طبقۂ اشرافیہ صدارت بھی جس کے ہاتھ سے گئی

چند روز بعد صدر پاکستان کا انتخاب عمل میں آئے گا اور ہماری تاریخ میں یہ معجزہ پہلی دفعہ ہو گا کہ ایک منتخب صدر۔۔۔


Zahida Hina July 27, 2013
[email protected]

چند روز بعد صدر پاکستان کا انتخاب عمل میں آئے گا اور ہماری تاریخ میں یہ معجزہ پہلی دفعہ ہو گا کہ ایک منتخب صدر اپنی مدت صدارت پوری کر کے جمہوری طور پر ایک دوسرے منتخب صدر کو اپنے تمام اختیارات منتقل کرے گا۔ ہم سب کے لیے یہ خوشی کا موقعہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں فوجی آمر ہماری شہ رگ میں اپنے دانت پیوست کیے رہے اور جنھوں نے ملک کی سیاسی اور سماجی بنت کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ وہاں واقعی یہ ایک شاندار واقعہ ہے۔

اس صدارتی انتخابات میں جناب ممنون حسین، جناب رضا ربانی اور جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، اب پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر کے بظاہر محترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر جناب آصف علی زرداری کی اس واضح حکمت عملی سے انحراف کیا ہے کہ کسی بھی انتخابی عمل میں سیاسی حریفوں کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بہرحال ہر جماعت اپنا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔ یہ بات سب کو ہی معلوم ہے کہ کون ہارے گا اور کس کی جیت ہو گی لیکن ان امیدواروں کو نامزد کرنے والی سیاسی جماعتیں ان کی کامیابی کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں۔ امیدواروں پر اعتراضات بھی ہو رہے ہیں اور کچھ لوگ ان کی تعریف و توصیف میں مصروف ہیں۔ یہ ایک عام سا منظر نامہ ہے جس پر کسی کو بھی حیرت نہیں لیکن قوم کے ایک 'محسن اعظم' کا یہ بیان حیران کر گیا کہ کیا وقت آ گیا ہے کہ اب کپڑا ناپنے، دودھ بیچنے اور جلیبی بنانے والے اس ملک کے صدر ہوں گے۔

پاکستان کے اس 'بطل جلیل' کا اشارہ جس طرف ہے اسے سب سمجھتے ہیں۔ اس وقت سرسید احمد خان یاد آئے۔ جنھوں نے مسلمانوں کے نواب اور جاگیردار طبقہ اشرافیہ کے سامنے ان کے بیٹوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کے حق میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تم نے اپنے بیٹوں کو تعلیم نہ دلوائی تو یہ جانو کہ اجلاف، اشراف پر حکومت کریں گے۔ یعنی نچلا طبقہ، طبقہ اعلیٰ پر حاوی آ جائے گا۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ وہ مسلمان نوجوانوں کی تعلیم کو بھی طبقاتی بنیادوں پر دیکھتے تھے اور انھیں مسلمانوں کے غریب طبقات یعنی 'اجلاف' کی تعلیم اور ترقی سے دلچسپی نہیں تھی۔ ان کی رخصت کے بعد اگر ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ 1906ء میں نواب آف ڈھاکا کی محل نما کوٹھی میں قائم ہونے والی مسلمانوں کی سیاسی جماعت مسلم لیگ کو عام مسلمانوں کی بہبود سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔ تب ہی وہ 30 برس تک جاگیر دار اشرافیہ کی نمائندگی کرتی رہی۔

