روزنامہ ایکسپریس ملتان کے سینئر ریذیڈنٹ ایڈیٹر عاشق علی فرخ انتقال کرگئے

گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، نماز جنازہ آج مصطفی آباد للیانی میں ادا کی جائیگی


Numainda Express July 29, 2013
ایکسپریس لاہورکے سینئر نیوز ایڈیٹرآصف علی فرخ کے والد تھے، صحافتی حلقوں کی تعزیت۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

روزنامہ ایکسپریس ملتان کے سینئر ریذیڈنٹ ایڈیٹر سید عاشق علی فرخ انتقال گئے ہیں۔

وہ شوگر اور گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ ان کی نماز جنازہ آج ساڑھے8 بجے مصطفی آباد للیانی ( قصور ) میں ادا کی جائے گی۔ سید عاشق علی فرخ1942ء میں ضلع قصور کے نواحی علاقے للیانی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور آگئے اور پنجاب یونیورسٹی سے گریجوایشن اور ایم اے جرنلزم کیا اور روزنامہ نوائے وقت سے 1962ء میں منسلک ہو گئے۔

1978ء میں نوائے وقت ملتان میں بطور نیوز ایڈیٹر تعینات ہوئے اور2002ء تک فرائض سرانجام دیے۔2002ء میں روزنامہ ایکسپریس ملتان سے منسلک ہوئے اور بطورسینئر ریذیڈنٹ ایڈیٹر تا دم آخر اپنے فرائض سر انجام دیے، سید عاشق علی فرخ نے شروع میں چند ماہ رپورٹنگ کی مگر بعد ازاں ایڈیٹنگ کے شعبے میں آگئے اور50 برس صحافت میں گزار دیے اپنے مزاج اور ڈسپلن کے باعث شاہ جی ایک مثالی افسرمانے جاتے تھے۔ اپنی صحافت کے حوالے سے اکثر یہ شعر کہتے تھے کہ

ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے

ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا



سید عاشق علی فرخ نے پسماندگان میں5بیٹے اور ایک بیٹی سوگوار چھوڑی ہے،ان کے تین بیٹے صحافت سے وابستہ ہیں جن میں سید آصف علی فرخ روزنامہ ایکسپریس لاہور میں بطور سینئرنیوز ایڈیٹر، سید شاہدعلی چینل سٹی42 اور سید راشد علی روزنامہ نوائے وقت سے وابستہ ہیں، ایک بیٹے سید ساجدعلی ڈاکٹر ہیں جو کینیڈا میں مقیم ہیں جبکہ زاہد علی لاہور میں بزنس کرتے ہیں، سید عاشق علی فرخ کوآج ضلع قصور للیانی کے علاقے مصطفی آباد میں سپرد خاک کیاجائیگا۔

دریں اثناگزشتہ شب سید عاشق علی فرخ کی نماز جنازہ ٹیوب ویل ورکشاپ جامع مسجدکے گرائونڈ میں اداکی گئی جس میں سینئر صحافیوں، کالم نگاروں، سیاستدانوں، سماجی ورکروں اور عمائدین شہرکی بڑی تعداد نے شرکت کی، سینئرصحافی سید سلطان شاہ عارف نے سیدعاشق علی فرخ کے انتقال کو صحافت کا بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہاکہ سید عاشق علی فرخ دیانتدار صحافیوں کی صفوں میں درجہ اول کے صحافی تھے۔ وہ نہایت ہی منصف مزاج صحافی تھے جنھوں نے ہمیشہ اعتدال کوپیش نظر رکھا،کبھی کوئی متنازع بات کی اور نہ کرنے دی نہ کوئی ایسی بات لکھی جس سے فساد پھیلنے کا خدشہ ہو۔