمرشل بنیادوں پر آم کی برآمد کے لیے 15 ٹن یومیہ گنجائش کا بڑا وی ایچ ٹی پلانٹ بھی خرید لیا ہے جو آئندہ ماہ تک پاکستان پہنچ جائے گا۔

پلانٹ کو ایکسپورٹرز اور کاشتکاروں کے مشورے پر نئی سبزی منڈی کے قریب نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے سندھ حکومت سے قطعہ اراضی بھی خریدا جائے گا، یہ پلانٹ کامن فیسلیٹی کے طور پر چلایا جائے گا جہاں مناسب چارجز پر جاپان کے لیے آم کی وی ایچ ٹی پراسیسنگ کی جائیگی۔