عوام سے اس کا ربط و رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ 30 کی دہائی کے اختتام کے دنوں میں جب تعلقہ داروں، نوابوں اور زمینداروں کو یہ اندازہ ہوا کہ آل انڈیا نیشنل کانگریس انگریزوں کے خلاف جو ملک گیر تحریک آزادی چلا رہی ہے اس میں اگر وہ کامیاب ہو گئی اور ہندوستان کو آزادی مل گئی تو کانگریس زمینداری کی تنسیخ کر دے گی اور ریاستیں اور راجواڑے بھی اپنی خود مختار حیثیت سے محروم ہو جائیں گے۔ زمینداروں، تعلقہ داروں، راجوں، مہاراجوں اور نوابوں میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو، سکھ اور راجپوت بھی تھے لیکن وہ ہوا کا رخ سمجھ رہے تھے۔ ان میں سے کچھ کانگریس میں شریک ہوئے اور بیشتر نے اپنے آپ کو وقت اور تقدیر کے دھارے پر چھوڑ دیا۔ لیکن مسلمان زمیندار اور جاگیردار مسلم اشرافیہ کو جمہوریت سے اس لیے بھی خوف آتا تھا کہ ہندو اور مسلمانوں کے ہنر مند طبقات کے ووٹ مل کر انھیں سماجی بلندیوں سے نیچے دھکیل سکتے تھے۔ بہت معذرت کے ساتھ یہی وہ نفسیاتی گرہ ہے جس کی بناء پر آج اس ملک کے ایک نامی گرامی شخص اور بعض لوگوں کے مطابق ''محسن پاکستان'' جیسے فرد کو بھی عوامی پیشوں کی تضحیک کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوئی۔

مغل دربار کے بعد برٹش امپائر کے ارسٹوکریٹک طبقے سے وابستہ ہونے والوں کے لیے ملک بننے کے 65 برس بعد بھی یہ ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ ایوان صدر یا ایوان وزیر اعظم میں جاگیرداروں، اعلیٰ افسر شاہی یا فوجی طبقات سے تعلق رکھنے والوں کی بجائے، وہ لوگ ان ایوانوں میں متمکن ہوں جو محنت کش، ہنر مند، پیشہ ور اور متوسط طبقات سے وابستہ ہوں۔ ہم ہندوستانی تاریخ کے ایک نامی گرامی غدار میر جعفر کے سگڑ پوتے اسکندر مرزا کو ایوان صدر میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کراچی کے کسی بازار میں کپڑے کی دکان پر بیٹھنے والا، شریف و نجیب اور کسی لاگ لپٹ کے بغیر دو ٹوک بات کر دینے والا جو شخص 60 کی دہائی میں آئی بی اے کا فارغ التحصیل ہو، تب بھی وہ ہماری حکمران اشرافیہ کی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے۔

یہ بیان پڑھ کر مجھے وہ نام یاد آئے جو خاک سے اٹھے اور جنھوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ مجھے ''شاہنامہ'' کا اساطیری کردار ''کاوہ'' یاد آیا جس کے 18 میں سے 17 بیٹھے ظالم ضحاک کا نوالہ بنے۔ ضحاک وہ کردار ہے جس کے دونوں شانوں پر دو سانپ اگ آئے تھے۔ جنھیں روزانہ نوجوانوں کا مغز کھلایا جاتا تھا۔ ایسا نہ ہوتو وہ ضحاک کو اس طرح ڈستے تھے کہ وہ بلبلاتا ہوا چیخیں مارتا تھا۔ ''کاوہ'' پیشے کے اعتبار سے لوہار تھا جب اس نے ضحاک کے ظلم و ستم کے ستائے ہوئے لوگوں کا انبوہ دیکھا تو اس نے بغاوت کا فیصلہ کر لیا۔ چمڑے کی اپنی دھونکنی کو کاٹ کر اس نے علم بنایا۔ ایک فریدوں کو اپنا سردار چنا اور آس پاس کی خلقت کو اکٹھا کر کے ضحاک کے قلعے پر حملہ آور ہوا۔ یہ بغاوت کامیاب ہوئی، ضحاک قتل ہوا، فریدوں تخت پر بیٹھا اور لوہار ''کاوہ'' کا دھونکنی کے چمڑے سے بننے والا علم بغاوت ''درفش کاویانی'' کے نام سے مشہور ہوا۔ نسل در نسل ایرانی بادشاہ اور شہنشاہ اور اس پر ہیرے اور جواہرات ٹنکواتے رہے۔ اس نذر کو وہ اپنی بادشاہت کے لیے نیک فال خیال کرتے تھے۔

