سابق وموجودہ حکومت میں رتی بھرفرق نہیںاعجاز چوہدری

کراچی میں امن کیلیے گورنر راج لگانا پڑے گا،ہارون الرشید کی تکرارمیں گفتگو.


Monitoring Desk July 29, 2013
بھارت 5 برسوں میں پاکستان کی30لاکھ ایکڑ اراضی برباد کردے گا، ابراہیم مغل. فوٹو : فائل

تحریک انصاف پنجاب کے صدراعجازچوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے بلائی جانے والی اے پی سی بھی ماضی کی طرح نشستند، گفتند، برخاستندہی ہوگی،عمران خان کااس حوالے سے بیان ان کی قیادت کی بصیرت کاثبوت ہے۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام تکرارمیں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ سابق اورموجودہ حکومت میں رتی بھرفرق نہیں،وہی وارآن ٹیرر،امن وامان ،مہنگائی اورآئی ایم ایف کے شکنجے جیسے مسائل ہیں،کیا ہماری خارجہ پالیسی گزشتہ ایک دہائی سے ناکام نہیں؟بہت سارے معاملات عوام میں نہیں بتائے جاسکتے مگرہمیں تو بتائیں،جو جماعت70 لاکھ سے زائد ووٹ لے کردوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آتی ہے ،اسے تو اعتمادمیں لیں،آپ عمران خان کودوسری حکومتی جماعتوں کے ساتھ نہیں جوڑسکتے،ایم کیوایم اور فضل الرحمان سابق حکومتوں کے بھی ساتھ تھے،تحریک انصاف کے رہنما نے کہاکہ میاں صاحب ہمارے بغیر اے پی سی بلائیں،امن قائم کریں ،ہمیں اس کے علاوہ اورکیا چاہیے؟۔



مسلم لیگ ن اورایم کیوایم کے اتحادکے حوالے سے سنیئرتجزیہ کار ہارون الرشید نے کہاکہ ایم کیوایم نے غالباًاپنا گورنر تو بچالیاہے مگر آخر کب تک؟ درحقیقت الطاف حسین لندن میں منی لانڈرنگ اورقتل کیس وغیرہ کے باعث دباؤمیں ہیں، ایم کیوایم کوکراچی میں تحفظ درکارتھاجو حکومت نے دے دیا،ایم کیوایم اقتدارسے دورنہیں رہ سکتی ،اس کی ساکھ برباد ہوچکی،میاں صاحب اپوزیشن میں تو بوری بندلاشوںکی بات کرتے تھے،الطاف حسین کوغیرملکی شہری قراردیتے تھے، ہارون الرشید نے امکان ظاہر کیاکہ ایم کیوایم سے اتحادمیں اسٹیبلشمنٹ کابھی کردار ہوسکتا ہے۔

تحریک انصاف کے پنپنے سے ایم کیوایم گھبراگئی ہے،نواز شریف بھی تحریک انصاف کے فروغ سے خوش نہیں ہونگے،وہ پیپلزپارٹی کوبھی محدودکرناچاہتے ہیں،انہیں کراچی میں امن قائم کرناہے تو انھیں گورنر راج لگانا پڑے گا۔پروگرام میں نمائندہ ایکسپریس شاہ ولی اللہ نے کراچی کے لینڈمافیاکے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ لینڈ مافیا، پولیس اورکے ڈی اے کاعملہ آپس میں ملاہواہے،افسران کرپشن کا منبع بن چکے ہیں،ان کے تانے بانے اقتدارکے ایوانوں سے ملتے ہیں،سیاسی اثرورسوخ استعمال کرکے انھیں بچالیا جاتا ہے،ایوب دور میں سرکلر روڈ کا روٹ طے کیاگیا، منصوبہ ختم ہونے کے بعداسے گرین بیلٹ قراردے دیاگیا، سپریم کورٹ نے بھی یہاں پارک بنانے کاحکم دیا،پیٹشنر رؤف قادری نے کہا کہ عیدگاہ کو پلاٹ میں منتقل کردیاگیاتاہم عدالت نے بھی قرار دیا کہ ایسانہیں کیا جاسکتا۔پروگرام میں دریائے چناب پربھارتی ڈیم بنانے کے حوالے سے آبی امور کے ماہر ابراہیم مغل نے کہا کہ بھارت 5برسوں میں پاکستان کی30لاکھ ایکڑاراضی بربادکردے گا۔