پاکستان میں صدارتی نظام بہتر یا پارلیمانی

صدارتی نظام میں ہمیں آمرانہ روش نظر آئے گی جس میں صدر پارلیمان کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا


عثمان صابر February 26, 2019
آمرانہ ادوارِ حکومت میں پاکستان میں صدارتی نظام ہی نافذ رہا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

پاکستان میں آج کل صدارتی نظام کی گونج اپنے عروج پر ہے۔ اب یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ایک پلاننگ کے تحت یہ شور کروایا جارہا ہے یا سچ میں کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ اب پاکستان میں صدارتی نظام نافذ کر دینا چاہیے۔ آج ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ کونسا نظام پاکستان کےلیے بہتر رہے گا؟

پاکستان کی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہمیں پتا چلے گا کہ آمرانہ ادوارِ حکومت میں پاکستان میں صدارتی نظام ہی نافذ رہا ہے؛ اور یہی ادوار پاکستان میں سیاسی استحکام و ترقی کے ادوار بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ ان میں ایوب خان کے دور کو مثالی دور کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد یحیی کا دور حکومت اور پھر ضیاء کا دور۔ اگر مشرف صاحب کے دور کو دیکھا جائے تو وہ بھی بلاشبہ پاکستان کی معاشی ترقی کا دور تصور کیا جاتا ہے۔

اب اگر طرز حکمرانی کی بات کرلی جائے تو صدارتی نظام میں ہمیں آمرانہ روش نظر آئے گی جس میں صدر پارلیمان کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا اور کسی کے دباؤ میں آئے بغیر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؛ جو صدر کی ذہنی ترقی کا پول بھی کھول کر سامنے رکھ دیتا ہے کہ صدر ملک کے حق میں کتنا بہتر ہے؟

کیونکہ صدارتی نظام میں صدر جواب دہ نہیں ہوتا، تو وہ بادشاہ کی طرح حکومت کرتے ہوئے بہت سے فیصلے ایسے بھی کردیتا ہے جو کسی صورت پاکستان کےلیے فائدہ مند نہیں ہوتے۔ ورنہ پاکستان دولخت کبھی نہ ہوتا۔

اب اگر پارلیمانی نظام کی بات کی جائے تو یہ اصل میں عوامی نمائندوں کے گروہ کا نام ہے جو پارلیمان کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں اور اپنے اچھے یا برے فیصلوں میں دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔ اس نظام کی بنیادی خامی یہی ہے کہ وزیراعظم اپنی حکومت کو بچانے کےلیے مصلحت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس طرح بہت سی معاشرتی برائیوں کو جڑ سے ختم نہیں کرپاتا۔ اس کے برعکس اس نظام میں حکمران پارٹی کو ووٹ حاصل کرنے کےلیے عوام کے سامنے پیش ہونا ہوتا ہے تو بنیادی سطح پر بہت سے کام ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مثلاً نواز شریف کا دور حکومت جس میں ہم بہت سے مسائل سے نکل کر آج اس مقام پر کھڑے ہیں۔

کونسا نظام بہتر؟

اگر صدارتی اور پارلیمانی نظام کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان کا آپس میں موازنہ نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج تک پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایک بھی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔ اگر صدارتی نظام کی بات کی جائے تو صدر طاقت کا سر چشمہ نظر آئے گا، اس لیے وزیراعظم کی حیثیت کم ہوجاتی ہے۔ لیکن پارلیمانی نظام بھی جب جب پاکستان میں آیا ہے، وزیراعظم طاقت کا سر چشمہ ہونے کے باوجود اپنی مدت پوری نہیں کر پائے۔

پارلیمانی نظام کو اگر پاکستان میں 20 سال بغیر سازشوں کے چلنے دیا جائے، تو پھر یہ نظام ہمیں صدارتی نظام سے بھی بہتر نظر آئے گا، کیونکہ اس سے استحکام آنے کے ساتھ عوامی شعور بھی بتدریج بڑھتا ہے۔

میری رائے میں پارلیمانی نظام پاکستان کےلیے بہتر ہے۔ اگر وزرائے اعظم کو مدت پوری کرنے دی جائے، تو یہ نظام پاکستان کو بہترین اور پڑھے لکھے لوگ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو عوامی دباؤکو برداشت کرتے ہوئے صرف ملک کے حق میں فیصلے کر سکیں۔ اس کے برعکس صدارتی نظام میں صدر آمر کے طور پر عمل کرتا ہے، اور اپنے دور حکومت کو بڑھانے کےلیے ملک کےلیے نقصان دہ فیصلوں کا باعث بنتا ہے۔ مثلاً مشرف کا امریکا کا ساتھ دینا، جس سے پاکستان کے 75 ہزار لوگ مارے گئے اور وزیرستان پر 400 سے زیادہ ڈرون حملے ہوئے، پاکستان بری طرح دہشت گردی کا شکار ہوا جس کے اثرات سے آج تک ہم نکل نہیں پائے۔

اگر مشرف ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آئے ہوتے تو وہ امریکا کا ساتھ دینے سے پہلے اپنے انجام کا سوچ لیتے کہ عوام سے ووٹ لینے کےلیے ان کے پاس جانا ہے، تو عوام میرا کیا حشر کریں گے؟ لیکن کیونکہ وہ آمر تھے، اور اس بات سے انہیں غرض نہیں تھی کہ پاکستانی عوام کیا چاہتے ہیں، اس لیے ہم آج بھی امریکا کی جنگ کو اپنا بنا کر لڑ رہے ہیں اور جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