سینئر صوبائی وزیر علیم خان کی گرفتاری

یہ خوش آئند پیش رفت تھی کہ علیم خان وزارت سے فوری مستعفی ہوگئے۔


Editorial February 08, 2019
یہ خوش آئند پیش رفت تھی کہ علیم خان وزارت سے فوری مستعفی ہوگئے۔ فوٹو: فائل

نیب لاہور نے اگلے روز پنجاب حکومت کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان کو آف شور کمپنیز کیس میں گرفتار کیا ہے۔ نیب لاہور کے اعلامیہ کے مطابق عبدالعلیم خان کو آف شور کمپنیز اسکینڈل اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں جاری انکوائری پر بیان کے لیے ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا، وہ اپنے اثاثہ جات، آف شور کمپنیز کے قیام اور پیسوں کی منتقلی کے معاملے پر شواہد کے حوالے سے نیب ٹیم کو مطمئن نہیں کرسکے جس پر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

عبدالعلیم خان اس سے قبل تین بار نیب میں پیش ہو چکے تھے، ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے مطابق نیب بہتر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات سرانجام دے رہا ہے جس میں پسند نا پسند کا تصور نہیں، چیئرمین نیب کے ویژن کے مطابق کرپٹ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، تمام میگا کرپشن مقدمات کی انتہائی شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں اور انہیں جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔

ملک میں احتسابی عمل بلا روک ٹوک جاری ہے، کئی ہائی پروفائل کیسز کی تحقیقات حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہے، نیب کی اس کارروائی پر سیاسی اور دیگر قانونی حلقوں میں مختلف آراء کا اظہار کیا جارہا ہے ، اپوزیشن اور بعض تجزیہ کاروں نے اسے اب تک کی گرفتاریوں کے تقابلی تناظر میں بیلنسگ ایکٹ قراردیا ہے تاہم جوابدہی کی ناگزیر قومی ضرورت کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز نے نیب کے اقدامات کا قانونی سطح پر جواب دینے کی جمہوری ضرورت پرزور دیا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے لیے یہ سیاسی دھچکا ہے تاہم سیاست دانوں کی اجتماعی بلوغت اور سنجیدہ رویے بادی النظر میں سیاسی نظام جمہوری و سیاسی نظام کی شفافیت،کرپشن کے خاتمے اور سیاسی منظرنامے کے جمہوری ارتقا کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔

اس سے تحقیقاتی اور قانونی اداروں کے دباؤ سے آزاد ہونے ، عدلیہ کے منصفانہ تشخص اور حکومت کی رواداری اور قانون کی بالادستی پر یقین کا اہم مرحلہ بھی طے پاسکے گا۔ یہ خوش آئند پیش رفت تھی کہ علیم خان وزارت سے فوری مستعفی ہوگئے، انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بھجوادیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ مقدمے میں گرفتاری کے باعث مستعفی ہورہے ہیں اور عدالت میں کیس کا سامنا کریں گے، وہ اخلاقی طور پر بہتر نہیں سمجھتے کہ عہدے پر فائز رہیں،ادھرعبدالعلیم خان کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ عبدالعلیم خان نے اپنے اندرون و بیرون ملک تمام اثاثے پہلے ہی ڈیکلئیر کر رکھے ہیں، ان کا نام پاناما لیکس میں کہیں شامل نہیں۔

نیب نے جب بھی بلایا وہ پیش ہوئے اور تمام مطلوبہ ریکارڈ فوری طور پرمہیا کیا، ادھر تحریک انصاف کا موقف بھی سامنے آیا کہ جہانگیر ترین ، اعظم سواتی بابر اعوان و دیگر کے بعد اب علیم خان کے استعفیٰ سے پی ٹی آئی نے اپنی اعلیٰ اخلاقی روایت قائم رکھی ہے۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ ہاؤس میں تحریک انصاف پنجاب کی قیادت نے احتجاج سے گریز کی جمہوری روش اختیار کرتے ہوئے علیم خان کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا، ایوان وزیراعلیٰ لاہور میں عثمان بزدار اورگورنر محمد سرور کی زیرصدارت تحریک انصاف کی پارٹی اور حکومتی قیادت کا اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں عبدالعلیم خان کے گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ وزیر قانون بشارت راجہ نے گرفتاری اور قانونی پہلوؤں پر شرکاء کو بریف کیا ۔

اجلاس میں عبدالعلیم خان کی جانب سے وزارت سے مستعفی ہونے کے فیصلے کو خراج تحسین پیش کیا گیا ، اجلاس میں کہا گیا کہ تحریک انصاف قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ، ماضی کی طرح اب کسی ادارے پر کوئی حکومتی دباؤ نہیں ، سابق حکومتوں نے اداروں پر تنقید کر کے ان کا تشخص مجرو ح کرنے کی کوشش کی ، تحریک انصاف کی حکومت ماضی کی حکومتوں کے برعکس انصاف کی عملداری پر یقین رکھتی ہے ، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا ۔ مسلم لیگ (ن)پنجاب کے ترجمان ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ علیم خان کو بھی بے بنیاد ثبوتوں پر گرفتار کیا گیا تویہ بھی غلط ہے ۔

بہر حال اپوزیشن اور حکومتی حلقوں کی ذمے داری ہے کہ ملک میں معاصرانہ سیاسی چپقلش کی شدت بڑھنے نہ دیں، جو عدالت،قانون اور انصاف کے معاملات ہیں ان پر سیاست کرنے سے اجتناب مناسب ہے۔ قانون کو راستہ دینے کی جمہوری روایت کو مضبوط ہونا چاہئے۔

بلاشبہ سیاسی اسٹیک ہولڈرز کا یہ بیانیہ قابل غور ہے کہ نیب کو غیر جانبدار رہنا چاہئے اور جہاں کہیں مضبوط کیس ہو نیب کوضرور گرفتاری کرنی چاہئے تاکہ کسی کو شکایت نہ ہو کہ احتساب یک طرفہ اور ٹارگیٹڈ ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علیم خان جیسے سینئر اور طاقتور وزیر کی گرفتاری سے ثابت ہوگیا ہے کہ احتساب کا عمل کسی دباؤ کے بغیر جاری رہیگا اور اسی میں جمہوری عمل کی شفافیت اور جوابدہی کی ناگزیریت مضمر ہے۔

مقبول خبریں