1964 سے 2013 تک

30جولائی 2013کو اسلام آباد میں صدرِ پاکستان کا انتخاب ہورہا ہے۔ اب سے 120 برس پہلے شہرکراچی میں ایک لڑکی فاطمہ پیدا...


Zahida Hina July 30, 2013
[email protected]

30جولائی 2013کو اسلام آباد میں صدرِ پاکستان کا انتخاب ہورہا ہے۔ اب سے 120 برس پہلے شہر کراچی میں ایک لڑکی فاطمہ پیدا ہوئی جو فاطمہ جناح کے نام سے مشہور ہوئی۔ ایک ایسے شخص کی بہن جس نے برصغیر کی تاریخ بدل دی۔ کراچی میں پیدا ہونے والی فاطمہ بائی نے کلکتہ یونیورسٹی سے ڈینٹل سرجری کی ڈگری لی اور پھر تحریک پاکستان میں اپنے بھائی کے شانہ بہ شانہ سرگرمی سے سیاسی کام میں حصہ لیتی رہیں۔ جمہوریت ان کے لیے ایک حسین خواب تھی لیکن جلد ہی وہ خواب جنرل ایوب کے قدموں تلے روندا گیا۔ وہ جمہوریت کی بے آبروئی دیکھتی رہیں اور پھر 1964کے صدارتی انتخابات تھے جب انھوں نے آمریت سے پنجہ آزمائی کا فیصلہ کیا۔

مس جناح کی شخصیت کا میرے دل پر اس قدرگہرا نقش ہے کہ باید شاید۔ مجھے 1964 کے وہ دن یاد ہیں جب انھوں نے جنرل ایوب خان کی ڈکٹیٹرشپ کو چیلنج کرنے اور پاکستان کو جمہوری راستے پر ڈالنے کا تہیہ کیا تھا۔ وہ دن جب آمریت سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کے لیے لالٹین جو ان کا انتخابی نشان تھی شمعِ جمہوریت کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ شہروں اور محلّوں میں بڑی سے بڑی لالٹین بنانے اور اسے چوک میں نصب کرنے کے مقابلے ہورہے تھے۔

ان دنوں میں نے تازہ تازہ میٹرک کیا تھا اور ایک اسکول میں صبح سے شام تک کام کرتی تھی۔ گھر پہنچتی تو سب سے پہلے لالٹین کی صاف کی ہوئی چمنی کو ایک بار پھر رگڑ رگڑ کر صاف کرتی، لالٹین کو ہلا کر اس میں موجود تیل کا اندازہ لگاتی اور شام پڑتے ہی بالکنی اور اس سے متصل کمرے کا بلب بند کرکے لالٹین جلاتی اور اُسے بالکنی میں ایسی جگہ لٹکادیتی جہاں سے ہر شخص اُسے دیکھ سکے ، یہ جان سکے کہ میرا گھر حزب اختلاف کا گھر ہے۔ ہماری گلی گڈوانی اسٹریٹ میں جنرل ایوب خان کے صاحبزادے کے دو دوست رہتے تھے۔ گلی کے ہی نہیں محلے کے دادا۔ وہ اپنی کھلی جیپ میں سوار ہوکر محلّے کے گشت پر نکلتے اورگلی کے چند فلیٹوں میں لٹکتی ہوئی لالٹینوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔

مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب انتخابی نتائج آئے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح ہرادی گئی تھیں، جمہوریت شکست کھا گئی تھی اور آمریت کا بول بالا ہوا تھا۔ اس رات ہماری گلی کے نکڑ پر گتّے کی بنی ہوئی اور رنگارنگ پنیوں سے سجی ہوئی قدِ آدم لالٹین محلے کے دادائوں اور ان کے گرگوں نے گرادی تھی اور بہت سے لوگ بلک بلک کر روئے تھے۔ اس رات بھی ہماری گلی کے چند لوگوں نے اپنے اپنے گھروں میں لالٹین روشن کرنے کی جرأت کی تھی۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اُن میں سے ایک گھر میرا بھی تھا۔ وہ پاکستان کے بے شمار لوگوں کے لیے سوگ کی رات تھی۔

