ہفتہ رفتہ کاٹن عالمی سطح پر مندی کا رجحان مقامی مارکیٹوں میں تیزی آگئی

سندھ میں قیمتیں6ہزار 700،پنجاب میں 6ہزار 600روپے فی من تک پہنچ گئیں،اسپاٹ ریٹ 100روپے کم ہوگئے


Ehtisham Mufti July 29, 2013
چین کی جانب سے سوتی دھاگے کی درآمد میں کمی کے باعث بھارتی منڈیوں میں بھی غیر معمولی مندی رہی، احسان الحق ممبر پی سی جی اے۔ فوٹو: فائل

چین کی جانب سے روئی کے اسٹاکس قائم رکھنے بارے پالیسی میں 2013-14 کے دوران متوقع تبدیلی کی اطلاعات اور بھارت اور چین میں کپاس کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہونے بارے رپورٹس جاری ہونے کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان غالب رہا۔

جبکہ پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران کاٹن زونز میں ہونے والی بارشوں کے باعث پھٹی کی آمد میں کمی اور عید الفطر کی تعطیلات کے دوران کاٹن جینگ فیکٹریوں میں روئی کی پیداوار معطل ہونے سے ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے روئی خریداری رجحان میں اضافے کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں آنے والا مندی کا رجحان دوبارہ تیزی میں تبدیل ہوگیا۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس''کو بتایا کہ دنیا بھر میں روئی کے سب سے زیادہ سٹاکس قائم رکھنے والے ملک چین نے عندیہ دیا ہے کہ وہ 2013-14 کے دوران پہلے کے مقابلے میں روئی کے اسٹاکس کافی کم کر سکتا ہے کیونکہ رپورٹس کے مطابق 2013-14 کے دوران چین میں کپاس کی پیداوار پہلے تخمینوں 7.05ملین میٹرک ٹن کی بجائے 7.22ملین میٹرک ٹن متوقع ہے جبکہ بھارت میں رواں سال کپاس کی کاشت 10.05ملین ہیکٹر رقبے پر متوقع ہے جو کہ سال 2012-13 کے مقابلے میں 1.68ملین ہیکٹر زائد ہیں جس کے باعث دنیا بھر میں 2013-14 کے دوران کپاس کی پیداوار،کھپت کے مقابلے میں کافی زیادہ ہونے کی توقعات کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی بڑی بین الاقوامی منڈیوں امریکا، بھارت اور چین میں روئی کی قیمتوں میں مندی کے رجحان کے ساتھ ساتھ اس کے خریداری رجحان میں بھی کافی کمی دیکھی گئی۔



انہوں نے بتایا کہ چین کی جانب سے سوتی دھاگے کے درآمد میں بھی گزشتہ ہفتے غیر معمولی کمی دیکھی گئی جس کا سب سے زیادہ اثر بھارتی منڈیوںمیں دیکھا گیا جہاں کپاس کی قیمتوں میں غیر معمولی مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ احسان الحق نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں مندی کی لہر کے باعث 6ہزار 500روپے فی من تک گر گئیں تھیں لیکن سندھ اور پنجاب کے تمام کاٹن زونز میں ہونے والی یا متوقع بارشوں کے باعث پھٹی کے آمد میں زبردست کمی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی لاہور میں ٹیکسٹائل ملز مالکان کے ایک بڑے گروپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ٹیکسٹائل ملز مالکان کو آئندہ چند ہفتوں کے دوران ٹیکسٹائل ملوں کو بجلی اور گیس کی وافر فراہمی کی یقین دہانی کے بعد ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے روئی خریداری رجحان میں زبردست اضافے کے باعث سندھ میں روئی کی قیمتیں دوبارہ 6ہزار 700 روپے جبکہ پنجاب میں 6ہزار 600 روپے فی من تک پہنچ گئیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر ٹیکسٹائل ملز کو توانائی کی مکمل فراہمی واقع ہی شروع ہو گئی تو اس سے پاکستان بھر میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان سامنے آنے کے امکانات ہیں کیونکہ روپے کی مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو سوتی دھاگے اور گرے کلاتھ کی برآمد میں کافی فائدہ پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.30سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 93.45 سینٹ فی پاؤنڈ اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودے 1.13سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 85.37سینٹ فی پاؤنڈ بھارت میں روئی کی قیمتیں 675روپے فی کینڈی مندی کے بعد 41ہزار 825روپے فی کینڈی تک گر گئیں تاہم چین میں گزشتہ ہفتے روئی کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے 20ہزار 915 یوآن فی ٹن تک مستحکم رہیں جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 100روپے فی من کمی کے بعد 6 ہزار 500 روپے فی من تک گر گئے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال پاکستان بھر میں کپاس کی فصل فی الحال بہت اچھی ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر موسمی اثرات کے باعث کپاس کی فصل کو کوئی خاص نقصان نہ پہنچا تو 2013-14کے دوران پاکستان میں کپاس کی ریکارڈ پیداوار متوقع کی جا سکتی ہے۔

مقبول خبریں