بھارت پاکستانی پیشکش کا جواب دے

یہ استرداد اس ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے جس میں آج بھارتی سیکولرازم اور جمہوری دوعملی بے نقاب ہوئی ہے۔


Editorial February 21, 2019
یہ استرداد اس ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے جس میں آج بھارتی سیکولرازم اور جمہوری دوعملی بے نقاب ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل

بھارت نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پلوامہ حملے کی تحقیقات کی پیشکش کومحض حیلے بہانے قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے ۔ یہ استرداد اس ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے جس میں آج بھارتی سیکولرازم اور جمہوری دوعملی بے نقاب ہوئی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا بیان بھارت کے لیے حیران کن نہیں، کیونکہ بھارت کے بقول پاکستانی وزیراعظم نے نہ تو دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور نہ ہی سوگوار خاندانوں سے اظہار افسوس کیا، بلکہ اس حملے کو بھارت کے عام انتخابات پر منسلک کردیا۔

انتہا یہ ہے کہ مودی حکومت نے پلوامہ حملہ کو دہشت گردی کا اقدام تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ کیا عالمی ضمیر اس منطق کو قبول کرسکتا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے ثبوت مانگنا حیلے بہانوں کے سوا کچھ نہیں۔ بھارت کو در حقیقت اپنا جمود زدہ مائنڈ سیٹ بدلنے کی ضرورت ہے۔

پلوامہ واقعے نے بھارتی طرز احساس اور سیاسی فیصلہ سازی کو کتنا متاثر کیا ہے اس کا اندازہ مودی سرکار کے پے در پے اقدامات اور ہیجانی بیانات والزامات سے لگایا جاسکتا ہے، بھارتی ریاست راجستھان کے شہر بیکانیر کی انتظامیہ وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کو48 گھنٹے کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے چکی ہے، پاک بھارت کشیدگی سے 7سے 18مارچ تک حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی عرس تقریبات میں شرکت کے لیے اجمیر جانے کے خواہشمند پاکستانی زائرین کے لیے بھی مشکل پیدا ہوگئی ہے۔

پاکستان کو ٹماٹر کی ایکسپورٹ بند کرنے سے متعلق بھارتی میڈیا کا واویلا جھوٹ نکلا، بھارتی نیوز چینل نے کسانوں کی جانب سے پاکستان کو ٹماٹر کی ایکسپورٹ بند کرنے کی خبر نشر کی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تاہم پاکستانی امپورٹرز نے بھارتی میڈیا کی خبر کو جھوٹ اور غلط قرار دے دیا۔ درآمد کنندگان کے مطابق پاکستان نے زرعی بیماریوں کی وجہ سے بھارتی ٹماٹر کی درآمد پر گز شتہ 3 سال سے پابندی عائد کررکھی ہے۔ 3سال کے دوران بھارت سے ٹماٹر کی درآمد کے لیے ایک بھی امپورٹ پرمٹ جاری نہیں کیا گیا۔

منگل کو بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر انتہاپسندہندو مظاہرین نے زبردستی اندر گھسنے کی کوشش کی جس پر پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا ، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت سیکیورٹی کی ناکامی کی تحقیقات کرے اور نوٹس لے کر ذمے داروں کے خلاف کارروائی کرے، دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ راجستھانی حکم بھارتی جنگی جنون اور الیکشن پر جذبات ابھارنے کا مظہر ہے۔

دریں اثناجرمن سفیرمارٹن کوبلر نے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی جس میں جرمن سفیر کو مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ۔

ادھر میڈیا کے مطابق پاکستان اپنے دوست ملکوں خاص طور پر بااثر ریاستوں کی مدد سے بیک چینل کے ذریعے بھارت سے موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوششیں کررہا ہے۔ سرکاری ذرایع نے بتایا کہ حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، جو اس وقت بھارت میں ہیں، وزیر اعظم عمران خان کا بھارتی وزیر اعظم مودی کے لیے خصوصی پیغام لے کر گئے ہیں۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم مودی کو بتائیں گے کہ پاکستان پلوامہ حملے کے حوالے سے تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔مبصرین بھارتی گیدڑ بھبکیوں کی آڑ میں سازش کی بو بھی محسوس کرتے ہیں، سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے کہاہے بھارت نے کلبھوشن کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے پلوامہ کا ڈرامہ رچایا ۔