مس جناح مشرقی پاکستان پہنچیں تو انھوں نے صرف ڈھاکہ میں ہی عوام کے ہجوم سے خطاب نہیں کیا۔بلکہ وہ چٹاگانگ ، کھلنا، راج شاہی ہر جگہ پہنچیں اور ہر جگہ ان کا بے مثال استقبال ہوا۔جنرل ایوب خان کے قلعے یعنی راولپنڈی میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کوئی لگی لپٹی نہ رکھی اور کہا کہ مجھے توقع ہے کہ آپ کسی کو یہ موقع نہ دیں گے کہ وہ آپ کے بنیادی حقوق غصب کرسکے۔آزادی کا اصل مقصد اسی وقت پورا ہوگا جب آزاد جمہوری ادارے قائم کیے جائیں گے اور وہ بغیر کسی مداخلت کے اپنا کام کرسکیں گے اور صدارتی یا پارلیمانی انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیاد پر اور بلاواسطہ ہوں گے۔

بنگال، پنجاب اور بلوچستان کی طرح سندھ میں بھی لوگوں نے پروانہ وار ان کا استقبال کیا۔ مس جناح نے جیکب آباد میں لوگوں کو یاد دلایا کہ ایوب حکومت میں ان پر کیا کچھ گزری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگ چھ سال سے تشدد برداشت کررہے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا، اب عوام میں بیداری پیدا ہوچکی ہے۔ مسٹر ایوب خان سے میں پوچھتی ہوں کہ وہ فوجی آدمی ہو کر سیاست کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ اگر حکومت اور ملک کے استحکام کا سارا انحصار ایک ہی فرد پر ہے تو ایسے استحکام کا کیا فائدہ؟ اصلی استحکام تو عوام کی بدولت ہونا چاہیے اور عوام ان کے ساتھ نہیں ہیں۔

انھوں نے پشاور میں تقریر کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ آزادی کے سترہ برس بعد بھی عوام ان حقوق اور آزادی سے محروم ہیں جو ایک آزاد اور خود مختار ملک کے شہری ہونے کی وجہ سے ان کا حق ہیں۔ سچا جمہوری نظام جو ان کا خواب تھا، ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔۔۔۔۔ ہم نے مارشل لاء کی حکومت کے تحت ملک میں حیران کن اتار چڑھائو دیکھے ہیں۔ اس نظریے کی بہت وکالت کی گئی کہ سیاسی جماعتوں کا نظام ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے اور یہ کہ سیاستدان مجسم شر ہیں۔ اس کے بعد ایسا آئین لایاگیا جو سراسر غیر جمہوری ہے۔

محترمہ فاطمہ جناح وہ آخری ہستی تھیں جس نے پاکستان کے پانچوں صوبوں مشرقی بنگال، پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ کو یک جہتی کی ڈوری میں پُرودیا تھا۔ وہ سندھ کی بیٹی تھیں، کراچی ان کا شہر اور گھر تھا۔ کراچی ، حیدرآباد، جیکب آباد، سکھر سندھ کا کون سا ایسا شہر تھا جہاں ان کا فقیدالمثال استقبال نہیںہوا۔ حیدرآباد میں ان کی آمد کے بارے میں ایک سیاسی کارکن نے لکھا ہے کہ ایوب خان کا انتخابی نشان گلاب کا پھول تھا اور محترمہ فاطمہ جناح کا لالٹین، ان انتخابی نشانوں پر مبنی اسٹیکر اور بیجز شہر کے ہر گلی کوچے میں فروخت ہورہے تھے لیکن گلاب کے پھول والے بیجز اور نشانات صرف شہر کے ایک مخصوص علاقے تک محدود تھے جب کہ لالٹین پورے شہر میںچھائی ہوئی تھی۔ اعلان ہوا کہ محترمہ فاطمہ جناح کل صبح بذریعہ ٹرین حیدرآباد پہنچ رہی ہیں۔ اس جوش وخروش اور جذبوں سے بھرپور ماحول کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا جس نے اس اعلان کے ساتھ ہی پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