مجھے نہیں معلوم کہ کاوہ جس کا آبائی پیشہ لوہا کوٹنا اور اسے بھٹی میں تپا کر اس سے تلواریں، تیر اور نیزے بنانا تھا۔ کیا اس کے بارے میں بھی ہمارے ''ہیرو'' اس طرح کے استہزایہ جملے کہہ سکتے تھے؟

اور پہلی صدی عیسوی کا سائی لین جو خواجہ سرا تھا۔ اس نے انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ کاغذ ایجاد کیا اور اسے چینی شہنشاہ کی نذر کیا۔ یہ ایک ایسا نادر کام تھا کہ شہنشاہ نے خوش ہوکر اسے نہ صرف انعام و اکرام سے مالا مال کیا۔ بلکہ چین کی شاہی اشرافیہ میں بھی شامل کیا۔ یہ ایک ایسا اعزاز تھا جس کے بارے میں تصور بھی محال تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے نکتہ سنج ہیرو کا سامنا اگر سائی لین سے ہوتا تو وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے؟ آپ خود ہی سوچیں کہ ایک خواجہ سرا اور چینی اشرافیہ میں شمار کیا گیا۔ شاید یہ حکم دیتے ہوئے شہنشاہ نے عرقِ گلاب میں حل کی ہوئی افیون کچھ زیادہ مقدار میں استعمال کر لی تھی۔

ہم قبل مسیح یا بعد مسیح کی ابتدائی صدیوں میں کیوں جائیں؟ انیسویں اور بیسویں صدی پر ایک سرسری نگاہ ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ان دو صدیوں میں ان گنت لوگ گزرے ہیں جن کا تعلق پیشہ ور طبقات سے تھا اور جو وکیلوں، ڈاکٹروں اور محرروں کے بیٹے تھے۔ ان میں گاندھی جی، جناح صاحب، پنڈت نہرو، نیلسن منڈیلا، بارک اوباما اور ایسے ہی ان گنت لوگ شامل ہیں جو افتادگان خاکِ میں سے تھے اور پھر اوج ثریا تک پہنچے۔

ایسی متعدد مثالیں ہیں جو تاریخ میں بکھری ہوئی ہیں۔ پستیوں سے اٹھ کر بلندیوں تک پہنچنے والے ان سیکڑوں افراد نے اپنی اور اپنے لوگوں کی تقدیر اپنے ہاتھوں سے بنائی اور تاریخ کے صفحوں پر امر ہو گئے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عوام کی دانش اپنے حالات سے تنگ آ جائے تو اپنے رہنما، اپنی ہی صفوں سے چنتی ہے اور انھیں تاریخ میں ''اشرافیہ'' کا مقام دیتی ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ صدارتی امیدوار کو طنز کا نشانہ بنانے والے پنجاب میٹرک کے نتائج پڑھ کر کیا سوچ اور کیا کہہ رہے ہوں گے کہ گوجرانوالہ کے سبزی فروش کا بیٹا اول، لاہور کے پلمبر کا بیٹا دوسری اور ملتان میں پکوڑے بیچنے والے کا بیٹا تیسری پوزیشن پر آیا۔ محنت مشقت کرنے والے، اپنے غریب ماں باپ کی مشکلیں آسان کرنے کے لیے فاضل وقت میں رکشا چلانے اور ٹھیلے پر بیٹھنے والے یہ بچے قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔

وہ جنھیں ''اجلاف'' کہا جاتا تھا۔ اب ''اشراف'' کے حلقے میں شامل ہونے والے ہیں۔ کل ان کی ترقیوں اور کامیابیوں پر آپ کیا کہیں گے؟ کل یہ آپ کے حکمران ہوں گے۔ آج وزارت عظمیٰ پر ایک محنت کش کا بیٹا بیٹھا ہے اور منصب صدارت پر ایک چھوٹی سے دکان پر بیٹھنے والا متمکن ہونے والا ہے۔

یہ سب جمہوریت کی عطا ہے۔

مقبول خبریں