اسپیکر اسد قیصر نے کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کا نہیں بلکہ یہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ عالمی برادری خصوصاً برطانوی پارلیمنٹ کشمیر میں بگڑتے حالات کا نوٹس لے اور خطے میں امن کو ممکن بنانے کے لیے کردار ادا کرے،چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی داخلہ رحمان ملک نے خدشے کا اظہارکیا ہے بھارت کچھ بھی کر سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کی جانب سے دھمکیوں کے تناظر میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت تحقیقات کے بغیر پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پر لگا کر اپنے داخلی مقاصد کے تحت پاکستان دشمن بیانات سے خطے کا ماحول کشیدہ بنا رہا ہے۔ یہ بات انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس اورسلامتی کونسل کے ارکان کے نام مکتوب میں کہی ہے۔

وزیرخارجہ نے کہاکہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی جو سنگین غلطی ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماء سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کشمیر پر تبدیلی آرہی ہے ، بھارتی عدالت نے افضل گوروکو پھانسی دیکر در اصل کشمیریوں کی بیگناہی تسلیم کرلی ہے ، پاکستان کشمیر نہیں کشمیریوں کے انسانی حقوق میں دلچسپی رکھتا ہے، پلوامہ کے بعد پی ایس ایل دیکھنا بند ، پاکستانی گانے بند کرنے سے بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا۔

دریں اثنا یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اوروادی کی اندرونی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، یورپین پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورتحال پر بحث ہوئی۔ یورپین ارکان پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کی رپورٹ کی حمایت اور بھارت کے موقف کی مخالفت کر دی۔ انھوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر مظالم اور قتل عام بند کرے۔

رکن واجد خان نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کو آگاہ کیا جائے گا ، ہم ظلم و بربریت کا سامنا کرنے والے مظلوم کشمیر یوں کے ساتھ ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ خطے میں بھارتی جنگی جنون کے باعث معاشی صورتحال بھی متاثر ہوئی ہے، ہزارون ٹرکس اور کنٹینرز واہگہ بارڈرز پر کئی دنوں سے کھڑے ہیں، پاک بھارت کشیدگی، بھارت کی جانب سے دھمکیوں، پاکستان سے بھارت برآمد ہونے والے سیمنٹ کے کنسائنمنٹس واپس بھیجنے کی اطلاعات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو مسلسل پانچویں سیشن میں بھی مندی برقرار رہی۔ جس سے 18کاروباری سیشنزکے بعد انڈیکس کی40ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی۔

مندی کے سبب 69.25 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جب کہ سرمایہ کاروں کے64ارب87 کروڑ78 لاکھ 27ہزار 743روپے ڈوب گئے ، عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کیس میں متبادل ایڈہاک جج کی تقرری کے لیے پاکستان کی اپیل مسترد کردی۔بھارت عدالت انصاف میں قانونی سوالوں کے جواب دینے سے دانستہ گریز کرتا رہا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس سے ملاقات کی اور پلوامہ حملہ سے پیداشدہ زمینی صورتحال کی سنگینی سے انھیں آگاہ کیا۔ بہر کیف بھارت کو جنگی دیوانگی کا راستہ ترک کر کے کشمیر ایشو پر بات چیت کرنی چاہیے ۔ اسی میں خطے کا مفاد ہے ۔ کسی بھارتی جنرل کی طرف سے طاقت اور رعونت کے متکبرانہ اظہار اور کشمیری ماؤں سے اپنے نوجوانوں کو ہتھیارڈلوانے کی دھمکیوں سے کچھ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے پلوامہ حملہ کی تحقیقات ، ٹھوس شواہد دینے اور دہشتگردی پر بات چیت کی جو پیشکش کی ہے اس کا بھارت کو سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔

 

مقبول خبریں