اقوام متحدہ اور امریکا کی پاکستان اور بھارت کو مل بیٹھنے کی تلقین

سیکریٹری جنرل نے دونوں ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔


Editorial February 22, 2019
سیکریٹری جنرل نے دونوں ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ فوٹو : فائل

بھارتی مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجی قافلے پر خود کش حملے میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکت نے بھارت کو حواس باختہ کر دیا ہے اور اس نے اپنی عادت کے مطابق کسی قسم کی تحقیقات کے بغیر ہی پاکستان کو حملے کا ذمے دار ٹھہرا دیا ہے اور یکطرفہ کارروائی کی دھمکی دے دی ہے جس کا پاکستان نے سختی سے جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر بھارت نے اس قسم کی کوئی حرکت کی تو اسے منہ توڑ جواب ملے گا۔

دونوں طرف سے الزامات اور جوابی الزامات پر دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پلوامہ کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کو تلقین کی ہے کہ مل بیٹھ کر مسائل کو حل کیا جائے ورنہ حالات زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف بھارت کی ملٹری انٹیلی جنس نے حکومت کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فوجیوں کے حوصلے پست ہیں وہ جنگ لڑنے کے قابل نہیں۔ اس کے ساتھ ہی کنٹرول لائن پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس سے ہمارے پر امن شہری ہلاک و زخمی ہو رہے ہیں۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پلوامہ واقعہ کی بہت سے رپورٹیں ملی ہیں البتہ مناسب وقت پر اس پر بات کریں گے، صورتحال خوفناک ہے۔ بہتر ہو گا کہ پاکستان اور بھارت مل بیٹھ کر مسئلے کو حل کریں۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے پلوامہ واقعہ کے بارے میں کہا کہ ہمیں اس بارے میں بہت سی رپورٹس ملی ہیں۔ صورتحال خوفناک ہے تاہم بہتر ہو گا اگر دونوں ملک مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے بھی اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی سے ملاقات میں دونوں جوہری طاقتوں کو حتی الامکان تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے، ملیحہ لودھی نے بتایا کہ ملاقات میں وہی پیغام دیا جو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں دیا۔

ملیحہ لودھی کے مطابق انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھارتی دھمکیوں، خطے کی صورتحال اور پاکستانی مؤقف سے آگاہ کیا۔ پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کا پرامن حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔ سیکریٹری جنرل نے دونوں ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انھوں نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے تعاون کی بھی پیش کش کی ہے۔

بلاشبہ اس وقت سرحدوں پر صورت حال کشیدہ ہے' اقوام متحدہ اور امریکا کو چاہیے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ بھارتی قیادت کسی قسم کے ایسے ایڈونچر سے باز رہے جس سے خطے میں جنگ کے بادل چھا جائیں۔

 

مقبول خبریں