میر رسول بخش تالپور جو اس زمانے میں حیدرآباد کی نہایت مقبول شخصیت تھے اور حکومت کے بڑے مخالفین میں شمار ہوتے تھے۔ وہ محترمہ کے اس دورے کے اہم اور سرگرم منتظم تھے چنانچہ اس دن حیدر آباد شہر کی سڑکیں نہ صرف آئینے کی طرح چمک رہی تھیں بلکہ ریلوے اسٹیشن سے ہیرا آباد تک جو محترمہ فاطمہ جناح کے جلوس کا روٹ مقرر ہوا تھا، پورے راستے کو لالٹینوں سے مزین موٹر گاڑیوں ، رکشوں، ٹانگوں اور اونٹ گاڑیوں سے بھردیا گیا تھا۔ تصور کیجیے پانچ چھ میل طویل راستے پر دونوں جانب لوگوں سے لبالب بھری ہوئی گاڑیاں کھڑی ہیں۔ سڑک کے دونوں طرف عوام کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے ہیں۔

جمہوریت کا یہ یاد گار جلوس گیارہ ساڑھے گیارہ بجے دن ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوکر نہایت شان و شوکت کے ساتھ تقریباً چھ سات میل کا فاصلہ طے کرکے شام کے وقت میر رسول بخش تالپور کی رہائش گاہ واقع ٹنڈو میر محمود نزد پرانا بجلی گھر پہنچا راستے میں عوام کے جوش و خروش کا عالم دیدنی تھا ۔

میر رسول بخش کی کوٹھی کی نہایت کشادہ چھت پر ایک عظیم الجثہ اور دیوہیکل لالٹین نصب کی گئی تھی جس کی اونچائی تقریباً پچاس 50فٹ اور کوٹھی کی چھت پر نصب کیے جانے کی وجہ سے سطح زمین سے اس کی بلندی کم و بیش ستر اسی فٹ ہوگئی تھی۔ مادر ملت کا جلوس جب میر صاحب کی کوٹھی پر پہنچا ہے تو شام ہو چلی تھی دونوں وقت مل رہے تھے۔ عمائدین میں سے کسی نے محترمہ کی توجہ اس عجوبہ روزگار لالٹین کی جانب مبذول کرائی۔محترمہ نے خاصے اشتیاق اور تعریف بھری نظروں کے ساتھ اپنے انتخابی نشان کو دیکھا۔ ٹرک سے اتر کر جب کوٹھی کی طرف جانے لگیں تو رک کر اسے بغور دیکھنے لگیں۔عین اسی وقت کسی نے لالٹین کا سوئچ آن کردیا، چکا چوند کردینے والی روشنی اچانک ہی چاروں طرف پھیل گئی اور اسی نے مادرملت کے پروقار دودھیا رنگ چہرے کو سونے کی رنگت میں ڈھال دیا سنہری، قرمزی بنفشی بالکل کسی شمع کے شعلے کی طرح۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت سفید لباس میں ملبوس اس شعلے کے ساتھ وہ خود بھی ایک شعلے کی طرح نظر آرہی تھیں۔ افسوس کہ اس شعلے کو بجھا دیا گیا۔

آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی خود مختاری پر ان کا ایمان تھا۔وہ عدلیہ اور پریس کی آزادی کو اولین درجہ دیتی تھیں۔ انھوں نے جنرل ایوب خان کی شکل میں ایک آمر کو دیکھا تھا جس نے عوام اور عوامی نمایندوں کے تمام حقوق غصب کرکے ملک کو ایک ایسی ڈھلان پر ڈال دیا جس سے ہم آج تک پوری طرح سے راہ راست پر نہ آسکے۔ وہ جنرل ایوب خان کی آمریت کے خلاف آندھی طوفان کی طرح اٹھی تھیں، لوگوں نے انھیں '' شمع جمہوریت'' کا نام دیا تھا، عوام ان کے گرد پروانہ وار اکھٹا ہوگئے تھے لیکن افسوس کہ انھیں دھاندلی اور کھلی بے ایمانی سے ہرادیا گیا۔ ان کی ہار، اُن کی نہیں پاکستان میںجمہوریت اور جمہوری اقدار کی شکست تھی۔

جمہوریت کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے لیے وہ لڑائی جو 1964میں شروع ہوئی تھی، اب 2013تک آپہنچی ہے اور ہم خوش نصیب ہیں کہ جمہوری ارتقاء کے فیصلہ کن مرحلوں کو دیکھ رہے ہیں۔ موجودہ صدارتی انتخابات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

مقبول خبریں